اسلام میں کیا کمی ہے بھائی؟


Aamir-Hazarviہمارے ایک کالم نگار دوست نے لفظوں سے کھیلتے ہوئے درد دل لکھا اور دہائی دی کہ انسانیت کو مقدم رکھا جائے مذہب تفریق ڈالتا ہے، مذہب نفرت کا سبب بنتا ہے۔ کچھ مثالیں دیں کہ فلاں فلاں کو جب تک مذہب کا معلوم نہ تھا محبت تھی جونہی مذہب کا معلوم ہوا نفرت شروع ہو گئی ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے دوست کو مذہبی تعلیمات کا علم نہیں یقینا وہ اسلام کو مجھ سے اچھی طرح جانتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں ۔انہوں نے ایسا کیوں لکھا مجھے نہیں معلوم ۔ جی چاہتا ہے ان کے مقدمے کے جواب میں اسلام کا مقدمہ پیش کیا جائے ۔ اسلام کیا کہتا ہے اسلامی تعلیمات کیا ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسلام فریق مخالف سے نفرت کا درس دیتا ہے یا محبت کا؟ کیا اسلام سماجی رابطوں سے منع کرتا ہے؟ آپ دیکھیں کہ میرے نبیﷺ نے کبھی کسی سے منہ نہیں پھیرا۔ مسجد نبوی میں عیسائیوں کا وفد آیا آپؐ نے اسے ٹھہرایا بھی اور مشرق کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی بھی اجازت دی۔ آپ اسلامی تعلیمات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ حضرت عمرؓ نے جب بیت المقدس فتح کیا تو عیسائیوں کے کہنے کے باوجود ان کی عبادت گاہ میں نماز صرف اس وجہ سے ادا نہ کی کہ کہیں مسلمان اسے مسجد نہ بنا لیں۔ حضورﷺ اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی عورت کی عیادت کرتے ہیں، مسجد نبوی میں پیشاب کرنے والے یہودی کو معاف کر دیتے ہیں، مکہ سے نکالنے والوں کو معاف کر دیتے ہیں اور حضرت عمرؓ یہودی بوڑھے کی وجہ سے پینشن جاری کروا دیتے ہیں۔

میں ہزاروں مثالیں ایسی پیش کر سکتا ہوں کہ حضورؐ اور ان کے جانشینوں نے مذہب کی بنیاد پہ نفرت نہیں کی۔ چھوڑیں سبھی باتوں کو، اس امت میں ایک شخص ایسا بھی ہے جسے دنیا مولانا طارق جمیل کے نام سے یاد کرتی ہے۔ مولانا نے کس سے نفرت کی ہے؟ وہ ہر ایک کو سینے سے لگاتے ہیں۔ آپ ڈاکٹر ذاکرنائیک کو دیکھیں وہ کہاں نفرت کرتے ہیں؟ آپ غامدی صاحب کو ہی لے لیں وہ کس سے نفرت کرتے ہیں؟ وہ بھی تو مذہب کے نمائندے ہیں آپ طاہرالقادری صاحب کو لے لیں وہ کس سے نفرت کرتے ہیں؟ آپ مولانا فضل الرحمٰن کو لے لیں، سیاست کے میدان میں مذہبی لوگوں کا نمائندہ موجود ہے وہ دشمن کو بھی پیار سے ملتے ہیں۔

میں مولوی ہوں اور اپنے مولوی ہونے پہ فخر کرتا ہوں۔ واللہ عیسائیوں، سکھوں، ہندوؤں سے ملتا ہوں مجھے میرا مولوی ازم نہ روک سکا۔ یہ کس نے آپ کو کہہ دیا کہ مذہب ہر برائی کی جڑ ہے۔ میں مسلمان اور مولوی رہ کے سب سے ملتا ہوں، میرے نمائندے ملتے ہیں تو کیوں نہ مذہب کی بات کروں؟ کیوں نہ اسلام کی بات کروں؟ ہاں یہ ٹھیک ہے کہ قلیل تعداد میں لوگوں نے اسلام کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کی انا، ضد اور بےجا تشدد نے آپ کو یہ لکھنے پہ مجبور کیا کہ مذہب رکاوٹ ہیں۔ لیکن یہ حقیقت نہیں ہے جس طرح سیکولرازم کا چہرہ ایاز امیر نہیں بلکہ وجاہت مسعود صاحب ہیں، اسی طرح اسلام کا چہرہ بھی یہ چند لوگ نہیں بلکہ اکثریت ہے۔ انہیں دیکھیں پھر آپ اسلام کا چہرہ پیش کریں نہ کہ اسلام سے بدظن کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “اسلام میں کیا کمی ہے بھائی؟

  • 10-06-2016 at 11:44 am
    Permalink

    1400 سال قبل کے حوالاجات کے ساتھ طاہر القادری اور مولانہ فضل الرحمان صاحب کو نتھی کرنا درست نہیں.مجموعی کاوش اچھی ہے مگر ایک اچھے بھلے مقدمہ کو کمزور انداز میں پیش کیا گیا.

  • 10-06-2016 at 12:16 pm
    Permalink

    کمی اسلام میں نہیں ہے اسلام کے ٹھکیداروں میں ہے

Comments are closed.