غیرت،قتل اور ہم


انسانی تاریخ اجتماعی و انفرادی قتل کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ کسی انسان کو قتل کرنے کے محرکات میں حاکمِ وقت کی ناپسندیدگی، جائیداد کا تنازع، عورت، نظریات میں اختلاف، مذہبی مسائل یا معاشرتی عدم برداشت جیسی وجوہات شامل ہوتی ہیں۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ہمارے معاشرے میں قتل کے ایک نئے رجحان نے فروغ پایا ہے۔ یہ ہے ”غیرت کے نام پہ قتل“۔

پہلے ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ غیرت ہے کیا؟ “غیرت“ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ فرہنگ آصفیہ کے مطابق غیرت کا مطلب ہے۔ “رشک، حسد، رقابت، جلن، شرم، حیا یا پھر اجنبیت“۔ لیکن ہمارے معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کی اصطلاح ہر اس قتل سے مخصوص کی جاتی ہے جس سے عورت کا بالواسطہ یا بلا واسطہ تعلق ہو۔ آج کل اس اصطلاح کا تصورخالصتا عورت سے وابستہ ہے۔ ہر وہ عورت جو اپنے حق کے لیے اپنی آزادی کے لیے کوشش کرتی ہے اس کا تعلق غیرت کے نام پر قتل کہلاتا ہے۔

اردو ادب میں لفظ ”غیرت“ انتہائی مثبت معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جہاں اس سے مراد ”رشک“ لی گئی ہے۔ میرو غالب کی شاعری میں ہم ”غیرتِ فردوس، غیرتِ حور، غیرت ماہ، غیرتِ خورشید“ جیسی تراکیب سے آشنا ہوتے ہیں۔

تاریخ انسانی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو غیرت کے نام پر پہلا قتل ہمیں آدم و حوا کے بیٹے ہابیل کا ملتا ہے۔ جو اپنے بھائی قابیل کی جلن اور حسد کا پہلا شکار ہوا۔ اور اس کے بعد پھر یہ سلسلہ چل سو چل۔ قصہ یوں ہے کہ آدم وحوا کے ہاں دو بچوں، لڑکا اور لڑکی کی پیدائش صبح اور دو بچوں، لڑکا اور لڑکی کی پیدائش شام کو ہوتی تھی۔ صبح کو پیدا ہونے والی لڑکی کی شادی شام کو پیدا ہونے والے لڑکے سے کی جاتی اور شام کو پیدا ہونے والی لڑکی کی شادی صبح میں پیدا ہونے والے لڑکے سے کی جاتی تھی۔ ہابیل صبح کو پیدا ہوا اور قابیل شام کو یوں ہابیل کو جو لڑکی ملتی وہ قابیل کو ملنے والی لڑکی سے زیادہ حسین ہوتی تھی۔ قابیل نے ”جلن اور حسد“ کے جذبات سے مغلوب ہو کر ہابیل کا قتل کر دیا۔ یوں یہ تاریخ کا پہلا قتل تھا جو عورت اور غیرت کے نام پر ہوا۔

ہمارے معاشرے میں یہ رجحان اس وقت بھر پور عروج پر ہے۔ لیکن دیکھنا یہ اس قتل کے پیچھے کونسے عوامل کارفرما ہیں۔ ایک وجہ تو یہ کہی جا سکتی ہےکہ ہمارا معاشرہ چونکہ ایک مردانہ معاشرہ ہے جہاں مرد ہر طرح کی حدود و قیود سے آزاد ہے۔ اور عورت پر جینے کے لیے زمین تنگ کر دی جاتی ہے۔ جب کوئی عورت اپنی روزمرہ زندگی اور روایت کے پنجرے سے آزادی کی کوشش کر تی ہے تو جلاد صفت صیاد کی انا پر یہ بات تازیانے کی طرح لگتی ہے۔ اور وہ انسانیت کے تمام جذبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پنجرے سمیت اس کو جلن اور حسد کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ اس کی دوسری وجہ عورت کی تعلیم، لباس اور اٹھنے بیٹھنے کے طریقے کو ”بے حیائی“ کے زمرے میں لا کر خاندانی روایات کے نام پر اس کا قتل ہے۔

وجہ چاہے جو بھی ہے۔ ہمیں اس وقت خاندانی وقار، عزت اور غیرت کے پیمانوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلا قدم تو ماں کی آغوش سے ہی لینا چاہیے۔ جہاں ایک ماں لڑکی اور لڑکے کی تربیت میں شروع دن سے ہی امتیاز رکھتے ہوئے ایک بچے کے ذہن میں یہ بیج بوتی ہے کہ وہ لڑکا ہے اور اسے اپنی بہن سے ہر معاملے میں برتری حاصل ہے۔ جس کا نتیجہ معاشرے میں مردانہ اجارہ داری کی صورت میں نکلتا ہے۔ اور عورت چاہ کر بھی معاشرے میں اپنا مقام حاصل نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر مائیں بچوں میں یہ رجحان پیدا کرنے میں ناکام رہیں تو یہ ماننے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

فروا شیخ کی دیگر تحریریں
فروا شیخ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں