جنسی ہراسانی: کیا فیس بک بھی گلی کا نکڑ یا تھڑا بن گئی ہے!


روزمرہ زندگی میں عورت کو گھر سے باہر کام کرتے ہوئے بہت سی مشکلات کے ساتھ ساتھ جنسی ہراسمنٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ورکنگ وومن کے لئے زندگی گھر کے ساتھ ساتھ باہر بھی بہت مشکل ہوتی ہے، کیونکہ ان کو جاب کے ساتھ ساتھ گھر کے کام بھی نبٹانے پڑتے ہیں۔ سوشل میڈیا اب ہماری زندگیوں میں روٹی کپڑے اور مکان کی طرح لازمی جز بن چکا ہے۔ ایسے میں جبکہ آپ ہر پل پلٹے کھاتی سیاسی صورت حال سے باخبر رہنا چاہتے ہوں، فیشن کے بدلتے رجحانات دیکھنے ہوں یا پھر دوستوں ساتھ گوسپ کرنا ہو سوشل میڈیا کا استعمال ضروری ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے عورت گھر ہو گھر سے باہر ہو یا سوشل میڈیا پہ ہو، اسے ہراسمنٹ کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔ جس طرح عورت گھر سے باہر کام پہ جانے کے لئے باہر نکلتی ہے۔ تو چاہے جوان مرد ہو بوڑھا ہو یا لڑکے ہوں۔ وہ عورت کو گھورنا اور فقرے بازی کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ گلی کی نکڑ پہ لڑکوں کا ٹولی بنا کے اس وقت کھڑے ہونا جب محلے کی کسی لڑکی کے کالج سے آنے یا اپنے کام سے واپسی کا وقت ہو، اپنی نوعیت کا ایک گھٹیا طریقہ ہے۔

یہی حال ہمارے ہاں فیس بک کا ہو چکا ہے۔ خواتین نے اور کاموں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے لئے بھی کچھ وقت نکالنا ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مقصد نئی چیزیں سیکھنا یا گوسپ بھی ہو سکتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ایک انسان اگر اپنی مرضی سے کسی کام کو کر کے خوشی محسوس کرتا ہے تو ہم اس کے اس حق پہ بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ (واضح رہے انسان سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں)۔

اب جبکہ خواتین سوشل میڈیا پہ بہت ایکٹو ہیں تو دوسری جانب ان کو کچھ مردوں کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ زیادہ تر خواتین کو بابا کی پرنسس، ماما کی جان یا فیک ناموں اور تصویروں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ ایسے میں جو خواتین اپنے اصل نام یا تصویر کے ساتھ لکھنے لگ جائیں یا ایکٹو ہوں۔ تو سمجھ لیں کہ ان کی بدقسمتی کی شروعات ہو گئی ہیں۔

گلی کی نکڑ پہ کھڑے مردوں اور سوشل میڈیا پہ موجود ایسی ہی ٹولیوں میں کوئی فرق نہیں۔ افسوس اس بات کا بھی ہوتا ہے جب ایسے کیسسز میں خواتین بھی ہراسمنٹ میں مردوں کا ساتھ دیتی ہیں۔ ان ہتھکنڈوں سے تنگ آئی خواتین/لڑکیاں بلکل اسی طریقے سے اس چیز کو ہینڈل کرتی ہیں جیسے گھروں میں ان کی تربیت کی گئی ہوتی ہے۔ یعنی چپ رہو اور گھر بیٹھ جاؤ۔ سوشل میڈیا پہ اسے آئی ڈی بند کر کے نئے ناموں سے آنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ کبھی یہ نہیں سیکھیں گے کہ تہذیب اور اخلاق نامی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ نظریات کے اختلاف کا مطلب کیا ذاتی انا کو بنانا بہتر ہوتا ہے۔ کیا ہم اپنی بچیوں کے لئے کوئی بھی ایسا فورم چھوڑنا ہی نہیں چاہتے جہاں وہ اپنی مرضی سے سانس لے سکیں؟

یا پھر ایک عورت کی اپنی مرضی سے جینے کی قیمت اتنی ہی زیادہ ہے کہ اسے عام زندگی اور ورچوئل زندگی میں بھی ہر ایک سے اپنی عزت یا اپنا آپ بچا کے چلنا پڑے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ بطور والدین ہم اپنے بیٹوں کی تربیت ایسے کیوں نہیں کرتے کہ وہ عورت کے وجود کو ایک ٹیبو بنانے کی بجائے اسے جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پہ تسلیم کر لیں۔

کبھی فقرے بازی اور ہراسمنٹ کی تکلیف کو محسوس کرنا ہو تو میرا مشورہ ہے ایسے مردوں کو کہ ایک بار زنانہ حلیے میں گھر سے باہر نکل کے دیکھیں۔ سوشل میڈیا کے مردوں کو یہ مشورہ دینا اس لئے فضول ہے کہ وہ پہلے سے ہی پاپا کی ڈال بن کے لڑکیوں کے سیکرٹ لینے میں مشغول ہیں۔ ان کے لئے تو دعائے خیر ہی کی جا سکتی ہے۔ آخر میں صرف یہ درخواست ہے کہ سوشل میڈیا کو سیکھنے اور گوسپس یا فن کرنے کی جگہ رہنے دیں۔ اسے تھڑوں اور گلی کی نکڑ میں تبدیل مت کریں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں