لاڑکانہ کی ڈاکٹر رتھ فاؤ، ڈاکٹر بلقیس ملک


20 فروری 1929 کو کراچی میں جنم لینے والی بلقیس ملک کے خاندان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ سیالکوٹ کے امیر خاندان سے تعلق رکھنے والی بلقیس ملک نے 1958 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس اور پھر ایف سی پی ایس کی ڈگریاں حاصل کیں، ایف آر سی پی ایس کرنے کے لیے لندن کے رائل میڈیکل کالج کا رُخ کیا۔ ماسٹر ڈگری کے بعد امریکا میں خواتین اور بچوں کی بیماریوں پر ایڈوانس کورسز کیے۔ 1972 میں پاکستان واپسی ہوئی، اور پشاور میں میڈیکل پراجیکٹ کا آغاز کیا، پشاور سے اسلام آباد جاتے ہوئے ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی سے ملاقات ہوئی، یہ ملاقات ڈاکٹر بلقیس کے پشاور سے لاڑکانہ کے سفر کا سبب بنی۔

ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی پیپلز پارٹی کے جانب سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر رُکن قومی اسمبلی منتخب ہوئی تھیں۔ قومی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کر چکی تھیں، ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی نے ڈاکٹر بلقیس ملک کی ملاقات وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کروائی، وزیر اعظم بھٹو نے ڈاکٹر بلقیس ملک سے کہا، چوں کہ میڈیکل کالجز صرف کراچی اور حیدر آباد میں ہیں، میری دلی خواہش ہے کہ اپر سندھ میں بھی میڈیکل کالج قائم کیا جائے، وہ میڈیکل کالج نہ صرف اپر سندھ بلکہ بلوچستان کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو گا؛ میری خواہش ہے کہ آپ لاڑکانہ میں بننے والے میڈیکل کالج میں شعبہ خواتین کے امراض کے شعبے میں بطور سربراہ کام کریں۔

بقول ڈاکٹر بلقیس ملک، وزیر اعظم بھٹو کی یہ پیش کش میرے لیے حیران کن تھی، کیوں کہ میں نے کبھی لاڑکانہ نہیں دیکھا تھا، اور میں غیر شادی شدہ بھی تھی۔ یہ بات میرے گھر والوں کے لیے بالکل بھی قابل قبول نہیں ہو سکتی تھی، اس کے باوجود میں نے ہامی بھرلی۔ حسب معمول جب میں نے اپنی لاڑکانہ جانے کی خبر اپنے گھر والوں کو دی، وہ ناراض ہوئے لیکن چوں کہ میں وعدہ کر چکی تھی، میں نے لاڑکانہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ جب لاڑکانہ پہنچی تو حیران رہ گئی کہ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عبدالوحید کٹپر میرے استقبال کے لیے موجود تھے۔ بعد ازاں مجھے باقاعدہ ان چارج گائنی وارڈ بنادیا گیا۔

جب اسپتال پہنچی تو وہاں حالت تشویش ناک تھی؛ صرف چار بیڈ ایک ٹیبل اور ایک کرسی موجود تھے۔ ڈاکٹر بلقیس ملک کے مطابق شروعاتی دن بہت کٹھن تھے، میں اسپتال کے ایک بیڈ پر سو جاتی تھی اور جب مریض زیادہ ہوتے تھے تو ٹیبل ہی میرا بستر ہوتا تھا۔ بھٹو صاحب سے کیے وعدے کے پیش نظر میں نے اپنا کام جاری رکھا، میں شکست ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ دل ہی دل میں تہیہ کر چکی تھی کہ لاڑکانہ میں خواتین کے امراض سے بچاو کے لیے پاکستان کا بہترین اسپتال بنانا ہے۔

وزیر اعظم بھٹو نے 21 اپریل 1973 کو چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کی بنیاد رکھی، جب کچھ دن بعد وزیر اعظم بھٹو کی ڈاکٹر بلقیس ملک سے ملاقات ہوئی، تو وزیر اعظم بھٹو نے ڈاکٹر بلقیس ملک کو بتایا کہ دبئی کے حاکم شیخ زید پاکستان میں دو اسپتال بنانا چاہتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ایک ہسپتال رحیم یار خان اور دوسری لاڑکانہ میں بنے؛ جس پر ڈاکٹر بلقیس ملک نے کہا، لاڑکانہ والا اسپتال صرف خواتین اور بچوں کے لیے ہو، جس کی بھٹو نے ہامی بھر لی؛ کچھ دنوں بعد جب وزیر اعظم بھٹو کے ہم راہ دبئی کے حکمران شیخ زید لاڑکانہ آئے، تب ڈاکٹر بلقیس ملک نے دبئی کے حاکم کو خواتین اور بچوں کے اسپتال کے بارے بریفنگ دی، اور پھر دبئی کے حکمرانوں کے تعاون سے موجودہ شیخ زید وومن اسپتال کی تعمیر کا آغاز ہوا اور قلیل مدت میں تعمیر مکمل ہوئی۔

جب وزیر اعظم بھٹو کی حکومت کو گرایا گیا اور بعد میں بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، ڈاکٹر بلقیس ملک مایوس ہو چکی تھیں، لاڑکانہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا، تب ایک رات خواب میں دیکھتی ہیں کہ معصوم بچے اور خواتین رو رہے ہیں، بین کررہے ہیں کہ ہمارا قصور کیا ہے؟ تب ڈاکٹر بلقیس ملک نے یہ ارادہ ترک کر دیا، اور لاڑکانہ کی ہو کر رہ گئیں۔

ڈاکٹر بلقیس ملک نے شادی نہیں کی، جب اُن سے پوچھا گیا، شادی کیوں نہیں کی، تب اُنھوں نے کہا میرے لیے اہم شادی نہیں بلکہ مجبور خواتین اور ان کے بچوں کی خدمت زیادہ اہم ہے؛ رِٹائرمنٹ کے بعد اپنے جمع پونجی سے لاڑکانہ میں ایک پلاٹ خریدا۔ ڈاکٹر بلقیس ملک چاہتی تھیں کہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک رفاہی اسپتال بنایا جائے، لیکن وہ کئی وجوہ کے باعث ایسا نہیں کر سکیں۔

ڈاکٹر بلقیس ملک آج کل ضعیف العمر اور بیمار ہیں، اسپتال داخل ہیں۔ حکومت سندھ ان کی بھر پور مالی مدد کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی ویمن ونگ پاکستان کی صدر و لاڑکانہ سے ایم پی اے فریال تالپور نے اسپتال میں ان کی عیادت کی اور اسپتال انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں، کہ ڈاکٹر بلقیس کا مکمل علاج کیا جائے۔ ڈاکٹر بلقیس ملک کو کراچی کے نجی اسپتال میں داخل کرانے کا کہا، جس پر ڈاکٹر بلقیس نے انکار کر دیا، کہا مجھے لاڑکانہ ہی میں رہنا ہے اور یہیں مرنا پسند کروں گی۔

ڈاکٹر رُتھ فاؤ کو بعد از مرگ سرکاری اعزاز سے دفنایا گیا اور سول اسپتال کراچی کا نام ڈاکٹر رُتھ فاؤ رکھا گیا، ہم اپنے محسنوں کو بعد از مرگ اعزازات سے نوازتے ہیں، کاش کہ ایسا ہو کہ حکومت اُن کی خدمات کے اعتراف ان کی زندگی میں کرے، جو بعد از مرگ کیے جاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں