پرویز ہود بھائی کا انٹرویو


چند برس قبل کی بات ہے 11 اور 13 مئی 1998 کو گوتم بدھ کی زمین پوکھرن (ہندوستان) میں چھ جوہری دھماکے ہوئے۔ پھر 27 اور 29 مئی چاغی بلوچستان میں پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کر کے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ واضح رہے کہ یہ دونوں وہ ممالک ہیں کہ جہاں کے کڑوروں عوام بھوک، غربت اور جہالت کے آسیب سے نبرد آزما ہیں۔ لیکن ان کا دفاعی بجٹ اربوں ڈالرز ہے۔ اربوں ڈالرز کے ایٹمی دھماکوں پہ عوام کا ملا جلا تاثر دیکھنے میں آیا۔ زمین کی کوکھ اجڑنے پہ کچھ افراد تباہ کاری پہ نوحہ گر تھے تو اکثریت نے مٹھائیاں بٹوا کر اس کا جشن بھی منایا۔ جس پر حساس دل شاعرہ فہمیدہ ریاض نے شعری ماتم اس طرح کیا۔

زمیں کی کوکھ کو انسان نے جلا ڈالا
اور اب خوشی سے خلاؤں میں رقص کرتا ہے

ایٹمی دھماکہ کی مخالفت میں ملک کا ایک اہم سائنس دان بھی تھا جو دنیا میں نیوکلئیر فزکس کا ماہر گردانا جاتا ہے۔ اس نے یہ مخالفت دھماکوں کے نتیجہ میں ہونے والی تباہ کاریوں کے پیش نظر حکومتِ وقت کے خلاف کی۔ اس نامور سائنسدان کا نام ہے ڈاکٹر پرویز امیر ہود بھائی۔ جنہوں نے تقریبا تین دھائی قائد اعظم یونیورسٹی پاکستان کے شعبہ نیوکلئیر فزکس میں بحیثیت پروفیسر تدریس کے فرائض انجام دینے کے علاوہ لمس (LUMS) لاہور میں بطور وزیٹنگ پروفیسر بھی کام کیا اور فارمین کرسچیئن کالج یونیورسٹی میں فزکس بھی پڑھائی ہے۔

مختصر سوانحی خاکہ

گیارہ جولائی 1950 میں پیدا ہونے والے پرویز ہود بھائی نے کراچی گرامر اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد امریکہ کے ادارے ایم آئی ٹی سے گریجویٹ اور پھر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی اور سال تھا 1978۔ ان کی تحقیق کا کام کاونٹنم فلیڈ تھیوری، پارٹیکل فینامینالوجی اور سپر سٹمری ہے۔ امریکہ اور یورپ کے تحقیقی اداروں میں بھی لیکچرز دیتے ہیں۔ سائنس کے علاوہ دوسرے سماجی اور سیاسی موضوعات پہ بھی مقالے تحریر کیے ہیں۔ ان کی کتاب اسلام اور سائنس کا دنیا کی پانچ اہم زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ دستاویزی فلمیں بنائیں اور ایک این جی او اور مشعل کے سربراہ ہیں جو اہم موضوعات پر کتابیں شائع کرتا ہے۔

اپنے قابل قدر اور اہم تحقیقی کاموں پہ کئی ایوارڈ حاصل کیے۔ مثلا 1978 میں الیکٹرونکس کا بیکر ایوارڈ، 1984 میں ڈاکٹر عبدالسلام انعام، 1990 میں فیض احمد فیض ایوارڈ، 2003 میں یونیسکو کیلنگا پرائز حاصل کیا۔ ان کی فلم دی بیل ٹولز پلانٹ ارتھ کو 2003 میں پیرس کے فلمی میلے میں اعزازی انعام سے نوازا گیا۔

پرویز ہود بھائی سیاسی اور سماجی مسائل پہ ٹھوس اور نپی تلی رائے رکھتے ہیں۔ اور جس کا وہ جراتمندی بے باکی سے اظہار کرتے ہیں۔ ذیل میں ہماری ایک گفتگو پرویز ہود بھائی کے ساتھ ہے جس کو پڑھ کر آپ کو ان کی سیاسی بصیرت اور انسان دوستی کا احساس ہو گا۔

س1: اس وقت دنیا بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک کو کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے؟
ج: سب سے سنگین مسئلہ بڑھتی ہوئی آبادی کا ہے۔ خود پاکستان کی آبادی جو تقسیم کے وقت 2۔ 8 کڑور تھی بڑھ کر تقریبا 20 کڑور آبادی سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم، روزگار اور صحت کی سہولت مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ ہم دنیا کے ہر مسئلہ کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ مگر اس مسئلہ پہ حکومت خاموش ہے۔ گویا ان کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ پھر دوسرے سنگین مسائل میں پانی کی قلت ہے۔ ہم جتنے بھی ڈیم (بند) بنائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس کا بٹوارہ سندھ اور پنجاب کے درمیان منصفانہ بھی کیا جائے تو بھی یہ پانی نہ پنجاب کے لیے کافی ہو گا نہ سندھ کے لئے۔ بلوچستان کو تو آپ نکال ہی دیجیے۔ تو ایک صورتحال ایسی پیدا ہو گی کہ پانی کے اوپر جنگیں ہونے لگیں گی۔ میں نے انڈیا کی تو بات ہی نہیں کی۔

پانی کا یہ بٹوارہ شاید اس وقت اتنا شدید نہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آئے گی۔ پھر زمین لیجیے، ہم نہیں سمجھتے تھے کہ زمین کی کوئی حد ہے اور یہ کہ غلہ اگانے چلے جائیں گے۔ لیکن اب یہ حقیقت سامنے آتی جارہی ہے کہ آپ اگر کیمیائی کھاد کا استعمال کرتے ہیں تو اس سے جو زھر زمین میں شامل ہوتا جاتا ہے اس کا نکالنا بہت مشکل ہے۔

آبادی جتنی بڑھے گی اس سے فضائی آلودگی کے مسائل اتنے ہی بڑھیں گے۔ اس وقت آپ کراچی اور لاہور کو دیکھیں تو فضا میں زھریلی گیسیں ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ آبادی کو قابو پانا بہت ضروری ہے۔

س2: آپ پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور آپ کا شعبہ نیوکلئیر فزکس کا ہے۔ بحیثیت استاد کیا آپ ملکی سطح پہ تعلیم کے معیار سے مطمئن ہیں؟ خود آپ کے اپنے ادارے کا کیا حال ہے۔ کیا آپ اپنے مطابق کوئی خاطر خواہ تبدیلی لا سکتے ہیں؟

ج: خواہ اسکول، کالج ہو یا یونیورسٹی پاکستان میں تعلیم کا معیار عالمی معیار کے مقابلے میں بہت نیچے ہے۔ میں خود جس شعبے کا چئیر مین رہا ہوں وہ طبیعات کا ہے اور اگرچہ پاکستان کا سب سے اچھا گردانا جاتا ہے لیکن ہمارے طالب علم بہ مشکل ہی کسی سے مقابلہ کر پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جی آر ای میں جو امریکہ اور دوسری جگہوں کی جامعات میں ایم ایس سی میں داخلہ کی شرط ہے۔ میری لینڈ یونیورسٹی میں کم از کم قابلیت ستر پرسنٹایل درکار ہے۔ ایم آئی ٹی ٹی میں 89 سے 95 پرسنٹایل ہے جبکہ ہمارے بہت کم طلبہ ہی پچاس پرسنٹایل پہ پہنچ پاتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ انہیں تیاری کرائی جاتی ہے۔ صرف فزکس ہی نہیں تمام شعبوں میں معیار کس فرق بہت زیادہ ہے۔

پاکستان کے گریجویٹ طلباء عموماً اس صورت میں آتے ہیں کہ جب ان کو سرکاری وظیفہ ملتا ہے۔ یا وہ کسی انگریزی اسکول سے پڑھ کر یہاں آ کر گریجویشن کریں۔ اور بات صرف ایک شعبہ میں نا اہلی کی نہیں۔ مثلا آپ اگر پاکستان کے انگریزی کے شعبہ کے نگران سے بھی بات کریں اور لکھا ہوا پڑھیں تو وہ ایک جملہ بھی بمشکل لکھ یا بول سکتا ہے۔ اگرچہ کچھ ضرور ایسے ہیں کہ جو اپنے مضمون پہ مہارت رکھتے ہیں۔ مگر ایسے بہت کم ہیں۔ اکثریت اساتذہ کی ایسی ہے جو اپنے مضمون سے نابلد ہیں۔

س3: تو پھر اپنے طلباء کے معیار کے لئے کیا کام کرتے ہیں؟
ج: جو طلباء ہمارے پاس آتے ہیں چونکہ قدرتی طور پر ذہین ہوتے ہیں لہذا خراب تعلیم کے باوجود انہوں نے بہت کچھ پڑھا ہوتا ہے اس وجہ سے وہ آگے نکل جاتے ہیں۔ مثلاً میرا ایک طالب علم جو اردو میڈیم کا پڑھا ہوا تھا اور ملتان سے میٹرک کیا تھا۔ مجھے خط لکھا کہ آپ کے پاس آ کر تحقیق کرنا چاہتا ہوں۔ مگر اس کو میرے شعبہ کی بجائے حساب میں داخلہ ملا۔ اس کے باوجود وہ میرے پاس آ کر پڑھتا رہا۔ میں نے اس کی غیر ضروری ذہانت کو بھانپ کر مشورہ دیا کہ تمہیں امریکہ جانا چاہیے۔ اور یوں میں نے اس کو ایم آئی ٹی ٹی بھجوایا۔ اور آج وہ دنیا کا مانا ہوا سائنسدان ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں