پرانے پاکستان کی’اگر‘ بتی اور نئے پاکستان کا ’مگر‘مچھ


حکومت میں آنے سے پہلےپی ٹی آئی کی پالیسی بڑی واضح اور دو ٹوک تھی، کیوں کہ یہ صرف دعووں پر مبنی تھی اور دعویٰ کرنے کے لیے پاکستان میں خوش قسمتی سے کسی تحقیق، منطِق یا عمل در آمد کی حکمت عملی کا خاکہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی؛ اس کا عملی مظاہرہ عمران خان خیبر پختون خوا میں کر بھی چکے تھے۔ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی حکومت پانچ سالہ دور میں ایک بھی بڑا منصوبہ مکمل نہ کر سکی؛ بلین ٹری سونامی کے تحت صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کے جس منصوبے کا اعلان کیا گیا، وہ متنازع رہا، اور انھی کی سرکار کی دستاویز کے مطابق 23 کروڑ پودے لگا ئے جا سکے۔

مواصلات کے شعبے میں پی ٹی آئی کے میگا پراجیکٹس شمار کیے جانے والے سوات ایکسپریس وے اور پشاور میں ریپیڈ بس منصوبے کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے عمران خان نے خیبر پختون خوا میں 350 چھوٹے ہائیڈل پراجیکٹس لگانے کا اعلان کیا تھا، مگر یہ اعلان بھی عملی روپ نہ دھار سکا۔ خیبر پختون خوا میں یک ساں نظام تعلیم رائج کرنے کا وعدہ بھی پانچ سالوں میں پورا نہ ہو سکا۔ صحت کے شعبے میں بڑے سرکاری اسپتالوں کو خود مختاری دے کر اصلاحات نافذ کی کوشش ضرور کی گئی ہے، لیکن یہ تجربہ تا حال کار آمد ثابت نہیں ہوا۔

یہی وہ حالات ہیں جن کی بدولت، عوامی مقبولیت، ترقیاتی منصوبوں یا اصلاحات کے بل پر الیکشن جیتنے کا تحریک انصاف کا دعویٰ، شرف قبولیت نہیں پا سکا؛ لیکن انھیں یہ اندازہ بخوبی ہو چکا تھا، کہ بلند بانگ دعوے کرتے رہو، شور مچاو، مزاحمت کرو، جو دلیل سے بات کرے، اسے گالیاں دو؛ عوامی خواہشات پر مبنی کسی فلم کے اسکرپٹ کو تقریر بنا لو، تو کہیں نہ کہیں فائدہ ضرور ہو گا۔ شنید یہ تھی کہ کسی نہ کسی طور اقتدار تک پہنچ گئے، تو کم از کم یہ تو کہا جا سکے گا، کہ ہمارے منشور کو پذیرائی ملی، اور ووٹ کی طاقت سے حکومت میں آئے۔

انتخابی مہم اور سیاست میں ”اگر” اور ”مگر” کے الفاظ کو جس خوب صورتی سے عمران خان نے استعمال کیا ہے، شاید ہی کوئی اور کر پائے۔ اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کی ہر تقریر کا متن کم و بیش ایک تھا اور ان کی تقاریر ‘‘اگر” کو محور بنا کر اسی کے گرد گھومتی تھیں۔ اگر حکومت ملی تو قائد اعظمؒ کا پاکستان بنے گا۔ اگر اقتدار میں آئے تو علامہ اقبالؒ کی سوچ اپنائی جائے گی۔ اگر ہمارا وزیر خزانہ ہوتا تو کبھی بھیک مانگنے آئی ایم ایف کے پاس نہ جاتا۔ ہمارے ماہرین تیاربیٹھے ہیں، اگر عوام نے ووٹ دیا تو عوامی فلاح کے ایسے منصوبے بنائیں گے جو ان کی زندگیاں بدل دیں۔ اگر موقع ملا توکشکول توڑ دیں گے۔ اگر حکومت ملی تو اداروں کو مضبوط بنائیں گے۔ اگر عوام نے اعتماد کیا تو تعلیم، صحت کے شعبوں میں انقلاب لائیں گے وغیرہ۔

وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعد، ان کی تقریر میں تھوڑا سا بدلاو آیا اور آج کل ان کی تقاریر اگر کے بجائے ”مگر” کے گردگھوم رہی ہیں۔

نیا پاکستان بنانا تھا ”مگر”مجبوراً انھی جماعتوں کے انھی الیکٹ ایبلز کو لینا پڑا، جنھیں ہم چور گردانتے تھے۔ علامہ اقبالؒ کی سوچ چاہتے ہیں مگر ویسے کسی دانش ور کو پنپنے اور اظہار خیال کرنے نہیں دیں گے۔ کشکول توڑنا چاہتے تھے، مگر اب اٹھانا ضروری ہے؛ ماہرین تیاربیٹھے تھے، مگر تمام شعبوں کی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے سو دن کی مہلت دی جائے اور تنقید نہ کی جائے۔ اداروں کو مضبوط بنا رہے ہیں مگر کسی نے سیاسی دباو سے متعلق میڈیا کو بتایا، تو اس سرکاری افسر کے خلاف کارروائی ہو گی۔ تعلیم، صحت کے شعبوں میں انقلاب لانا چاہتے ہیں، مگر بجٹ میں ان کے لیے رقم مختص نہیں کر سکتے۔ کفایت شعاری کی، پچپن روپے فی کلومیٹر پر ہیلی کاپٹر اڑایا، گاڑیاں اور بھینسیں بیچیں ”مگر” ڈالر کا ریٹ پھر بھی بڑھ گیا وغیرہ۔

حکومت میں آنے سے قبل ”اگر” اور حکومت ملنے کے بعد ”مگر” کی اس پالیسی کو ہرگز ”یوٹرن” نہ کہا جائے، کیوں کہ پی ٹی آئی حکومت اور قیادت یوٹرن کی پالیسی چھوڑ چکی ہے؛ اب وہ ”رائٹ ٹرن” لیتی ہے اور اس کے فوراً بعد ایک اور”رائٹ ٹرن” لے لیتی ہے؛ دو رائٹ ٹرنز کو یوٹرن تو نہیں کہا جا سکتا ناں؟

اکتوبر 2012 میں عمران خان نے جلسے سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت آتے ہی بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک پرڈالر کی بارش کر دیں گے، ”مگر” اکتوبر 2018 میں وہ دس بارہ ارب ڈالر کے لیے اپیلیں کر رہے ہیں؛ اکتوبر 2015 میں خان صاحب فرما رہے تھے، کہ وزیر اعظم بھکاریوں کی طرح آئی ایم ایف سے قرض مانگ رہا ہے، اور قرضوں کی قسطیں واپس کرنے کے لیے بھی قرضے لیے جارہے ہیں، ”مگر” اکتوبر 2018 میں کشکول اٹھائے خود اسی مشن پر روانہ ہیں۔

جنوری 2017 میں خان صاحب فرما رہے تھے، کہ امریکا اور آئی ایم ایف سے کبھی بھیک نہیں مانگیں گے؛ ”مگر” اکتوبر 2018 میں فرماتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اکتوبر2012میں ان کا موقف تھا کہ پاکستان کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے گا، عمران خان مر جائے گا، خود کشی کرلے گا، لیکن بھیک نہیں مانگے گا ”مگر’‘ اکتوبر 2018 میں وہ بہ رضا و رغبت اس جانب مائل ہیں اور صرف آئی ایم ایف ہی کیوں دوست ملکوں کے آگے بھی ہاتھ پھیلایا جا رہا ہے؛ اس کے باوجود کشکول تا حال خالی ہے۔

خان صاحب کو اقتدارکے ایوانوں تک پہنچانے والے، ان کی شخصیت کے سحر کو استعمال کر کے پچھلی حکومت کے کندھوں پر سجے ترقیاتی منصوبوں کے ستاروں کودھندلانا چاہتے تھے، ”مگر” یوں لگ رہا ہے، کہ خان صاحب انھی کے ستاروں کو گہنا چھوڑیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں