اپالو کے فرزند اور اساتذہ کو ہتھکڑیاں


کیا ڈی جی نیب، لاہور کی تحریری معافی سے اس اہانت کے زخم مندمل ہوجائیں گے جو ڈاکٹر مجاہد کامران، ڈاکٹر راس مسعود، ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر، ڈاکٹر لیاقت علی اور ڈاکٹر کامران عابد کی عزت نفس کو لگے اور جنھیں اساتذہ، طالب علموں نے خاص طور پر اور سماج کے دوسرے طبقات نے عام طور پر محسوس کیا اور اپنا ردّعمل سوشل میڈیا پر ظاہر کیا؟ اس سے پہلے یہی زخم ڈاکٹر محمد اکرم چودھری اور ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو لگے۔ نیز یہ وہ زخم ہے جو روزانہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں ان سب کو لگتا ہے جوپاکستان میں رائج ”طاقت کے نظام “ میں حصہ دار نہیں ہیں۔ یعنی وہ مشہور اورممکنہ طور پر حکمران بننے کے مستقل اہل سیاست دان، بڑے بیوروکریٹ، اعلیٰ عدالتوں کے جج، اعلیٰ فوجی حکام، ناموراور امیر کبیر صحافی، کھرب پتی کاروباری اشخاص نہیں ہیں۔

وائس چانسلر(خصوصاً اساتذہ برادری سے )، اساتذہ اور ادیب و فنکار ”طاقت کے اس نظام “ سے نہ صرف باہر ہوتے ہیں، بلکہ ان سے بجا طور پر توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس نظام کی ہیئت کا تجزیہ کریں گے اور اس کے برقرار رہنے سے جنم لینے والی ناانصافی، حقوق کی پامالی، عدم مساوات کا پردہ بھی چاک کریں گے، نیز اپنے طالب علموں اور قارئین کے دلوں میں اس سچائی کی بے باکانہ تلاش کا جذبہ بھی پیدا کریں گے، جسے طاقت کا نظام مسلسل مسخ کرکے پیش کرتا ہے تاکہ وہ خود کو برقرار رکھ سکے۔

بلاشبہ کچھ اساتذہ اور کچھ ادیب ان توقعات پر پورا نہیں اترتے ؛ وہ یا تو ایک اپنی خیالی جنت میں رہتے ہیں، یعنی سماج کی کڑی سچائیوں سے گریز کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کے طے کردہ نصاب کی میکانکی انداز میں تدریس کرتے عمر گزار دیتے ہیں یا پھر طاقت کے اس نظام کا حصہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، اکثر یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس نظام میں ہمیشہ ’آﺅ ٹ سائیڈر ‘ہی سمجھیں جائیں گے۔ ایک استاد وائس چانسلر (یا کوئی ادیب )کسی حکمران کی آنکھ کا تارا بن بھی جائے اور اس کی خاطر خود اپنی اساتذہ اور ادیب برادری سے وہی سلوک کرنے لگے جو حکمران کرتے ہیں، وہ طاقت کے کیک کے مستقل حصہ دار نہیں بن سکتے۔ طاقت کا پردہ چاک کرنے کے بجائے، طاقت کے نظام کا حصہ بننے والے ان آﺅٹ سائیڈر کی کہانی کا آخری سبق یہ ہے انھیں وہی نظام سبق سکھاتا ہے، انھیں ان کی اوقات یاد دلاتا ہے۔

ہتھکڑیوں میں اساتذہ کی عدالت میں پیشی کی تصویریں ایک طرف بے بسی اور دوسری طرف چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ قانون کی طاقت کس قدر اندھی ہے اور اسے کس وحشیانہ اور سنگ دلانہ طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے، اور کس فریب کارانہ ڈھٹائی سے قانون ہی سے توجیہ تلاش کر لی جاتی ہے کہ ان کے بھاگ جانے کا اندیشہ تھا۔ جدید ریاستی بندوبست، اداروں کو مضبوط بنانے میں یقین رکھتا ہے، لیکن اس کا تاریک پہلو یہ ہے کہ ایک طاقت ور ادارہ، اپنے ملازم کو اختیار کی لامحدود طاقت کے زعم میں مبتلا کرتا ہے۔ یہی نہیں، اسے ایک ایسی منطق خلق کرنے کی دیوتائی طاقت بھی عطا کرتا ہے جس کی مدد سے وہ اپنے ادارے کے طے شدہ قوانین کی ہر طرح کی توجیہ و تعبیر کرسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ملزمان کی تعداد زیادہ تھی، اور لوگوں کی بھیڑ تھی اس لیے حفظ ماتقدم کے طور پر اساتذہ کو ہتھکڑیا ں پہنائی گئیں۔ کس شخص نے یہ فیصلہ کیا، ہمیں نہیں معلوم، مگر ہمیں تصویریں یہ ضرور بتا رہی ہیں کہ اس شخص کے دل میں علم، انسانیت، اخلاقی اقدار کا کوئی احساس نہیں تھا۔

اس کے بارے میں ایک اور بات بھی ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ سب ملزموں کو ایک جیسا خیال نہیں کرتا۔ حالاں کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔ ہماری طرح وہ بھی اس جملے کو ایک متھ سے زیادہ خیال نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ قانون سب کے لیے نہ تو برابر ہوتا ہے نہ اندھا ہوتا ہے، ان کے لیے تو بالکل اندھا نہیں جو قانون بنانے، توڑنے اور اپنے حق میں مروڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ وہی شخص یا اس جیسا کوئی ہوگا جو قانون سازوں یا قانون شکنوں کویعنی طاقت وروں کو بغیر ہتھکڑیوں کے اسی عدالت میں پیش کرتا رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ علم اور صاحب علم بہرحال نہیں ہیں کم ازکم اس سماج میں ۔ اسی طرح اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس سماج میں علم اس عزت کا مستحق بھی نہیں جو سماج کی طرف سے علم کو اس یقین کی بنا پر دی جاتی ہے کہ اس کی بقا و ترقی محض علم کی مرہون ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس سماج میں صرف اقلیتی اشرافی طبقہ ہی بنیادی انسانی حقوق رکھتا ہے اور ان کی حفاظت کے سارے ڈھنگ اور حیلے اسے آتے ہیں۔

قانون کو نافذ کرنے والے ادارے جانتے ہی نہ ہوں گے کہ ہتھکڑی کی ایجاد ان جانوروں کو قابو کرنے کے طریقے کی نقل ہے جنھیں انسان نے جنگلوں سے پکڑ پکڑ کر اپنے گھر میں قید کیا۔ ابتدائی انسان جانور کے بھاگنے اور اس کی طاقت دونوں کے خوف میں مبتلا تھا۔ انسان کا یہ عمل اپنی نوعیت میں مجرمانہ تھا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ جانوروں کو پہنائی گئی بیڑیوں اور رسوں کوزنجیر لگی ہتھکڑی اور بیڑی میں بدلتے ہوئے اور انسانوں کو پہناتے ہوئے، انسان کو ’جرم ‘ کرنے والی مخلوق سمجھا گیا۔ آج بھی ان ملزموں کو ہتھکڑی ڈالی جاتی ہے، جن پر جرم کا الزام ہو اور پولیس کی گرفت سے ان کے بھاگنے کا ڈر ہو۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں