انچولی کا جون ایلیا سے بھی زیادہ جانا پہچانا شاعر


انچولی میں بہت سے امروہے والے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت سے شاعر بھی رہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ وہ امروہے والا ہے لیکن شاعر نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ امروہے والا نہیں ہے۔ کوئی امروہے والا شعر کہے یا نہ کہے، وہ شاعر ہوتا ہے اور تخلص بھی رکھتا ہے۔

میرے تایا سید بوعلی شاہ خانیوال کے مشہور شاعر تھے اور ان کا تخلص طاہر امروہوی تھا۔ ایک دن میں نے بابا سے دریافت کیا کہ آپ کا تخلص کیا ہے؟ انھوں نے کہا کہ بھائی بوعلی کا تخلص طاہر امروہوی، بھائی محبوب کا تخلص اطہر امروہوی اور میرا تخلص مضطر امروہوی ہے۔ بابا سے چھوٹے چچا ہم بچوں کے دوست تھے اور ان کا ذہن کبھی پرائمری اسکول کے طالب علم سے زیادہ نہیں بڑھ سکا۔ میں نے پوچھا کہ چچا کا تخلص کیا ہے؟ بابا نے کہا، اس کا تخلص میں نے رکھا تھا، پتھر امروہوی!

یہ محض تمہید تھی۔ دراصل میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ انچولی میں رہنے والے امروہے کے شعرا ہلال نقوی اور کوثر نقوی وغیرہ ایک طرف اور گھائل الہ آبادی ایک طرف۔ جون ایلیا کو بھی اتنے لوگ نہیں جانتے ہوں گے جتنے گھائل الہ آبادی کو جانتے ہیں۔

آپ نے اس طرح کے واقعات ادبی تاریخ کی کتابوں میں پڑھے ہوں گے کہ مومن کا کوئی شعر مرزا غالب کو پسند آگیا اور وہ اپنا پورا دیوان اس کے بدلے دینے کو تیار ہوگئے۔ رئیس امروہوی کا بھی ایک شعر جوش کو پسند آگیا تھا اور وہ اپنا کل کلام اس کے بدلے انھیں دینے کو تیار تھے۔

استاد گھائل الہ آبادی نے زندگی میں فقط ایک ہی شعر کہا۔ وہ جانتے تھے کہ کئی شعرا اپنا سارا کچاچٹھا لے کر ان کے پاس آجائیں گے اور اس شعر کے عوض بیچ دیں گے۔ گھائل الہ آبادی نے وہ شعر آج سے تیس سال پہلے کہا تھا اور اس کے بعد سے آج تک دوسرا شعر نہیں کہا۔ عقیل عباس جعفری یہ شعر نوٹ کرلیں اور پاکستان کرونیکل کے اگلے ایڈیشن میں ضرور شامل کریں تاکہ اگلی نسلوں کو استاد گھائل پر تحقیق کرنے میں آسانی رہے۔

وہ طوفانی شعر یہ ہے:
وہ ایک شخص تھا جو مجھے گھائل کرگیا
عمر بھر کے لیے موت کا سائل کرگیا

یہ شعر سن کر میں نے منظر بھائی سے پوچھا تھا کہ آپ پوری غزل کیوں نہیں کہتے؟ ارے باپ رے! میرے منہ سے منظر بھائی کا نام نکل گیا۔ اب کیا کروں؟ مجھے تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ گھائل الہ آبادی درحقیقت منظر بھائی کا تخلص ہے۔

منظر بھائی نے آج تک شبو، کامی باس اور تراب حسین جیسے قریبی دوستوں کو بھی یہ بات نہیں بتائی کہ انھیں کس نے گھائل کیا تھا جس کی وجہ سے انھیں یہ شعر کہنا پڑا اور گھائل تخلص رکھنا پڑا۔ یہ منظر بھائی کی زندگی کے چند قیمتی رازوں میں سے ایک راز ہے۔

منظر بھائی کے ایک دو راز ایسے ہیں جو کسی وجہ سے مجھے معلوم ہوگئے ہیں۔ میں اگر ڈاونچی کوڈ جیسا ناول لکھنے کی کوشش کررہا ہوں تو اس کی وجہ وہی حیران کن راز ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ منظر بھائی کو ایک کان سے سنائی نہیں دیتا۔

اگر آپ انچولی میں یا جیو میں کسی سے پوچھیں گے کہ منظر بھائی کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے تو وہ بتائے گا کہ منظر بھائی بہت اچھے سامع ہیں۔ لوگ ان کے پاس آکر گھنٹا گھنٹا بھر بیٹھتے ہیں اور اپنے دکھڑے روتے ہیں۔ کوئی غم کا مارا محبت کی ناکامی کا قصہ سناتا ہے، کوئی محبت کی کامیابی کے بعد بیوی کے مظالم کا۔ کوئی تنخواہ میں تاخیر کی وجہ سے مالی مسائل بیان کرتا ہے، کوئی مسلمانوں کے زوال پر مرثیہ پڑھتا ہے۔ سب لوگ اپنا اپنا رونا رو کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ منظر بھائی اپنے خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ کسی کو احساس تک نہیں ہوتا کہ منظر بھائی ان کی آتم کتھا کا ایک لفظ بھی نہیں سن سکے کیونکہ وہ منظر بھائی کے جس کان میں سرگوشیاں کررہے تھے، وہ سگنل وصول کرنے سے محروم تھا۔

منظر بھائی کے حسن سماعت کی ایک خوبی یہ ہے کہ کبھی ان کا دایاں کان کچھ نہیں سنتا اور کبھی بایاں۔ اور جب دونوں آمادہ ہوں تو وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیتے ہیں۔
جیونیوز کے اسپورٹس ایڈیٹر صوفی صاحب نے مجھے نومبر 2003 میں ایک پروگرام کا اسکرپٹ لکھنے کے بہانے نوکری دلوائی تھی۔ اس پروگرام کا نام میچ بکس تھا۔ منظر بھائی آج کی طرح اس وقت بھی اسپورٹس بلیٹن کے پروڈیوسر تھے۔ ان دنوں اسپورٹس بلیٹن ایک بہت خوبصورت خاتون تزئین ہما پڑھتی تھیں۔

تزئین بہت مہربان خاتون تھیں اور کبھی کبھی اپنی کار میں منظر بھائی کو ڈراپ کردیتی تھیں۔ منظر بھائی اس کا شکریہ اس طرح ادا کرتے تھے کہ تزئین کا میک اپ کا ڈبا اٹھا کر ان کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ ایک دن صوفی صاحب کے دوست اقبال قاسم جیونیوز آئے تو میں نے اسپورٹس ڈیسک کے تمام ارکان کا تعارف کرایا۔ میں نے بتایا کہ یہ عبید صاحب ہیں، پروگرام میچ بکس کے پروڈیوسر۔ اور یہ منظر بھائی ہیں، پروگرام بیوٹی بکس کے پروڈیوسر۔

ایک دن منظر بھائی نے صوفی صاحب کو آگاہ کیا کہ ان کے ایک ماموں قومی برج ٹیم میں شامل کرلیے گئے ہیں اور وہ برج اولمیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ صوفی صاحب نے مبارک باد دی۔ پھر پوچھا کہ برج ٹیم میں تو شاید پیئر ہوتے ہیں۔ آپ کے ماموں کے پارٹنر کون ہیں؟ منظر بھائی نے بتایا کہ ان کے سگے بھائی ان کے پارٹنر ہیں۔ صوفی صاحب حیران ہوئے، ماموں کے سگے بھائی سے آپ کا کیا رشتہ ہے؟ منظر بھائی نے اعتراف کیا کہ ماموں کے سگے بھائی بھی ماموں ہی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 149 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi