پیرس تا لاہور…. براستہ استنبول


ghafferیہ 1848ءکی بات ہے جب لوئس نپولین بونا پارٹIII (1808-1873ئ)75فیصد ووٹ حاصل کر کے فرانس کا باضابطہ صدر منتخب ہوا۔اس وقوعے سے چند سال قبل پیرس کی ساڑھے چھ لاکھ آبادی میں سے بیس ہزار لوگ وبائی امراض کے باعث مر گئے۔ پیرس کی صفائی ستھرائی کی صورتحال انتہائی خراب تھی، سانس لینے کے لئے صاف اور تازہ ہوا نہیں تھی۔ ٹیڑھی میڑھی سڑکوں پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک معطل رہتی، شہر خوبصورت اور ماڈرن نہیں تھا، پرانی طرز کی گلیاں، پرانے طرز کی عمارات، گویا عہد وسطیٰ کے پیرس شہر میں مسائل ہی مسائل تھے۔ نپولین بونا پارٹ نے لندن کا دورہ کیا وہاں کشادہ قائمہ الزاویہ سڑکیں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی، سڑکوں کے نیچے وسیع سیور ج سسٹم، عمارتوں کا خوبصورت فن تعمیر، ایک سلیقے اور قرینے سے دکھائی دینے والا لندن شہر کا منظر نامہ،نپولین بونا پارٹ تو انتہائی مرعوب ہو گیا۔ اس کے دل میں شدید احساس پیدا ہوا کاش میرا پیرس بھی ایسا ہو جائے۔ جوں جوں پیرس کا واپسی کا سفر ختم ہو رہا تھا نپولین کے دل میں پیرس کی تقدیر بدلنے کا احساس قوی تر ہو رہا تھا مگر اپنے خیال کو عملی شکل دینے کے لئے اس کو کسی ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو فنی حوالے سے اس کے خواب کو تعبیر دے سکے۔نپولین نے جارج ہاسمین (Haussmann) کو ڈھونڈھ لیا۔اس نے لاءمیں اور موسیقی میں باقاعدہ تعلیم حاصل کی بعد ازاں سول سروس میں شمولیت کر لی اور پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی (PHA) کی طرز پرشہر کی تزئین و آرائش اور لینڈ اسکیپ سے کام کا آغاز کیا۔ وہ بلا کا وژنری ، توانا شخصیت کا مالک، زندگی میں کچھ کر گزرنے کی شدید خواہش سے سرشارتھا۔ جون 1853ءسے پیرس شہر کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ساڑھے چھ لاکھ کی آبادی والے شہر کے بیس ہزار گھر گرا دئیے گئے اور چالیس ہزار نئے گھر تعمیر کیے گئے۔ 45فٹ چوڑی سڑکوں کی دونوں اطراف عمارتیں گرا کر 100فٹ چوڑا کر کے بلیوارڈ کی شکل دی گئی۔ سڑکوں کے دونوں اطراف درخت لگائے گئے، پھول کھلائے گئے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب کی جانب بلیوارڈ کی تعمیر نے شہر کو چار سے زائد حصوں میں تقسیم کر دیا ۔شہر کو نئی پہچان دینے کے لئے چوک اور اسکوائر بنا کر ان میں یادگاریں تعمیر کر دی گئیں۔ عوامی سہولیات کے لئے سیور لائن اور واٹر سپلائی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ 600کلو میٹر لمبی مین واٹر سپلائی پائپ لائن بچھائی گئی۔ پارک بنائے گئے۔ بل کھاتی ہوئی سڑکوں کو سیدھا کر دیا گیا۔ وہ شہر جو کئی صدیوں سے لوگوں کی سال بہ سال بدلتی اور بڑھتی ضرورتوں کے ساتھ تشکیل پاتا رہا، اس کا تشخص تبدیل کر کے ایک جدید شہر بنا دیا گیا۔ جو عماتیں گرنے سے بچ گئی تھیں ان کے ظاہری خدوخال اور ہئیت میں تبدیلی کر کے یکسانیت لائی گئی۔ اس سارے کام میں اس زمانے میں ڈھائی ارب فرانک خرچ ہوئے۔

megisserieیہ تمام تبدیلیوں کا جواز فراہم کرنے کے لئے نپو لین نے عوام کو دو نعرے دئیے۔ پہلا نعرہ یہ تھا کہ” ہوا کے چلنے اور شہریوں کے گزرنے کے لئے کھلی جگہ فراہم کی جانا ضروری ہے“ اور دوسرا ڈائیلاگ ” یہ تمام تبدیلی مفاد عامہ کے لئے ناگزیر ہے“۔نپولین ایک طاقتور حکمران تھا جو عوامی مزاحمت کو کچل دینے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا تھا اور دوسرا نپولین کو جارج ہاسمین پر اپنی ذات جتنا اعتماد تھا۔ صدیوں پرانے پیرس شہر کی شکل و صورت کم و بیش بیس برس میںتبدیل ہو گئی، عمارتوں کی نئی جمالیات نے جنم لیا۔ بیس سال تک پیرس شہر میں لوگوں کے کاروبار بری طرح متاثر رہے۔ بڑی بڑی فرمیں اور کاروبار تباہ ہو گئے، لوگ کنگال ہو گئے، خسارے کا شکار ہونے والے بہت سی ذہنی و نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے مگر ایک آمر کے سامنے کسی کو سر اٹھانے کی ہمت نہ تھی۔ بعد ازاں کئی دہائیوں تک شہر میں ان لائی جانے والی تبدیلیوں اور ان کے اثرات کے بارے میں تحقیقی مضامین چھپتے رہے۔ شہری آبادی و منصوبہ بندی کے طالب علموں کو پیرس میں لائی جانے والی ان تبدیلیوں کے بارے میں ضرور پڑھایا جاتا ہے۔ گویا شہری منصوبہ بندی میں اس سرگرمی کو تاریخی حیثیت مل گئی ہے۔محققین اور مخالفین نے ان ترقیاتی اقدامات، انداز ِفکر اور شہر کی معیشت اور معاشرت پر پڑنے والے ان اثرات پر بے شمار کتب، مضامین اور مقالے تحریر کیے ہیں جو اپنے اندر فکر و دانش اور حکمت کی بے شمار باتیں سمیٹے ہوئے ہیں۔

سیاسی مخالفین ، لینڈ مافیا اور ڈویلپرز نے ان اقدامات کو کبھی نہیں سراہا۔ وہ ان بیس سالوں میں ہاسمین کی کمائی ہوئی دولت پر شدید تنقید کرتے رہے۔ ان ترقیاتی کاموں کے اخراجات کی فراہمی کے لئے نپولین نے پہلے دو مرتبہ قرضہ لیا اور پھر ’پیرس ورکس فنڈ ‘قائم کر کے بانڈ فروخت کیے۔ ہاسمین کو ’بے رحمی سے امیرانہ انداز Cour Saint-Guillaume (Ninth Arrondissement), 1866–67.میں خرچ کرنے والا‘ اور ’نہایت نااہل سوک پلانر“ کے خطابات سے نوازا گیا۔ سیاسی مخالفین نے سڑکوں کو سیدھا اور کشادہ کرنے کا جواز یہ تراشا کہ نپو لین نے دراصل اپنی حکومت کے خلاف عوامی مزاحمت کو کچلنے اور ان پر گولیاں اور لاٹھیاں برسانے کے لئے سڑکوں کے اس انداز کو شہر میں متعارف کروایا۔ ان بیس برسوں میں کاروبار کی تباہی کے سبب جب لوگ اور ان کی تجارتی و کاروباری فرمیں خسارہ کا شکار ہو گئیں تو لوگوں نے نپولین کو تو کچھ نہ کہا ،ہاسمین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور با لآخر مجبور ہو کر نپولین نے ہاسمین سے 5جنوری 1870ءکو زبردستی استعفیٰ لے لیا۔ ایک کیک کی طرح شہر کی عمارتوں کو کاٹ کر بڑے بڑے بلیوارڈ بنانے والے ہاسمین نے نپولین کے ایماءپر شہر کو نئی جمالیات عطا کی۔ مگر اس کے لئے پیرس کے رہنے والوں کو مالی، سماجی، سیاسی، تاریخی اور معاشی سطح پر بہت قربانیاں دینا پڑیں۔ گویا ایک پوری نسل جوانی سے قبل ہی بڑھاپے میں ڈھل گئی۔

لاہور میں میٹرو بس سروس منصوبہ کی تکمیل کے بعد اورنج لائن میٹرو ٹرین کا منصوبہ تیزی سے تکمیل کی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اس کے لیے شہر کی کئی بوسیدہ اور غیر قانونی تعمیرات کو گرانا پڑا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ کئی پرانی تاریخی عمارات کا استحکام بھی خطرے میں ہے۔اس کے لیے بہت توجہ کی ضرورت ہے۔ سول سوسائٹی ہائی کورٹ میں مقدمہ لڑ رہی ہے۔مگر اس سے سے زیادہ ضروری ان تہذیبی آثار و عمارات کی بہتر دیکھ بھال کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت ہے جو عالمی قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے ان تبدیلیوں کو قابل قبول حد تک منصوبے کا حصہ بنا سکیں۔


Comments

FB Login Required - comments