جنسی ہراسگی: اب مردوں کا بچ پانا آسان نہیں ہوگا

شکیل اختر - بی بی سی نامہ نگار، دلی


انڈیا

Getty Images

خواتین کی ہراسگی کے انکشافات کی مہم انڈیا میں گذشتہ مہینے بالی وڈ کی اداکارہ تنوشری دتا کے ایک انٹرویو سےشروع ہوئی۔ تنوشری نے معروف اداکار نانا پاٹیکر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے دس برس قبل ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

نانا پاٹیکر نے ان کے الزام کو اسی وقت مسترد کر دیا اور اسے جھوٹ قرار دیا۔ لیکن پاٹیکر کے خلاف جنسی ہراسگی کا ایک کیس پولیس نے درج کر لیا ہے اور اب اس معاملے کی چھان بین کی جائے گی۔

ابھی اس الزام اور جوابی الزام پر بحث باری ہی تھی کہ بالی وڈ کے کئی ہدایتکاروں، اداکاروں اور گلوکاروں پر درجنوں خواتین کی جانب سے جنسی ہراسگی اور ریپ تک کے الزامات ‏سامنے آنے لگے۔

‘می ٹو’ ہیش ٹیگ کی یہ تحریک بالی وڈ میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہر روز کوئی نیا فلمی کردار جنسی ہراسگی کے الزامات کے کٹہرے میں کھڑا نظر آتا ہے۔

یہ دائرہ اب بالی وڈ سے نکل کرمیڈیا کے دروازے پر بھی پہنچ چکا ہے۔ کئی سینیئر مدیروں اور صحافیوں پر اپنی اعلی پوزیشن کا بے جا استعمال کرتے ہوئے خاتون صحافیوں کوہراساں کرنے کا الزام ہے۔

سب سے سنگین الزامات ملک کے سابق مدیر اور موجودہ حکومت میں جونیئر وزیر خارجہ ایم جے اکبر پر لگے ہیں۔ ان پر کئی خواتین نے جنسی ہراسگی کے الزامات لگائے ہیں۔ خواتین کے قومی کمیشن نے الزام عائد کرنے والی خواتین سے کہا ہے کہ وہ اپنی شکایات کمیشن میں درج کرائیں اور بے خوف ہو کر سامنے آئیں۔ جن خواتین نے الزامات عائد کی ہیں وہ بیشتر اپنے اپنے شعبوں میں معتبر اور مستند نام ہیں۔

مرد و زن

Getty Images

ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد اب سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے بھی ‘می ٹو’ کی حمایت کرنی شروع کر دی ہے۔ حالانکہ اب بھی آر ایس ایس کے اندریش کمار جیسے بہت سے ایسے رہنما ہیں جو یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر خواتین ہراسگی کے برسوں بعد تک خاموش کیوں رہیں؟ یہ سوال یقناً بہت اہم ہے۔

‘می ٹو’ سے پہلے بالی وڈ، سپورٹس ، میڈیا اور دفاتر میں خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کی باتیں کبھی کبھی دبے چھپے لفظوں میں سامنے آتی تھیں اور انھیں کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا خواتین کے لیے ’سب سے خطرناک‘ ملک

‘میرے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے’ کیا یہ کہنا آسان ہے؟

’اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا بھی کہے: می ٹو‘

کئی معاملات میں تو خواتین کو ہی مورد الزام ٹھہرا دیا جاتا۔ ہراسگی کی چھان بین اور مناسب کاروائی کے لیے کوئی موثر نظام نہیں تھا اور نہ ہی خواتین کو شکایت کے بعد انتقامی کاروائی سے کوئی تحفظ حاصل تھا۔

یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس میں متاثرہ خواتین کے پاس ہراسگی کے معاملات میں خاموش رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن گذشتہ سالوں میں خواتین کو ہراسگی اور تفریق سے بچانے کے بہت سے قوانین اور ضابطے نافذ کیے گئے ہیں۔ ان ضابطوں سے خواتین کو نئی طاقت ملی ہے۔

می ٹو

iStock

‘می ٹو’ تحریک خواتین کے بڑھتے ہوئے وقار اور خود اعتمادی کی ‏غماز ہے۔ اگرچہ جمہوری ملکوں میں آئینی اعتبار سے مرد اور عورت کو برابر تسلیم کیا گیا ہے لیکن ان معاشروں میں بھی خواتین کے خلاف تفریق اور ذہنی و جنسی ہراسگی کے سلسے ختم نہیں ہو سکے ہیں۔

حالیہ برسوں میں پوری دنیا میں خواتین کی طاقت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ‘می ٹو’ اسی بڑھتی ہوئی خود اعتمادی، انفرادی وقار اور طاقت کی عکاس ہے۔ یہی سبب ہے کہ خواتین آج ان برسوں پرانے واقعات کو بھی سامنے لا نے کی جرات کر پا رہی ہیں جن کا مقابلہ وہ اس وقت نہیں کر سکی تھیں۔

جنسی ہراسگی اور جنسی جبر، ذہن و روح پر ایک ایسا زخم ہے جو زندگی کی آخری سانس تک نہیں جاتا۔ اب وقت آ گیا ہے جب شکایت کا خوف ذہن سے نکل رہا ہے۔

بہت ممکن ہے کہ برسوں گزرنے کے بعد یہ واقعات ثابت نہ ہوسکیں۔ لیکن شکایتوں کے ساتھ خواتین کا بڑی تعداد میں باہر آنا معاشرے میں بدلتی ہوئی صورتحال کی علامت ہے۔ اس سے خواتین کی آزادی اور خود مختاری کے لیے احترام تو بڑھے گا ہی اس سے کام کرنے کے مقامات پر خواتین کے لیے حالات بھی بہتر ہوں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5701 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp