وینزویلا :مارکیٹ کے اصولوں سے انحراف کا بھیانک انجام


zeeshan hashimمعیشت سوشل سائنس کا انتہائی اہم میدان ہے – ایک معیشت وہاں کے لوگوں کی خرید و فروخت اور تعاون و تبادلہ کا ایک پیچیدہ نظام ہے، مثال کے طور پر پاکستان جو بیس کروڑ کی آبادی کا ملک ہے اس کی معیشت ان بیس کروڑ لوگوں کی خریدو فروخت اور تعاون و تبادلہ کا نظام ہے – یہ نظام انتہائی پیچیدہ ہے اور فری مارکیٹ معیشت کی رو سے یہ اتنا ہمہ گیر ہے کہ اسے کنٹرول کرنا اور پلان کرنا تو دور کی بات اسے predict کرنا بھی ناممکن ہے کیونکہ ہم حتمی طور پر صارفین اور پروڈیوسرز (جن سے معیشت وجود میں آتی ہے )کے رویوں کو نہ کنٹرول کر سکتے ہیں، نہ پلان، اور نہ ہی predict – یہاں predict سے مراد کسی معاشی سرگرمی میں صارف یا پروڈیوسر کا متوقع رویہ پہلے سے ہی طے کر لینا ہے – ہاں یہ ممکن ہے کہ افراد کے معاشی رویوں کو تعمیم (generalize)  کرنے کی کوشش کی جائے جیسا کہ سوشل سائنس کے باقی شعبوں میں ہم کرتے ہیں، اسی جنرلائز کرنے کی کوشش کو ہم اکنامکس کہتے ہیں اور یقینا فری مارکیٹ معیشت کے چند عمومی نوعیت کے اصول بھی ہیں جنہیں ہم تاریخ، فلسفہ، نفسیات، اور تجزیاتی سائنس وغیرہ سے سیکھتے آئے ہیں اور سیکھتے جائیں گے –فری مارکیٹ کی رو سے ضروری ہے کہ مارکیٹ آزادانہ کام کرے – جب کہ سوشلسٹ معیشت کا دعوی ہے (جس سے سوشلزم اور لبرل ازم ایک دوسرے سے متضاد ہو جاتے ہیں ) کہ معاشی سرگرمیوں کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے – کنٹرول کرنے کی اس کوشش میں سوشل ازم دراصل اسٹیٹ ازم (State-ism ) بن جاتا ہے جس میں بجائے سوسائٹی کے (جس کا دعوی شروع میں کیا جاتا ہے ) ریاست کی آمریت معاشی فیصلوں کو افراد یا سماج کی آزادانہ مرضی کے بجائے اپنی منصوبہ بندی سے کرنا شروع دیتی ہے جس سے فاشزم جنم لیتا ہے، اس معاشی آمریت کو تحفظ سیاسی آمریت سے ملتا ہے اور سیاسی آمریت جو سماج کا دانہ پانی پہلے ہی کنٹرول کئے بیٹھی ہوتی ہے سماج کو مزید محبوس کر دیتی ہے – اور یہی سب کچھ ہم ہر سوشلسٹ ملک میں دیکھ چکے ہیں –

فری مارکیٹ معیشت جسے کیپٹل ازم بھی کہتے ہیں چونکہ بہت سارے ممالک میں بہت حد تک رائج ہے اس لئے اس پر تنقید بھی ہوتی ہے جس طرح ہر رائج چیز پر تنقید زیادہ آسان ہوتا ہے – تنقید میں نئے معاشی تصورات کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے جس سے کسی کو انکار نہیں اور نہ فری مارکیٹ ٹھہراؤ کا نام ہے – ذیل میں ایک مضمون کا ترجمہ ہے جسے ریکارڈو ہاسمین نے “پروجیکٹ سنڈیکیٹ ” میں لکھا ہے – ہاسمین وینزویلا کے سابق وزیر منصوبہ بندی ہیں، انٹر امریکن ڈویلپمنٹ بنک کے سابق چیف اکانومسٹ، ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر، دنیا کے صف اول کے معیشت دان اور ورلڈ اکنامک کونسل کے گلوبل ایجنڈا میٹا کونسل کے چیئرمین ہیں – وہ اس مضمون میں وینزویلا کو بطور کیس اسٹڈی لیتے ہیں اور ان موضوعات کو قدرے تفصیل سے زیر بحث لاتے ہیں –

***        ***

housmanجب سے فنانشل بحران 2008 آیا ہے معیشت دانوں کو یہ الزام لگا کر سزا دینا عام ہو گیا ہے کہ آخر وہ اس سانحہ کی پیش گوئی کیوں نہ کر سکے- اس سے بچاؤ کی غلط تجاویز انہوں نے کیوں دیں؟ اور یہ بحران واقع ہو گیا تو اس سے چھٹکارے کے لئے کچھ کرنے میں وہ کیوں ناکام رہے- معشیت میں نئے خیالات کی اپیل یقیناّ پائی جاتی ہے اور یہ جائز بھی ہے. مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہر نئی چیز اچھی بھی ہو گی اور کیا ہر اچھی چیز نئی ہی ہو گی ؟

چین کے ثقافتی انقلاب (cultural revolution ) کی پچاسویں برسی پہ یاد دہانی ہے کہ جب مسلمہ حقائق کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے. وینزویلا کا موجودہ تباہ کن بحران بھی ایک اور مثال ہے- ایک ملک جسے امیر ہونا چاہئے تھا، دنیا کے گہرے ترین بحران، بے انتہا مہنگائی، اور سماجی اشاروں کے بد ترین زوال سے گزر رہا ہے- اس کے شہری جو دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر کے ملک ہیں. خوراک اور ادویات کی کمی سے قحط زدہ ہیں اور مر رہے ہیں.

جب یہ سانحہ پک رہا تھا، وینزویلا اقوام متحدہ کی خوراک اور زراعت کی تنظیم، لاطینی امریکا کے اکنامک کمیشن، برطانوی لیبر پارٹی کے لیڈر Jeremy Corbynسابق برازیلوی صدر لولا ڈی سلوا، اور امریکی سنٹر فار اکنامک پالیسی ریسرچ سمیت باقی اداروں سے دادو تحسین حاصل چکا تھا.

اب اس ملک کی تباہی اور زوال سے دنیا کو کیا سیکھنا چاہئے؟ مختصر یہ کہ وینزویلا معاشیات کے بنیادی اصولوں کو مسترد کرنے کے انجام کا عبرت ناک منظر ہے.

ان میں سے ایک اصول یہ ہے کہ سماجی فلاح حاصل کرنے کے لئے بہتر آئیڈیا یہ ہے کہ مارکیٹ کو کام میں لایا جائے نہ کہ اسے دبا دیا جائے- حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ خود تنظیمی (self organization ) کی ایک ضروری صورت ہے جس میں ہر فرد اپنے معیار زندگی کو کمانے کے لئے محنت کرتا ہے وہ ( اشیاء یا خدمات ) پیش کرکے، جو دوسرے افراد کے لئے ضروری و اہم ہوتی ہے.

بہت سارے ممالک میں لوگ خوراک، صابن، اور ٹوائلٹ پیپر خریدتے ہیں. اس کے لئے انہیں کسی قومی پالیسی کے ڈراؤنے خواب سے نہیں سامنا کرنا پڑتا جیسا کہ وینزویلا میں ہوتا رہا ( جہاں صابن اور ٹوائلٹ پیپر کے لئے بھی قومی منصوبہ بندی ہوتی تھی)
مگر فرض کیا کہ آپ کو وہ نتائج پسند نہیں جو مارکیٹ پیدا کرتی ہے جیسا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، تو سٹینڈرڈ معاشی نظریہ کہتا ہے کہ آپ کچھ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس لگائیں – اور یہ ٹیکس کے پیسے ان لوگوں کو دیں جو مارکیٹ میں مقابلہ سے پیچھے رہ گئے، اور مارکیٹ کو اپنا کام کرنے دیں.

ایک اور متبادل جو سینٹ تھامس آکیانوس نے پیش کیا تھا وہ یہ کہ قیمتوں کو انصاف پر مبنی ہونا چاہئے – معیشت کہتی ہے کہ یہ بہتر نظریہ نہیں – کیوںکہ قیمتیں معلومات کا نظام ہیں جو سپلائرز اور کسٹمر کے لئے محرکات پیدا کرتا ہے کہ انہوں نے کیا اور کتنا پیدا کرنا یا خریدنا ہے- ریاست کی طرف سے قیمتوں کو طے کرنے کی کوشش اس نظام کی ناکام کر دیتی ہے جس سے معشیت میں دائمی انحطاط آجاتا ہے.

وینزویلا میں just cost and prices کا قانون ہی اس کی وجہ ہے کہ کسان وہاں کاشتکاری نہیں کرتا – اسی وجہ سے زراعت کی پروسیسنگ کا کام کرنے والی کمپنیاں اپنا کام بند کر کے جا چکی ہیں – سادہ الفاظ میں، قیمتوں کو کنٹرول کرنے سے بلیک مارکیٹ کے لئے ترغیب پیدا ہوتی ہے کہ اس میں جائیں جو چاہیں چیزیں خریدیں یا بیچیں . اس قانون کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک ملک جس میں بہت وسیع و عریض قیمتوں کے کنٹرول کا نظام ہے وہ دنیا میں بلند ترین شرح مہنگائی رکھتا ہے- اسی طرح پولیس کی کوششوں میں بھی حد درجہ وسعت آگئی ہے کہ ان مینیجرز کو جیلوں میں ڈال دیا جائے جو اپنی اشیاء گوداموں میں رکھتے ہیں – اور سرحدیں بند کر دی گئی ہیں تاکہ سمگلنگ سے بچاؤ کیا جائے. قیمتوں کی سرکاری طور پر مقرر کرنا ایک ایسی تنگ گلی ہے جس کا انجام موت ہے- اس کے لئے آپ کو اشیاء پر سبسڈی دینی پڑتی ہے تاکہ چیزوں کی پیداوار پر کم خرچ آئے یوں اشیاء کی قیمتیں بھی کم رہیں.

یہ بلا وسطہ سبسڈی دینے کا نظام فورا پوری معشیت میں گندگی کا سبب بنتا ہے- وینزویلا میں بجلی اور گیسولین پر سبسڈی تعلیم اور صحت کے مجموعی بجٹ سے بھی زائد ہے.. وینزویلا میں روزانہ کی سرکاری طور پر مقررہ اجرت پر آپ مشکل سے 227 گرام گائے کا گوشت خرید سکیں گے، یا بارہ انڈے، مگر اس اجرت سے آپ 1000 لیٹر گیسولین یا 5100 KWH بجلی خرید سکتے ہیں جس سے پورے قصبہ کو بجلی دی جاسکتی ہے – (مگر دلچسب یہ بھی ہے کہ وینزویلا میں بھی بجلی کی شدید ترین لوڈ شیڈنگ ہے)- ایکسچینج ریٹ پر سبسڈی اپنے آپ میں ایک نیا معمہ ہے اگر آپ ایک ڈالر کو بلیک مارکیٹ میں جا کر بیچیں، وصول شدہ رقم سے گورنمنٹ کے مقرر شدہ ایکسچینج ریٹ پر آپ 100$ ڈالر خرید سکتے ہیں-

ان حالات میں آپ کو گورنمنٹ کی مقرر کردہ قیمتوں پر نہ اشیاء مل سکتی ہیں اور نہ ڈالرز- مزید یہ کہ جب سے گورنمنٹ کے پاس یہ استطاعت ختم ہوئی ہے کہ وہ قیمتوں کو کم رکھنے کے لئے انڈسٹریز کو ضروری سبسڈیز مہیا کرے، پیداوار میں شدید ترین کمی آئی ہے. یہ وینزویلا کے بجلی اور صحت کے سیکٹرز سمیت اور بہت سارے سیکٹرز میں ہو رہا ہے-

انڈائرکٹ (بلا واسطہ) سبسڈیز میں بھی تنزلی ہے. کیونکہ جو امیر ہے وہ غریب سے زیادہ خرچ کرتا ہے یوں اسے اس کا زیادہ فائدہ پہنچتا ہے – یہ اس کے لئے زیادہ موزوں ہے. یہ پرانی مروجہ دانائی کا ثبوت مہیا کرتا ہے کہ اگر آپ مارکیٹ کے نتائج میں تبدیلی چاہتے ہے تو بہتر یہ ہے کہ مارکیٹ یا سیکٹر کو نہیں بلکہ براہ راست لوگوں کو کیش کی شکل میں سبسڈی فراہم کریں.

