کیا نیب واقعی ایک خودمختار ادارہ ہے؟


دیگر مخلوقات کی نسبت انسان اپنی عملی زندگی میں قدم قدم پر تعلیم و تربیت کا محتاج ہے۔ اللہ تعالی نے معلم اول پہلے انسان آدم علیہ السلام کو خود تعلیم سے بہرہ مند فرمایا۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم و تدریس کے نظام میں مرکزی کردار استاد کا ہوا کرتا تھا۔ والدین اپنے بچوں کو استاد کے حوالے کرتے ہوئے کہا کرتے کہ اب اس کی ہڈیاں ہماری اور کھال آپ کی یعنی جیسے چاہیں اس کی تربیت کر کے اسے بھلا انسان بنا دیں۔

پھر زمانہ بدلا زمانے کا چلن بدلا اور اس تبدیلی نے زندگی کے دیگر تمام پہلووُں سے ہوتے ہوئے تعلیم کے نظام کو بھی متاثر کیا اور استاد کی بجائے اس نظام کا مرکزی کردار طالب علم کو بنا دیا گیا۔ یوں رفتہ رفتہ استاد کا مقام معاشرے میں کم ہوتا گیا جس کی ایک مثال یہ ہے کہ سترہویں گریڈ کے سرکاری پولیس افسر اور اِسی گریڈ کے سرکاری سکول ماسٹر کے معاشرتی مقام و مرتبے میں زمین آسمان کا فرق دیکھنے میں آتا ہے۔

ابھی کل ہی کا واقعہ ہے کہ احتساب عدالت نے سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات سے تجاوز کے کیس کی سماعت کی۔ گو کہ بعض صورتوں میں چانسلر یا وائس چانسلر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر کنٹریکٹ پہ بھرتیاں کر سکیں اس کے باوجود عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ضابطے کی کارروائی کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کرے اور اختیارات سے تجاوز کا الزام ثابت ہو جانے کی صورت میں آگے کے مراحل طے کرے۔ لیکن کل ڈاکٹر مجاہد کامران کو جس طرح ہتھکڑیوں میں عدالت پیشی کے لئے لایا گیا وہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

نیب کی جانب سے ڈاکٹر مجاہد کامران کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ دے بھی دیا لیکن اس میں کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں کیونکہ یہ سب ضابطے کی کارروائی ہے اور قانون کی بالادستی کو تسلیم کرنے والا کوئی بھی شہری اس پہ اعتراض اٹھانے کو خود بھی نامناسب خیال کرے گا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک استاد کو کسی ایسے مفرور گینگسٹر کی طرح جو بڑی مشکل سے ہاتھ لگا ہو یا پھر کسی ایسے دہشت گرد کی طرح جس سے بم برآمد ہوا ہو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا نیب کا نامناسب رویہ نہیں؟ جبکہ اسے یہ استثنا حاصل ہے کہ وہ چاہے تو ملزم کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرے اور اگر ملزم کی طرف سے بھاگنے کی کوشش یا کسی اور طرح کی شرانگیزی کا خطرہ نہ ہو تو ہتھکڑی لگانا ضروری نہیں۔ اس کے باوجود یہ سب کرنا کیا ایک ذمہ دارانہ رویہ مانا جائے گا یا اسے جان بوجھ کر استاد کی تذلیل کرنے کی کوشش سمجھا جائے؟
کیا نیب کا یہ رویہ یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ بظاہر خود مختار یہ ادارہ بھی شاید دیگر اداروں کی طرح کٹھ پتلی ہے جس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے؟ کیونکہ یہ سب کسی سوچی سمجھی سازش کا حصہ معلوم ہو رہا ہے۔

کیا اس منظر نامے کا بغور جائزہ لیے جانے کی ضرورت نہیں؟ کیا اس کی کھوج لگانا ضروری نہیں کہ آخر اس پیش منظر کے پس منظر میں کیا ہے؟ کہیں یہ دیگر معاملات سے دھیان ہٹانے کی ایک کوشش تو نہیں تھی جو بھلے ہی ناکام رہی لیکن اس امر کے نتیجے میں کیا خاص طور پر اساتذہ کے جذبات بری طرح مجروح نہیں ہوئے ہوں گے؟ کیا اساتذہ خود کو غیر محفوظ اور کمتر نہیں محسوس کر رہے ہوں گے؟

سامنے کی بات ہے کہ اسی نیب کی عدالتوں میں بےشمار نامی گرامی سیاست دان اور بڑے بڑے عہدے داران و مفتیانِ وطن جن پر کروڑوں اربوں روپے کے غبن، بدعنوانیاں، گھپلے اور دیگر کئی طرح کے جرائم ثابت ہوئے لیکن انہیں ملزم کی بجائے مجرم ہوتے ہوئے بھی کبھی یوں ہتھکڑیاں لگا کر عدالتوں میں نہیں گھسیٹا گیا تو پھر ایک استاد کے ساتھ یہ بدسلوکی کیوں روا رکھی گئی!

ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی وکیل کے ساتھ انتظامیہ کی طرف سے کوئی نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو پوری کی پوری وکلاء برادری اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور سڑکوں پر نکل کر نظامِ زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہے اسی طرح اگر کسی ڈاکٹر کے ساتھ کسی ادارے یا سرکار کی طرف سے کسی قسم کا ناروا سلوک ہوتا ہے تو ڈاکٹر برادری ہڑتال کرتے ہوئے مریضوں تک کا خیال نہیں کرتی جبکہ اساتذہ کی جانب سے ایسا مافیا نما رویہ کبھی بھی سامنے نہیں آیا۔

ہر معاشرے کی کچھ مخصوص اقدار ہوتی ہیں جو اسے دیگر معاشروں سے ممتاز کرتی ہیں، ماضی میں ہمارے ہاں مذہبی و معاشرتی ہر دو اعتبار سے استاد کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ اور دنیا بھر میں تمام مہذب معاشروں کا یہی طریق ہے کہ اساتذہ کو کسی بھی عام شہری کے مقابلے زیادہ عزت و احترام کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی اس فراموش شدہ روایت کو ازسرِ نو اجاگر کرنا ہو گا کہ یہ بھی وقت کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ایک ہے۔

رہی احتساب عدلیہ تو اسے بھی اس چیز کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خود قانون بھی قانون کی بالا دستی کی آڑ میں انہیں کسی کی تذلیل کی اجازت نہیں دیتا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اور دیگر پروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگا کر لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کرنے پر از خود نوٹس لے لیا۔ دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بھی مذکورہ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب لاہور کو معاملے کی فوری انکوائری کا حکم دے دیا۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ واضح احکامات کے باوجود اساتذہ کو ہتھکڑیاں کیوں لگائی گئیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک ہمارے با اختیار ادارے اس طرح کی مجرمانہ غفلتوں کی روک تھام کے بجائے واقعہ ہو جاتے کے بعد از خود نوٹس اور انکوائریاں بٹھاتے رہیں گے؟ کیا کسی کو بیچ چوراہے پر رسوا کرنے کے بعد نوٹس لے لینے سے اس رسوا ہو جانے والے کی عزت اور اعتماد پہلے کی طرح بحال ہو سکتا ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں