کتابی افسر، کمانڈو سنتری اور آٹھ سو میٹر کی دوڑ سے سیکھا سبق



وہ فضائیہ کی اکیڈمی سے انجینئرنگ کر کے پاس آوٹ ہوا تو کراچی ملیر پوسٹنگ ہوئی۔ اکیڈمی میں اتھلیٹیکس میں حصہ لیتا تھا، 400 میٹر کی دوڑ خصوصی پسند تھی اور بنیادی طور پر اسی دوڑ کے تعلق سے جانا جاتا تھا۔ 400 میٹر کی دوڑ کوئین آف دی ریسز کہلاتی ہے، اس میں سٹیمنا اور ڈیش یعنی رفتار دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ اگر آپ شروع دوڑ میں زیادہ زور لگا دیں تو 300 میٹر کے بعد ختم ہو ں گے، اور اگر شروع میں آہستہ ہوں تو آخر میں دوسرے بھاگنے والوں سے اتنا فاصلہ ہوگا کہ اُنہیں نہ پکڑ سکیں گے۔ آپ کا سٹیمنا ایسا ہو کہ تین سو میٹر کے بعد ایک بھرپور ڈیش لگا سکیں۔ ایسی قوت کی دوڑ آخری سو میٹر میں لگائیں کہ فنش لائن کے بعد جسم میں زور کا ایک قطرہ بھی نہ ہو۔ دوڑ کے بعد آپکی ٹیم کے ساتھی آپ کو اُٹھاتے تھے اور کمبل میں لپیٹ کر خوب دباتے تھے۔ گرم کمبل اور تین لوگ آپ کو دباتے ، وہ لوگ جو آپ کے ساتھ اس مقابلے کے جوش میں ڈوبے ہوتے۔ ہاتھ دباتے اور زبان متواتر چل رہی ہوتی ، مقابلوں کے اتراو چڑھاو پر اپنے انداز کی روشنی، آواز میں جوش اور کہیں ہار کے تذکرے کا دکھ۔ کائنات اس لمحے سمٹ کر آپ کے ساتھ لیٹی ہوتی، کیا خبر کہ خدا بھی اس لمحے پاس مسکرا رہا ہوتا۔ خدا خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ اور اُس لمحے کیا چیز ان بھاگتے لڑکوں اور ان کے جذبے سے خوبصورت ہو سکتی ہے؟ جوان جسم، پسینے سے چمکتےعضو ، چہرے مقابلے کے جوش سے دمکتے، اور سب سے بڑھ کر مقابلے کا اندر سے ابھرتا ہیجان اور ان لوگوں کی پُرجوش آوازیں۔ اس دنیا سے الگ ایک اور ہی دنیا ؛ ایک اور جہاں، جوش ، مقابلے، جوانی ، بہادری کا جہاں۔ ایسا جہاں جہاں کوئی کمزور نہیں، کوئی معذور نہیں، کوئی دکھی نہیں۔ سب کے اونچے جذبے، سب نگاہ بلند، سب محنتکار۔

کیا کائنات میں اس وقت کوئی منظر اس سے خوبصورت ہو سکتا ہے؟

ملیر اچھی جگہ تھی ، کراچی میں رہتے ہوئے بھی کراچی سے باہر۔ موسم بہتر، ہریالی چہار سو، ٹریفک کم اور سکون زیادہ۔ کئی معاملات تھے، ہفتے میں تین دن لازمی شام کو کھیل کےمیدان میں حاضری ہوتی ۔ پی ٹی ہوتی اور پھر باسکٹ بال یا دوسرے کھیل ہوتے۔ غرض اکیڈمی سے نکل کر بھی ایک اکیڈمی میں تھے۔ مختلف رنگ کے اصحاب تھے، میس کا کک چاچارفیق تھا جس سے بہتر بریانی کا ذائقہ کسی کے ہاتھ میں نہیں دیکھا کہ کراچی شہر میں رہنے والے افسر بھی گھر جاتے اُس کی بنی بریانی لے کر جاتے تھے۔ ایک گروپ کیپٹن تھے کہ زندگی میں ان سے بڑا چھوڑو نہ ہوگا۔ ان کی بیان کی گئی بات پر یقین لانے کے لیے آدمی کا رٹا باز طالب علم ہونا ضروری تھا ، سمجھے بغیر رٹا۔ اور لوگ بھی رٹا لگا لیتے تھے کہ سمجھنے میں نوکری کے امتحان میں فیل ہونے کا خطرہ تھا۔

ایک ساتھی انجینر تھا جو ایک پرندے کے نام سے جانا جاتا تھا، تپتی دوپہر میں بھاری فوجی جوتے پہنے ، کمر پر اینٹوں کو لادے رہائش کے قریب کے میدان میں بھاگتا رہتا تھا۔ قابل دست اندازی پولیس ہوتا اگر آپ اس سے کسی کم درجے کا کام بھی اپنے کسی ماتحت سے لیتے مگر وہ پرندہ کہتا تھا کہ پرندے سے شاہین بنوں گا کہ کمانڈو کورس پر جاوںگا۔ انجینیر زمینی مخلوق تھے، محنت کار ، توقٰعات ان سے یہ تھیں کہ مشینری کے پرزوں سے ہاتھ اور منہ رنگے ہوں اور ذہن بھی پرانی مشینوں کی رفتار کےساتھ چلے، سوچ کم، رٹا زیادہ ۔ پرانی مشینوں پر کام کرنیوالوں کے ذہن تیز ہوں تو انتظامیہ مشینوں کو تیز کرنے کی بجائے ان کے ذہنوں کی رفتار آہستہ کرنے کی فکر میں رہتی ہے۔ سو پرندے کو کہا گیا کہ اقبال سے متاثر ہونے کی بجائے اقبال مندی پر توجہ دے۔ مگر وہ نہ مانا، بھاری فوجی جوتے پہنے، کمر پر اینٹیں لادے بھاگتا رہا۔ یار لوگوں نے سوچا ، خودہی اینٹوں کے زور میں گرے گا، مگر کسے پتہ تھا کہ جذبہ سچا ہو تو پرندہ فوجی جوتوں اور کمر پر لادی اینٹوں کے ساتھ بھی اڑ جاتا ہے۔ چراٹ جا پہنچا اور ایک سال کا کمانڈو کورس کیا ، وہی بھاری فوجی جوتے اور کمر پر اینٹیں۔ فرق یہ تھا کہ سال کے بعد سینے پر پیلے ہتھے کی تلوار اور سفید پروں کا کمانڈو بیج تھا؛ پہلا کمانڈو انجینیئر۔ واپس آیا تو کمانڈو انجینیئر کو مشینوں کی سست رفتار، ذہن کی پرواز، زمیں میں ٹھکی طنابیں، کمانڈو کا فخر سب ایسے بدست و گریباں ہوئے کہ پرندے نے ایک اڑان بھری اور دور پرواز پر چل نکلا۔

انہیں دنوں بیس پر یونٹس کے درمیان اتھلیٹیکس کے مقابلوں کا اعلان ہوا۔

اب بیس پر ایک جی سیز کی یونٹ تھی۔ جی سیز گراونڈ کمبیٹرز کا مخفف ہے، سمجھیے پیدل فوج کے لوگ ہیں۔ لمبے تڑنگے، صبح شام دوڑ ، ورزش، خوراک ، خوب کھاتے اور خوش رہتے۔ زندگی بچوں کی آنکھ سے گذارتے تھے، بڑوں کے کہے کو بغیر سوچے مانتے، اور ذہن پر بوجھ ڈالنے کی بجائے جسم پر وزن اور ٹانگوں کی دوڑ میں مگن رہتے تھے۔ ان کے زیادہ انچارج کمانڈو تھے۔ انہیں میں اس کے کمرے کے ساتھ رہتا ہنزہ کا گورا چٹا کمانڈو فلائیٹ لیفٹیننٹ تھاجس کا تکیہ کلام لالہ تھا، سو وہ سب کا لالہ تھا۔ لالے کا اردو کا تلفظ فرق تھا ، مگر گرمائش تلفظ میں نہیں لہجے میں ہوتی ہے۔ زندگی کو بھی اسی گرمائش سے گذارتا تھا؛ خوش رہ کر، بغلگیر ہوکر، بازوؤں کی طاقت سے اٹھا کر۔ وہ ہر دوسرے ہفتے ملک سے باہر ہوتا تھا۔
ہوائی جہازوں کے اغوا کے بچاو کے لیے ان دنوں پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں میں مسلح ائر گارڈ سوار ہوتے تھے اور لالہ ایر گارڈ تھا۔ جس دن وہ فجر کے وقت یونٹ میں سپاھیوں کے ساتھ ورزش میں نہ ہوتا تو جان لیں کہ اُس رات وہ لندن ، میلان، ایتھنز ، فرینکفرٹ جاتی کسی پرواز میں مسافروں کی قطار میں کھڑا ہے۔ قمیص کے نیچےچھپا پستول، لمبے بوٹوں میں خنجر لیے وہ کوئی یونانی سیاح ہی لگتا ہوگا۔ پرانے پہلوانوں کی طرح لنگوٹ کا مضبوط تھا، ایر ہوسٹسوں یا یورپ کی ایک یاترا کر آںے والوں کی حسرت بھری کہاںیوں کے برعکس لالے کی پاس اپنے علاقے کی ہی کہانیاں تھیں۔ لالے کے لیے ہنزہ کی خوشبو پیرس کے یوڈی کلون کی خوشبووں پر بھاری تھی، اور کسی کی جھکی نگاہیں کئی بے باکیوں سے زیادہ پُر کشش تھیں۔

اور دوڑ میں اس کا مقابلہ لالے کے تیار کردہ سپاھیوں سے تھا۔

اور وہ کون تھا، کتابوں سے نکلے وہ سوال حل کرتے رہا تھا جو کبھی زندگی کے سوالوں کے قریب بھی نہ آئے تھے۔ ریاضی کے مسلوں سے الجھتے کئی راتیں الجھ گئی تھیں۔ بجلی جانے کی صورت میں موم بتیوں میں پڑھائی نے اپنا نشان عینک کی صورت میں چھوڑ دیا تھا۔ اور نوکری بھی ایسی تھی کہ ریڈاراور وہ دونوں ہی دن رات چلتے تھے ۔ آدھی رات کو فون بج اٹھتا تھا کہ کہیں دور گھومتے ریڈار نے گھومنے سے انکار کر دیا ۔ اب اقرار کے لیے اوزاروں کا ساتھ لے کر دوری کے سفر پر نکلو کہ اگلی راتیں چاند کی چاندنی میں نہیں کھڑے ٹرک کے چوکھٹے کے اندر ریڈار کے پرزے بدلتے گذرنی تھیں۔ ایسے میں کچھ ہی لوگ تھے جو بتاتے تھے کہ یہ ملک اور قوم کی ذمہ داری ہے، عبادت ہے، فرض ہے۔ زیادہ تر اوپر والوں سے ڈراتے پھرتے تھے، خود بھی پریشاں اور فون کر کر کے دوسروں کو بھی پریشان کرتے۔ ہنزہ کے لالے کم تھے، یورپ کی ایک یاترا کر کے آنے والے حسرتی زیادہ تھے۔
ایسے میں دوڑ۔ کون جانتا کہ اس ذہنی مشق باز کی ٹانگوں میں زور بھی ہے، اور وہ زور کہ پیدل فوج کے سپاھیوں کے ساتھ دوڑ سکے۔

سو دوڑ کا دن آ گیا ۔ پوری بیس کے سامنے ایک کتابی بھاگا۔ ایر مینوں نے کبھی ایسا انجینیئر نہ دیکھا تھا ، جس نے عینک کو دھاگے سے باندھا کہ دوڑ میں گر نہ جائے اور عام جوتے بدل کر میخوں والے سپائیکس پہن لیے۔ وہ دوڑ کہ چار سو میٹر میں سو میٹر کے فاصلے سے جیت اور آٹھ سو میٹر میں دو سو میٹر کے فاصلے سے جیت۔ ایر مینوں نے کتابی کو گلے لگا لیا ۔انہیں کسی کو بتانے کی ضرورت نہ تھی کہ زمین پر پاوں دھرے افسر اتنے عام نہیں ملتے۔

اُدھر کتابی نے عینک کی ڈوری کھولی ، جوتے بدلے اور ریڈار کے ٹرک میں پرزے بدلنے چلا گیا۔ اور ساتھ ہی کتاب کھول کر ذہنی مشق شروع کر دی، وہیں سے جہاں سے کتاب الٹ کر میز پر رکھی تھی۔

تین سال گذرے اور تبادلہ ہوگیا ۔ نئی جگہ پر اُس نے دیکھا کہ جب بھی وہ بیس میں آںے کے لیے گارڈ روم سے گذرتا ہے تو ایک ڈیوٹی پر کھڑا ایک سپاھی بہت زور سے سلیوٹ کرتا ہے۔ اس سپاھی کے سینے پر کمانڈو کا بیج چمک رہا تھا اور اسکا سلیوٹ عام نہیں کچھ خاص ہوتا ، ایسا سلیوٹ جو فرض سے آگے ہو ، ایسا جیسے کچھ کہہ رہا ہو ، جو گذر جانے کے بعد بھی ساتھ چلے، ایک قدم پیچھے، ہاتھ باندھے ، آنکھیں جھکائے، جی جی کرتے۔ ایک دن اُسے اس سپاھی نے گارڈ روم پر روک لیا۔

“کیا، آپ مجھے جانتے ہیں؟”

“چہرہ جانا پہچانا لگتا ہے، شاید کہیں دیکھا ہے”

” میں ملیر میں آٹھ سو میٹر دوڑ کے مقابلے میں آپکے مدمقابل دوڑا تھا۔ نیا نیا کمانڈو کورس کرکے آیا تھا، ٹانگیں بہت مضبوط تھیں۔ اپنے اوپر بڑا اعتماد تھا، قمیص کے کالر اوپر اور گریبان کے بٹن کھلے تھے۔ اُس دوڑ کے دن خیال تھا ، یہ کون ہے؟ افسر ،ہمارے مقابلے میں دوڑ ، جانے دو۔ آج پتہ چل جائے گا، ہم تو دن کے کئی کئی میل دوڑنے والے ہیں۔

اور جب مقابلہ شروع ہوا تھا تو آپ کو نہیں پہنچ پایاتھا۔ ہار گیا ، مگر اس دوڑ کی یاد ہمیشہ کے لیے ساتھ ہے۔ اس دن کے بعد غرور کو کہیں دور رکھ دیا۔ دوڑ خوب لگاتا ہوں، اپنے اس کمانڈو بیچ پر فخر بھی ہے، مگر جان گیا ہوں کہ فخر اورغرور الگ الگ ہیں۔ آپ کو اس بیس پر دیکھا تو دل خوش ہوگیا، آپ کو میرا سلیوٹ ہمیشہ اُس دوڑ کی یاد سے بے ساختہ تقویت لیتا ہے، کبھی زور نہیں لگانا پڑا، خود ہی جسم میں پھرتی بھر جاتی ہے ۔ آپ کا میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے زندگی کا سبق اور یاد کی مہک دی” ۔
کتابی کی کتابیں دھری کی دھری رہ گئیں۔ اسے گمان بھی نہ تھا کہ کوئی ایک آٹھ سو میٹر کی چھوٹی سی دوڑ سے زندگی کا اتنا بڑا سبق کشید کرلے گا ۔ فخر اور غرور الگ الگ چیز ہیں، ایسا سبق تو لوگوں کو عمر کے اُس حصے میں جاکر سمجھ آتا ہے جب ٹانگیں لرزنا شروع ہو جاتی ہیں۔

وہ جان گیا کہ یہ مضبوط ٹانگوں والا چھوٹے عہدے کا سنتری بڑا آدمی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 21 posts and counting.See all posts by atif-mansoor