پریم اور خدا


نیلے آکاش کو کاسنی رنگے بادلوں نے ڈھانپ رکھا تھا، اور دور اُفق پر جہاں دونوں جہان ملتے ہیں، وہاں ہلکی ہلکی سفیدی تیرتی تھی۔ یہ ہرے پتوں کا موسم تھا۔ ساون تھا؛ ساون میں جھولے تھے اور ایک دن تھا۔ روشنی تھی، موتیے کی باڑھ سے پھوٹتی خوش بو تھی۔ یہ ایک دن تھا۔ دِنوں میں سے چنیدہ خاص الخاص دن؛ جب کسی منتخب پر محبت کی برسات کا پہلا چھینٹا پڑتا ہے۔ اگر وہ اپنی اصل میں سچا اور کھرا ہو، تو پہلا چھینٹا اس انسان کے دِل سے اندیشہ رُسوائی، فکر توقیر دھو ڈالتا ہے۔ اگر یہ محبت، عشق کا رُوپ اوڑھ لے، تو اندر باہر چپ گپ کی چھایا چھا جاتی ہے۔ اسی چپ گپ میں حقائق، ابہام، انکشافات، وجدان عطا ہوتے ہیں۔ یہاں کالا سفید اور سفیدی ظلمت بن جاتی ہے۔ خوبی، خرابا اور خرابے ٱباد ہوتے ہیں۔ رام شیام، فقیر و شاہ، رانجھا و راجا ایک ہو جاتے ہیں۔

رات ہنیری، بدل کنیاں وکیلاں مشکل بنیاں
نین نیناں نال گڈوے اڑیا
کیکن ٱکھاں چھڈ وے اڑیا
سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی

یہ پہلا چھینٹا جب کِن مِن گرتی پھوار میں بدل جائے، تو اکناف و اطراف کن فیکون سے گونج اٹھتے ہیں۔ سود و زیاں، علت و قلت، حال و قال، جنوں و خرد کے سودے ختم ہو جاتے ہیں۔ من و تو کا جھگڑا مٹنے لگتا ہے۔ اس پر بھی گزرا جو ازل سے آدم و حوا، پر گزرتا آیا تھا۔ پھر دُنیا جہان کے فلسفے، منطِق علوم کے بحائر، گیان کے ذخائر ختم ہوتے گئے، لیکن پریم کی گتھی اُلجھتی گئی۔ حسین بن منصور حلاج سے شروع ہوتا سفر، ہیر رانجھا، اساطیری داستانوں کے ہر مرکزی کردار کو کھوجتا ہوا ایک دائرے میں سفر کرتا رہا۔ تبت کے بھکشوؤں کے کشکول اٹھائے، گزر سوآہ کے آتش کدے میں فروزاں شعلے نے لپک لپک کر کلیجا بھونا؛ سوختہ جاں لے کر اس نے کیلاش پربت پر بیٹھے سادھوؤں کے پاس پناہ چاہی۔ انھوں نے جو ستیہ کی تلاش کے آخری سفر پر تھے، اس کے ماتھے کی لکیریں پڑھ کر اسے راجستھان بھیج دیا۔ جا تیرے مرض کا علاج اجمیر والے کے پاس رکھا ہے۔

وہاں اس نے جانا کہ مجاز اور حقیقت دو الگ الگ منازل ہیں۔ وہ ہر اصل کی اصل ہے لیکن ہر اصل سے ماورا ہے۔ سب کچھ وہی ہے لیکن ہو کر بھی جدا ہے۔ انسان الگ اور بھگوان الگ ہے۔ روشنی اور مادہ کا تقابل نہیں ہو سکتا، کیوں کہ دونوں کچھ نا کچھ حجم کمیت، کچھ وزن کچھ مادہ ضرور رکھتے ہیں۔ تو پھر وہ کہاں ہے اور وہ کون ہے؟ وہ بھگوان ہے اور دِل میں دھڑکتا ہے؛ سانسوں میں رہتا ہے اور آتش کدے کا سوشیات یا کپل وستو کا کمار، یا گیان کا بھنڈار اوتار ہے، یا وہ کہ عظیم انسانوں کے اندر رہتا ہے؛ باہر رہتا ہے؛ وہ جو دکھائی دینا نہیں چاہتا۔

کون ہے جو اتنے انسانوں کو دُکھی کرتا ہے یا انھیں خوش کرتا ہے۔ دُکھ سکھ کا لیکھدار، اس کے ہوتے لاکھوں لوگ بھوکے سوتے ہیں، جنگوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کچھ بادشاہت کی گدی ہی پر بیٹھے رہتے ہیں؛ کچھ دور عمیق جنگلات اور نا رسا جگہوں پر بھوک پیاس سے مارے جاتے ہیں۔ وہ جو عشق کو مجاز سے حقیقت اور حقیقت سے مجاز تک لاتا ہے؛ وہ ادھر یہاں کہاں ہے؟ یہاں اس دھرتی پر صدیوں پہلے جو اوتار آتے تھے جو محبت کے دیوتا کہلاتے تھے، کیا وہ ان کے بطون سے دنیا دیکھتا اور مسکراتا ہوا واپس لوٹ جاتا تھا۔ وہ کیوں حسین کو حلاج بناتا ہے؛ وہ کیوں زلیخا کو رُسوا کرواتا ہے؛ وہ کیوں تماشا دکھاتا ہے؛ لیلا رچاتا ہے؛ اور اس گہما گہمی اور ہما ہمی کا انت کہاں ہے۔ سوچتے سوچتے اس کی آنکھ پر بے خودی کا پردہ گر گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک وادی تھی، جہاں نیلی نیلی رات اتر رہی تھی۔ چھوٹے بڑے بہت سے جھرنے پہاڑیوں کی گود میں گرتے تھے۔ آسمان سے پھوار برس رہی تھی، لیکن اس میں جل نہیں تھا۔ بہت سے جگمگاتے کانچ جیسے شفاف گول موتی تھے۔ پھوار جب برستی تو اس کے اندر سے مانو نیلی شعاعیں نکلتی تھیں۔

رات اس نے قدرت کے عجیب عجیب رُوپ دیکھے۔ اس نے ہر قطرے کو من موہن میں بدلتے دیکھا۔ جس کے ماتھے پر مور پر کا مکٹ سجا تھا۔ بہت سے گردھاری بنسیاں پکڑے راس کر رہے تھے۔ اس نے سروں کو پھیلتے اور کائنات پر محیط ہوتے دیکھا۔ نیلی رات! چھوٹی سی وادی جہاں ایسے ایسے پھول کھلے تھے۔ جو اس جہان کے نہیں تھے۔ پھر اسے کسی نے کاندھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔ اس نے دھرتی بہت دور ہوتے دیکھی۔ وہ وادی بہت نیچے ہوتی گئی۔ اس کے کانوں کے قریب جگ مگ کرتے دانتوں والی مسکان میں، کسی نے سرگوشی کی۔

نیچے دیکھو! پریم کے ایک چھوٹے سے حصے کی تجسیم یہ وادی ہے۔ یہ وادی بحر بے کنار کا ایک۔ ذرہ ہے۔
تم کون ہو؟ مجھے دکھائی دو، ہاں مجھے نظر آو، میرا سامنا کرو، مجھ سے روبرو ہو۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ پریم کا وہ کون سا رُوپ ہے، جس نے دنیا میں اتنی ان ہونیاں پھیلا رکھی ہیں، جنھیں میں سمیٹ نہیں سکتی۔

پھر کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے وادی کی اور کھینچا۔ سامنے وہاں لمبے گیسوؤں، خوب صورت اور بے حد حسین ٱنکھوں والا، جس کے سر پر اشوک چکر سجا تھا؛ اس سے روشنی پھوٹ رہی تھی؛ جس کے ہاتھ میں بانسری تھی، ایک پرش کھڑا تھا۔ ساری کائنات سمٹ کر اس ایک جھروکے میں اکٹھی ہو گئی تھی۔ ایسی کیفیت جو حال تھی، نہ قال تھی؛ نہ مستی تھی، نہ نیستی تھی، نہ ہستی تھی، نہ ہونا تھا اور نا ہی عین ہونا تھا۔

‘‘تمھیں دیکھنے کی خواہش نے مجھ سے اتنا لمبا اور کٹھن سفر طے کروایا ہے۔ کیا تم بھگوان ہو‘‘؟
”نہیں دیوی! میں تو بھگوان کی طرف سے بھیجا گیا اوتار ہوں‘‘۔
’‘لیکن دنیا تمھیں بھگوان ہی مانتی ہے‘‘۔

“اے ون دیوی! کیا کہنے سے نہ ہونا، ہونا ہو جاتا ہے‘‘؟
“ہے کیشو، ہے مدھو سودن، ہے بانکے بہاری۔ ہند کی دھرتی تمھیں اوتار کہہ کر پوجتی ہے اور تم مجھ سے کہہ رہے ہو، کہ تمھیں خدا نے محبت کے لیے بنایا ہے‘‘۔
”کیشو! مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی۔ تم سب کے ہو بھی اور کسی کے بھی نہیں ہو۔ کہیں تم صرف رادھا کے ہو، کہیں صرف سیتا کے، کہیں مِیرا تم میں سما جاتی ہے۔ یہ کیا کتھا ہے شیام پیارے‘‘؟

مرلی دھر نے مسکرا کر اسے دیکھا اور بولے!
”زرا وہاں دیکھو، اس اوطاق سے باہر دیکھو‘‘۔
اس نے دیکھا وہاں روحوں کا بے انت ہجوم تھا۔ شاید ازل سے ابد تک جمنی سب ارواح وہاں جمع تھیں۔

“ یہ سب پریم ساگر کی لہریں ہیں دیوی۔ “ وہ بولے
“پوجا، بھگتی اور پریم کی راہیں، کیا یہ سب مجاز سے حقیقت کی طرف نہیں جاتیں‘‘؟ اُس نے پوچھا۔

سانجھ ہو رہی تھی، شیام سندرے کی مرلی سے سر پھوٹنے لگے۔ گنگا کی لہریں وفور شوق سے قلانچیں بھرتی گنگا کنارے سے سر پھوڑنے لگیں۔ ہر پریمی، اپنے محبوب کے چرنوں میں جگہ ڈھونڈتا ہے۔ شاید اسی لیے۔ پھر اس نے دیکھا بہت سے دیپ لہروں کے سنگ بہہ کر کہیں دُور جانے لگے۔
ابھی اس کا جی نہیں بھرا تھا، لیکن وہ کیشو کی سریلی تانیں توڑنا نہیں چاہتی تھی۔

سانجھ ہوئی پھر رات ہوئی اور ہر رُوح کا دیپک جل اٹھا۔ اس نے دیکھا روحوں کے اس لا محدود سمندر میں ہر روح سے دکھوں کی غلاظت اور کثافت دھوئیں کی شکل میں نکل کر آسمان کی طرف جا رہی ہے۔ بہت دیر یہ کالی دھند پھیلی رہی۔ پھر آسمان پر چندرما ظاہر ہوا۔ کیشو کی بانسری ادھروں کی طرف بڑھتی گئی؛ اس نے روحوں کا بے تاب ہو کر رقص کرتے دیکھا۔ وہ سب حالت خواب میں محو رقص تھیں۔ البیلا رقص جس میں نے خودی ہی بے خودی تھی۔ اس نے دیکھا بہاری لال اسے مسکرا کر دیکھتے تھے اور اس کے ارد گرد قہقہوں کی پھل جھڑیاں چھوٹ رہی تھیں۔ نیلی روشنی والی پھوار اس نے اپنی روح پر گرتی محسوس کی۔

اس نے خدا کو اپنے اندر محسوس کیا۔ کیا خدا میرے اندر ہے۔ اس نے پریم کی پھوار سے بھیگ کر سکون محسوس کیا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے اس پاس سرگوشی پھیلی تھی۔ خدا محبت ہے اور محبت خدا ہے۔ اس نے سوچا یہ جو کان کے پاس سرگوشی کرتا ہے کون ہے یہ؟ ون دیوی نے آنکھیں کھولیں اور مڑ کر دیکھا وہاں کوئی نہ تھا۔ جو تھا، اس کے اندر تھا۔ پریم اور خدا اس کے اندر تھے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سائرہ ممتاز کی دیگر تحریریں
سائرہ ممتاز کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں