حامد میر جی این این چینل چھوڑ کر پھر سے جیو نیوز نیٹ ورک میں آ گئے


معروف تجزیہ نگار اور سینئر صحافی حامدمیر نے نجی ٹی وی چینل ’’جی نیوز ‘‘کی صدارت کو خیر آباد کہتے ہوئے پھر سے جیو نیوز نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہوگئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر دو ماہ قبل نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے ساتھ اپنی طویل رفاقت ختم کرتے ہوئے نئے ٹی وی چینل ’’جی این این ‘‘کے ساتھ بطور صدر منسلک ہو گئے تھے ،اس خبر کے منظر عام پر آتے ہی ملک بھر میں حیرت کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ حامد میر کا جیو نیوز کے آغاز سے اس کے بانی ارکان میں شمار ہوتا تھا،اس سے قبل ملک میں درجنوں نئے ٹی وی چینل منظر عام پر آئے تاہم حامد میر جیو نیوز میں ہی رہے۔

اگرچہ حامد میر نے جیو نیوز چھوڑنے  کی کوئی وجہ بیان نہیں کی تھی لیکن حامد میر کی’’جی نیوز ‘‘ میں شمولیت پر بعض صحافتی حلقوں میں سوال بھی اٹھائے گئے تھے اور کہا جا رہا تھا کہ حامد میر جلد ہی اپنے ’’اصل گھر‘‘لوٹ آئیں گے اور یہ بات اس وقت سچ ثابت ہوئی جب دو ماہ بھی نہیں گذرے اور حامد میر نے ایک بار پھر جی این این کو ’’داغ مفارقت‘‘ دیتے ہوئے جیو نیوز کو دوبارہ جوائن کر لیا ہے۔

حامد میر کی جیو نیوز میں دوبارہ شمولیت پر اسی چینل کے معروف اینکر اور سینئر صحافی شاہزیب خانزادہ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے خیر مقدم کیا ہے ۔دوسری طرف باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حامد میر جیو نیوز پر اپنا معروف نیوز شو ’’کیپٹل ٹاک‘‘ 15 اکتوبر بروز سوموار سے شروع کر رہے ہیں اور یہ شو اپنے پرانے مقررہ اوقات میں ہی آن ائیر ہوا کرے گا۔

اینکرپرسن منیب فاروق بھی حامد میر کے ساتھ ہی جی این این مین گئے تھے انہوں نے حامد میر کے واپس جیو نیوز کے ساتھ منسلک ہونے کی تصدیق کی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں انہیں خوش آمدید بھی کہا ہے۔

واضح رہے کہ دو ماہ قبل جب حامد میر نے جیو نیوز چھوڑا تو کچھ حلقوں کی اس قیاس آرائی کی بالواسطہ تصدیق بھی کی تھی کہ انہوں نے جیو نیوز کی طرف سے عامل صحافیوں کو تنخواہیں نہ دینے پر احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے۔ اس اطلاع کی تصدیق اس لنک پر کی جا سکتی ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں