ایک سیاسی ماہیا


ماہیا شاعری کی ایک صنف ہے۔ یہ ڈیڑھ مصرعوں پر مشتمل ایک نظم ہوتی ہے۔ نظم کا لب لباب آخری مصرِع میں ہوتا ہے۔ پہلے کا آدھا مصرع صرف وزن برابر کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ‘شو شا’ کے لیے ہوتا ہے۔ ماہیے میں ‘ماہیا’ شاعر کا محبوب ہوتا ہے، جسے مخاطب کر اس کی مدح سرائی کی جاتی ہے؛ نصیحت کی جاتی ہے، شکایت کی جاتی ہے یا کاروبار زندگی کے دُکھڑے سنائے جاتے ہیں۔

پنجابی کے علاوہ ماہیے سیرائیکی، ہندکو، کشمیری اور دیگر زبانوں میں بھی لکھے جاتے ہیں۔ کچھ شعرا نے اردو میں بھی ماہیے لکھنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔ لیکن جو ماہیا میں آج میں اپنے محبوب لیڈر کو ڈیڈیکیٹ کرنے جا رہا ہوں وہ دو زبانوں میں لکھا گیا ہے۔ عرض کیا ہے؛

ہٹیاں تے وکاندی سڈ ماہیا
آئی ڈونٹ نو اینی تھنگ، یو آر ویری گڈ ماہیا

پتا نہیں کس نے کہا تھا، جب اللہ کسی قوم سے راضی ہوتا ہے، تو اسے صاف ستھری اور کرپشن سے پاک قیادت دیتا ہے۔ بات اتنی خوب صورت کہی ہے کہ میں نے یہ پتا کرانے کی کوشش بھی نہیں کی، کہ کس نے کہی۔ اگر میرے محبوب لیڈر کے بر خلاف ہوتی تو میں نے ضرور پتا لگا لینا تھا۔ بلکہ اس کی فیس بک سے اس کے اہل و عیال تصویریں اتار کر ان پر واہیات کلمات لکھ کر انھیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے اسے ذلیل بھی کرنا تھا۔

کچھ روز تک میں اس بات کی کھوج لگاتا رہا ہوں، کہ من حیث القوم ہمارا کون سا کارنامہ تھا، جو اللہ کو پسند آیا اور اس نے ہمیں کرپشن مافیا سے نجات دلائی اور ایسی لیڈر شپ دی، جو کہ کم از کم کرپٹ نہیں ہے۔ لیکن اب چوں کہ لیڈر شپ کا تحفہ، ہم نے وصول پا لیا ہے اور رسید لکھ دی ہے، تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے، تو سچی بات ہے میں نے اس بات کی کھوج لگانا بھی چھوڑ دی ہے۔ رب دیاں رب جانے، اسے کچھ پسند آیا ہو گا تو یہ تحفہ ہمیں دیا۔

ہمارے ملک میں ایک خرابی ہے کہ ہم تنقید بہت کرتے ہیں اور تنقید بھی صرف برائے تنقید۔ یہ خرابی شاید پہلے بھی پائی جاتی تھی لیکن تحفہ ملنے کے بعد میں اس میں بہت شدت آ گئی ہے۔ آئے دن ایسی تنقید سننے کو ملتی ہے، جس کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر مثلاً:

عمران خان ہیلی کاپٹر کیوں استعمال کرتا ہے؟
تو کیا وزیر اعظم گدھا گاڑی پر سفر کرے؟

عمران خان اپنا کتا ہیلی کاپٹر میں کیوں لے کے جاتا ہے؟
تو بھائی کیا ہمسائے کا کتا لے کر جائے؟

عمران خان نے دوستوں کو وزیر اور مشیر کیوں بنا دیا؟
یعنی آپ یہ چاہتے ہیں کہ دشمنوں کو یہ عہدے دیتے؟

کبھی بلین ٹری سونامی میں درختوں کی تعداد شبہ کا اظہار کرتے ہیں، تو کبھی تین سو پچاس ڈیموں کا پتا پوچھتے ہیں۔ ستر سال میں جب کسی حکمرانوں سے نہیں پوچھا، تو اب عمراان کی باری کیوں پوچھتے ہو؟

پچھلے ہفتے عمران خان نے غریب عوام کے لیے پچاس لاکھ گھر بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کو جسے نیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام کا نام دیا گیا ہے ( حالاں کہ مجھے ذاتی طور پر یہ رنجش ضرور رہے گی اس منصوبے کا نام ‘ہاوسنک سونامی’ نہ رکھا گیا)، پر بے ڈھنگی تنقید کی جا رہی ہے کہ بھائی پیسے کہاں سے آئیں گے؟

بجائے عمران خان کو اس بات پر سراہنے کے کہ ستر سال میں پہلی بار کوئی حکمران آیا ہے، جس نے غریب عوام کے بارے میں سوچا ہے، تم یہ سوال کر رہے ہو کہ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ ان لوگوں نے سنا نہیں کہ ہمت مرداں مدد خدا، یا یہ کہ اگر ‘وِل’ ہو تو راستہ نکل آتا ہے۔ عمران خان اگر کینسر اسپتال بنا سکتا ہے، عمران خان اگر نمل یونیورسٹی بنا سکتا ہے، تو میرا یقین ہے کہ یہ مرد مجاہد کچھ بھی کر سکتا ہے۔

ہمارا لیڈر پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ ہمیں اس پر تنقید کر کے اپنی آخرت خراب کرنے کے بجائے اس کے اقدامات کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ جہاں تک غریبوں کے لیے گھر بنانے کے لیے درکار رقم کا سوال ہے تو میں نہیں جانتا کہ وہ کتنی ہے لیکن یہ ضرور یقین رکھتا ہو، میں جس دن لوٹی ہوئی دولت واپس آنا شروع ہوئی، اس کے اگلے دن یہ رقم پوری ہو جانی ہے۔

‘مالی دا کم پانی لانا’ ہوتا ہے اور مشقیں بھر بھر لگانے کے لیے قوم کے خیر خواہوں نے ڈیم بنانے کا بھی اعلان کیا ہے جو کہ کچھ ماہ میں بنا جاہتا ہے۔ اور میں ان ناقدین کو بتانا چاہتا ہوں، تھوڑا سا پانی لگ گیا ناں تو انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔ کیوں کہ شاعر مشرق نے فرما دیا تھا؛

زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقیؔ

زرخیز مٹی پر ہاوسنگ سوسائٹی بنانے کے کام کو میں ذاتی طور پر اچھا نہیں سمجھتا لیکن ملک کے وسیع تر مفاد میں چوں کہ یہ کام ایک عرصے سے جاری ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں۔

تنقید کرنے والی صحافی برادری کو میں وہی مشورہ دوں گا، جو عمران خان نے دیا ہے۔ اپنی توانائیاں موجودہ حکومت اور اداروں کے کام میں کیڑے نکالنے پر صرف کرنے کے بجا ئے سیاست دانوں کے ہاتھوں لوٹی رقم کا سراغ لگانے میں حکومت کی مدد کریں۔ اس رقم میں سے اپنا حصہ پائیں اور کوئی ڈھنگ کا کاروبار شروع کریں۔ اپنا اور اپنے بچوں کا حال اور مستقبل محفوظ بنائیں۔ شکریہ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

مبین حبیب کی دیگر تحریریں
مبین حبیب کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں