برفانی طوفان میں فضائی میزبان


khawar jamalدسمبر 2010 کی ایک صُبح، گھر سے لندن جانے کے لیے نِکلا ۔ فلائیٹ کا پیٹرن تو لاہور سے لندن تھا لیکن قسمت کا پیٹرن معلوم نہ تھا۔ سب کُچھ معمول کے مُطابق تھا۔ لندن کی فِضائی حدود میں پہنچنے سے پہلے ہی ہمیں اے ٹی سی ( ائیر ٹریفک کنٹرول) ٹاور نے یہ خبر سُنا دی کہ لندن میں اِس وقت طوفانِ باد و برفاں نے تہلکہ مچایا ہوا ہے لہٰذا آپ پیرس کی طرف چلے جائیں۔ اُن دِنوں یورپ میں برفباری کے طوفان نے تباہی مچائی ہوئی تھی۔ صرف فِضائی نظامِ آمد و رفت ہی نہیں، زمینی نظام بھی بُری طرح مُتاثر تھا۔ کرسمس کی چھُٹیاں قریب تھیں ۔ دوسرے مُلکوں اور شہروں میں رہنے والے لوگوں کو تمام اِقسام کے سفر میں شدید مُشکلات کا سامنا تھا۔ زندگی، آسمان سے گِرتی برف کی طرح مُنجمد ہو کر رہ گئی تھی۔ ہر اسٹیشن خواہ وہ جہازوں کا ہو یا کہ ٹرین اور بسوں کا، تا حدِ نگاہ بشر ہی بشر۔ بہت سے لوگوں کی تو چھُٹیاں ہی ختم ہو گئیں اور کئی لوگوں کو گھر پر صرف ایک آدھ دِن ہی مِل پایا۔

 پیرس کے اے ٹی سی سے رابطہ قائم ہوا تو اُنھوں نے معذرت کر لی کہ اِس وقت ہمارے ائیر پورٹ کی پارکنگ فُل ہو چُکی ہے چُنانچہ آپ فرینکفرٹ (جرمنی) سے رابطہ کریں۔ فِضا میں دربدر جب فرینکفرٹ کے اے ٹی سی سے رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ وہ بھی پیرس جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ لیکن شُکر خُدا کا جرمنوں نے ہٹلری نہیں دِکھائی اور ہمیں اپنے شہر ’بون‘ میں اُترنے کی اِجازت دے دی۔ جس جہاز کو جہاں جگہ مِلی اُتار لیا گیا۔ سب اُس برفانی طوفان کی کارستانیاں۔ جہاز اُترا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ائیر پورٹ کم اور جہازوں کا شو روم زیادہ لگ رہا ہے۔ ہر رنگ و نسل و درجہ و سائز و ائیرلائین کا جہاز موجود تھا۔ صرف ایک ” سیل ! سیل! سیل! زنانہ مردانہ بچگانہ“ کے بورڈ کی کمی تھی۔ خیر، جہاز تو اُتر گیا، لیکن ائیر پورٹ پر بندہ نہ بندے کی ذات۔ چار سے پانچ گھنٹے گزر گئے، کوئی پوچھنے نہ آیا۔ کوئی ہوتا تو آتا۔ یورپ میں غروبِ آفتاب کے بعد بہت کم پروازیں اُڑان بھرتی ہیں اور پھر موسم بھی ایسا دِلفریب اور روح افزا ہو تو مردانہ طاقت کی کمی واقع ہو ہی جاتی ہے ۔ ( یہاں مُراد ’ Man Power ‘ ہے، سمجھ تو آپ گئے ہوں گے)۔ لیکن نوے فیصد مُسافر خواتین و حضرات کو یہ سمجھانا کہ ہر مُلک کے اپنے قوانین ہوتے ہیں، دُنیا کے ہر ائیر پورٹ اور اُس میں کام کرنے والے لوگ اِس ائیرلائین کے نُمائندے نہیں ہوتے جِس کا ٹکٹ خرید کر آپ محوِ پرواز ہوئے تھے اور اگر آپ مُجوزہ منزل پر اُترنے کے بجائے کہیں اور یا کِسی اور مُلک میں اُتر جائیں تو یہ نارمل نہیں ہنگامی حالات ہوتے ہیں، جوئے شیِر نہیں جوئے شیِرکبیر لانے کے مُترادف ہے۔ یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہمارے کرم فرماﺅں کی وجہ سے ہمارا جینا، جو کہ اِن حالات کی وجہ سے پہلے ہی کوئی خاص حلال نہیں رہ گیا تھا، حرام کی اُس مخصوص سطح پر پہنچ گیا تھا کہ جس کے بعد زہر آلود خنجر نکال کر اگلے کے سینے میں گھونپنا باقی رہ جاتا ہے۔ معاف کیجیے گا یہ میرے دِل کی آواز تھی۔

BrotherAirportCبڑی مشکل سے ایک بس مُسافروں کی جہاز سے ائیر پورٹ کی عمارت تک ترسیل کے لیے آئی جس میں تمام مُسافروں کو اُنکے تمام دستی سامان کے ساتھ بٹھا کر لاﺅنج میں بھیجا۔ اِس موقع پر میڈیا نے ہمارا اِتنا ساتھ دِیا تھا جِتنا بُروٹس نے سیزر کے آخری وقت میں۔ جہاز کا عملہ سب سے آخر میں جہاز چھوڑتا ہے خواہ وہ نارمل حالات ہوں یا ہنگامی۔ جب سب مُسافر ائیر پورٹ لاﺅنج میں پہنچ گئے تو اُنھوں نے دیکھا کہ عملہ تو کہیں نظر نہیں آ رہا۔ کسی نے سوچا بھاگ گیا ہو گا اور ویڈیو بنا کر اپ لوڈ کر دی کہ مُسافر بے یارومددگار ہیں اور عملہ بھاگ گیا ہے۔ میڈیا نے ہر جگہ خبر چلا دی۔ افسوس کہ اگر وہ نِساء نابینا کا طفلِ نارس تھوڑا اِنتظار کر لیتا تو اُسے صورتحال سمجھ آ جاتی، اور بندہ پوچھے بھئی منفی بیس کے درجہ سرد ( حرارت تو اُس ٹھنڈ میں اعضائے رئیسہ سے بھی کوچ کر چُکی تھی) میں آدمی کہاں بھاگ سکتا ہے اپنے کرم فرما مُسافروں کو چھوڑ کر ( یہ ’کرم فرما مُسافروں‘ لِکھتے ہوئے نہ جانے کیوں میری بائیں ابرو اُوپر کی طرف اُٹھ گئی اور ایک زہریلی مُسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی ہے)۔ جب یہ سب آن ائیر چل رہا تھا تو اُس وقت ہم سب جہاز سے پانی کی بوتلیں اور کچھ بسکٹ اور سینڈوچ جمع کر رہے تھے تا کہ مُسافروں، خاص طور سے بوڑھوں اور بچوں کو دے سکیں کیونکہ کچھ پتہ نہیں تھا کہ اب ائیر پورٹ پر کتنا وقت لگے گا۔ لیکن جب اِس خبر کا پتہ چلا تو اُسی زہر آلود خنجر کا خیال آیا اور خیالات کے پلے بیک میں گانا چل پڑا ’ اچھا صِلہ دیا تُو نے میرے پیار کا‘۔

زیادہ تر پاکستانی پاسپورٹ کے حامل مُسافروں کو جرمن ویزا دیا گیا جس میں کچھ گھنٹے مزید لگے۔ چونکہ اِس شہر میں ہماری ائیر لائین کا دفتر نہیں تھا اِس لیے مقامی اتھارٹیز نے فرینکفرٹ میں موجود آفس سے رابطہ کر کے ایک ہوٹل میں قیام کا بندوبست کیا۔ اُس ہوٹل میں اُن تمام ائیر لائینز کے مُسافر بھی موجود تھے جن کے جہاز ’بون‘ کے ائیر پورٹ پر کھڑے تھے۔ مزے کی بات ملاحظہ فرمائیں کہ چونکہ جہاز کا ’ہولڈ‘ ( جس میں مُسافروں کا ہلکا پُھلکا اوور ویٹ سامان رکھا جاتا ہے) کسی بھی اِنجینئیر کے نا ہونے کے سبب نہیں کھُل سکا، لہٰذا سوائے چند ضروری کاغذات اور پاسپورٹ کے علاوہ بس یونیفارم ہی ہمارا کُل اثاثہ تھی۔ صرف ایک ساتھی کے پاس رات کو سونے کا پاجامہ تھا جس پر کارٹون بنے ہوئے تھے، وہ بھی اُس نے کپتان صاحب کو ازراہ ہمدردی دے دیا کیونکہ اُن کے پاس بھی کاغذات ہی تھے جن کو پہنا نہیں جا سکتا۔

ہم لوگ دو دِن اُسی جگہ پھنسے رہے۔ آخر جانے کا دِن آیا۔ لیکن ابھی اور امتحان باقی تھا۔ جہاز پر پہنچے تو ایسا محسوس ہوا کہ سیاچن کے کسی گلیشیئر میں گھُس گئے ہیں۔ منفی پندرہ سے بیس ڈگری میں طیارہ دو دِن سے کھڑا تھا۔ جب تک درجہ حرارت نارمل لیول تک پہنچتا، ہماری تو قلفی بن جانی تھی۔ حل یہ ڈھونڈا کہ تمام اوون چلا دیئے اور سامنے کھڑے ہو گئے۔ شُکر ہے بوائلر چل رہا تھا، گرم پانی کی بوتلیں بھر بھر کے جسم کے اطراف میں گھُمانی شروع کر دیں۔ جہاز کچھ گرم ہوا تو مُسافروں کو بھی بُلا لیا تا کہ درجہ حرارت جلد بڑھ جائے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ کُل ملا کر آٹھ گھنٹے ہو گئے، پھر کہیں ٹیک آف کرنے کی باری آئی کیونکہ ہمارے جہاز سے پہلے لا تعداد جہاز قطار میں لگے اپنی باری کا اِنتظار کر رہے تھے۔ ہر جہاز کو اِتنی شدید ٹھنڈ میں ’ڈی آئس‘ کرنا لازمی ہوتا ہے۔ یہ ایک کیمیکل ہے جسے گلائےکول کہتے ہیں، اور پانی کو مِلا کر بنایا جاتا ہے ۔ پھر اِس کو گرم کر کے پریشر سے جہاز پر سپرے کیا جاتا ہے تا کہ جہاز پر جمی ہوئی برف پِگھل جائے اور وہ اُڑان بھرنے کے لائق ہو جائے۔ آخر کار ہمارے جہاز نے ’ سٹین سٹیڈ ‘ کے لیے ٹیک آف کیا۔ جی ہاں! لندن کا ہیتھرو ائیرپورٹ ابھی تک بند تھا۔ یہ لندن کے قریب ہی ایک دوسرا ائیرپورٹ ہے۔ خُدا خُدا کر کے وہ پچاس مِنٹ کی پرواز ختم ہوئی۔ یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ روزِ محشر کا ایک دِن واقعتاً پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا۔


Comments

FB Login Required - comments

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 18 posts and counting.See all posts by khawar-jamal