ایک اور روایتی مروجہ دانائی یہ ہے کہ ریاستی ملکیت میں چلنے والے اداروں میں ایمانداری کی ترغیبات کا سٹرکچر اور ان میں بہتر و ضروری علم پیدا کرنا کہ وہ ان اداروں کو بہتر صورت میں چلا سکیں ایک بہت ہی مشکل کام ہے. اسی لئے صرف ضروری یہ ہے کہ ریاست کے پاس محدود تعداد میں اسٹریٹجک اہمیت کی فرمز یا سرگرمیاں ہوں جو مارکیٹ کے خطرات سے ماورا ہوں.

وینزویلا نے ان اصولوں کو مسترد کر دیا اور نجی سیکٹرز کو سرکاری تحویل میں ضبط کرنا شروع کر دیا- خاص طور پر جب 2006 کے بعد مرحوم صدر ہیوگوشاویز دوبارہ سے منتخب ہوئے تو انہوں نے زرعی فارمز، سپر مارکیٹس، بنکس، ٹیلی کامز، پاور کمپنیز، تیل پیدا کرنے اور سروس مہیا کرنے والی فرمز، اور مینو فیکچرنگ کمپنیاں جو سٹیل سیمنٹ کافی، دہی، ڈیٹرجنٹ، اور یہاں تک کہ شیشے کی بوتلیں بناتی تھیں انہیں بحق ریاست ضبط کر لیا گیا – ان تمام اداروں میں پروڈ کٹوٹی (تخلیقی صلاحیت ) تباہ کن حد تک گر گئی.

حکومتیں عموما اپنے کھاتوں کو متوازن کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں. جس سے وہ حد سے زیادہ مقروض ہو جاتی ہیں اور فنانشل مصائب پیدا ہوتے ہیں. ابھی تک حکومت کے کھاتوں میں مالیاتی امور کو ہوشیاری سے سر انجام دینا مروجہ حاشیات کا ایسا اصول ہے کہ جس پر بہت زیادہ تنقید ہوتی ہے. مگر وینزویلا ایک مثال ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب ہوشیاری پر تیوری چڑھانے کی نفسیات غالب آجاتی ہے اور مالیاتی معلومات کو ریاستی خفیہ رازوں کی طرح سمجھا جاتا ہے تو اصل میں کیا ہونا ہوتا ہے-

وینزویلا نے دو ہزار چار سے تیرہ کے دوران تیل کی قیمتوں کے عروج سے یہ کام لیا کہ اپنے بیرونی قرضوں کو پانچ گنا تک بڑھایا دیا. سنہ 2013 میں جب وینزویلا کے بے اعتدال قرضوں نے اسے بین الاقوامی کپیٹل مارکیٹ سے باہر نکال پھینکا تو اس کے بعد ریاست نے پیسے چھاپنے شروع کر دیئے . اس سے پچھلے تین سالوں میں کرنسی اپنی 98 فیصد ویلیو سے محروم ہو چکی ہے. جب 2014 میں تیل کی قیمتیں گر گئیں تو ملک اس قابل نہیں تھا کہ کسی سہارے پر کھڑا ہو سکے- ملکی پیداوار اور امپورٹ کرنے کی صلاحیت تباہ کن حد تک گر چکی تھی. جس نے موجودہ سنگین بحران کو جنم دیا.

اکنامکس جن مروجہ اصولوں پر قائم ہے اسے ہم نے تاریخ کے تکلیف دہ اسباق سے سیکھا ہے. جس کا خلاصہ ہم سمجھتے ہیں کہ درست ہے مگر ایسا بھی نہیں ہر چیز پرفیکٹ ہے. ترقی کا تقاضا ہے کہ غلطیوں کی نشاندہی کی جائے اس کے بعد ہمیں ان کے حل میں نئے خیالات کی ضرورت ہوتی ہے. مگر اس وقت سیکھنا بہت مشکل ہوتا ہے جب اعمال اور نتائج کے درمیان ایک طویل مدت پائی جاتی ہو- یہ ایسا ہی ہے جب آپ شاور لے رہے ہوں اور ساتھ میں پانی کے ٹمپریچر کو منظم کرنے کی بھی کوشش کریں (جو یقیناّ پہلے کرنے کا کام ہے)، جب رد عمل کا وقت کم ہو – نئے خیالات کی تلاش ضروری ہے مگر انتہائی ہوشیاری کی متقاضی بھی ہے. جب آپ تمام مروجہ اصولوں کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیں گے تو آپ چین کے ثقافتی انقلاب کی طرح تباہی دیکھیں گے اور آج اس کی مثال وینزویلا ہے.


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan