گورنر پنجاب: برادری ازم سے دوست نوازی تک


ووٹ کا حق ہر بالغ کو مل جاتا ہے۔ بات سمجھنے کیلئے ذہنی بلوغت چاہئے۔ کھڑی شریف کے عارف ”خاصاں دی گل عاماں اگے“ کہنے کو اسی لئے مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ ہم ابھی تک برادریوں کے چنگل سے باہر نہیں نکل سکے۔ پھر اس چنگل میں گرفتارہمارا ذہن برادری ازم کے خلاف کوئی معقول بات سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ 1934ءمیں لاہور اچھرہ میں امیدوار صوبائی اسمبلی حکیم الامت علامہ اقبالؒ سے ایک ووٹر نے پوچھا تھا۔ ” آپ کشمیری ہوتے ہیں یا ارائیں “؟ہم ابھی تک 1934ءہی میں کھڑے ہیں۔

کالم نگار بھی ایک ملاقات میں چوہدری محمد سرور گورنر پنجاب سے اپنے سوال میں یہی کچھ پوچھ رہا تھا۔ کالم نگار کا سوال تھا: ”آپ کو جھٹ سے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میرا ملاقاتی ارائیں ہے یا نہیں‘ ‘؟ شرارت آمیز سوالات کا جواب ایک مسکراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ سو انہوں نے ایک مسکراہٹ سے ہی اس سوال کا جواب دیا۔ کئی باتیں شعور سے ہوتی ہوئی لاشعور میں ٹھہرجاتی ہیں۔ آدمی لاشعوری طور پر ان پر عمل پیرا ہوتا رہتا ہے۔ کیا ایک عرصے تک برٹش پارلیمنٹ کے ممبر رہنے والے یہ ارائیں سیاستدان اب پاکستان میں برادری ازم سے باہر رہ کر سیاست کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ان کی سفارش اور تردد سے گوجرانوالہ میں جی ڈی اے، واسا اور پی ایچ اے تینوں اہم سرکاری اداروں کی سیادت ایک شیخ خاندان کے دو افراد کے سپرد کرنے میں یہی مصلحت کار فرما ہے؟

کیا برطانوی سیاست میں پروان چڑھنے والے چوہدری صاحب یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ پاکستانی سیاست کے بازار میں صرف پاکستانی کرنسی چلتی ہے؟ ہماری جمہوریت کے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ یہ ہم نے خود گھڑے ہوئے ہیں۔ اس فہرست میں ”اپنی برادری“ سر فہرست ہے۔ گوجرانوالہ میں تعداد کے لحاظ سے شیخ برادری کا نمبر ارائیں ، مغل ، انصاری اور کشمیری برادری کے بعد آتا ہے۔ ادھر برادری ازم کا تعصب بہت طاقتور ہے۔ کوئی سیاسی جماعت انتخابی ٹکٹ جاری کرتے ہوئے اسے نظر انداز نہیں کر سکتی۔ ہاں جماعت اسلامی ایسا کر سکتی ہے۔ وہ شاید الیکشن جیتنے کے لئے الیکشن لڑتی ہی نہیں۔ اسی لئے ان کے کارکن یہ جماعت چھوڑ کر ہی پاکستان کی انتخابی سیاست میں پھلتے پھولتے ہیں۔ کوثر نیازی سے لے کر میاں محمود الرشید تک بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ 2018ءکے الیکشن میں تحریک انصاف کے پاس گوجرانوالہ میں خرم دستگیر کے مقابلہ کیلئے کوئی موزوں امیدوار نہیں تھا۔ تبدیلی کے نظریہ سے محبت کرنے والوں کے لئے یہ تلخ حقیقت بہت پریشان کن تھی۔

اسی لئے کالم نگار چوہدری سرور کے ہاں پہنچا تاکہ انہیں خرم دستگیر کے مقابلہ میں الیکشن لڑنے پر آمادہ کر سکے۔ چوہدری صاحب یہ تجویز سن کر بولے۔ ” آپ کی تجویز بہت اچھی ہے۔ لیکن آپ مجھ تک رابطہ کرنے میں لیٹ ہو گئے ہیں۔ اب میں لاہور شاہدرہ کے حلقہ سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر چکا ہوں“۔ اس مرحلہ پر یہ دہرانے کی ضرورت نہیں کہ گوجرانوالہ میں خرم دستگیر کے مقابلہ میں موزوں امیدوار کے طور پر چوہدری صاحب کا انتخاب صرف ان کے ارائیں ہونے کی وجہ سے تھا۔ ورنہ ایک عمر برطانیہ میں گزار کر آنے والے اس سیاستدان کا شہر گوجرانوالہ میں کیا اثر رسوخ ہو سکتا تھا۔ جبکہ ادھر ان کا کوئی گھر ٹھکانہ، کاروبار، کچھ بھی تو نہیں۔ بہر حال خرم دستگیر کے مقابلہ میں ایک اور ارائیں امیدوار لایا گیا کہ اس حلقہ میں یہ پہلو نظر انداز نہیں ہو سکتا تھا۔ خرم دستگیر کے مقابلہ میں نوے ہزار کے قریب ووٹ حاصل کرنے والے یہ ارائیں امیدوار مہر محمد صدیق پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے لیٹ فیصلہ کے باعث بہت متاثر ہوئے۔

پھر شہر میں برادری ازم کا خیال رکھے بغیر ارائیں برادری کے دونوں صوبائی اسمبلی کے امیدوار چوہدری محمد علی اور مہر سرفراز نظر انداز کر دیئے گئے۔ اس حماقت کی سزا تحریک انصاف کے مقامی امیدوار قومی اسمبلی علی اشرف مغل کو بھگتنی پڑی۔ اب اسی سوراخ سے مومنین کے دوبارہ ڈسے جانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ انہی دنوں کالم نگار نے اپنے ہفتہ وار کالم میں ہاکی میچ میں ایک کپتان سے ایک تماشائی کا مکالمہ لکھا تھا۔ مکالمہ یوں تھا: ایک ہاکی میچ کے اختتام پر ایک تماشائی ہارنے والی ٹیم کے کپتان سے بولا۔ ”آپ کا آج کا ”شاندار“کھیل مدتوں یاد رکھا جائیگا“۔ کپتان شرمندہ سا ہو کر بولا۔ ” لیکن آج تو میں کوئی خاص اچھے کھیل کا مظاہرہ نہیں کر سکا“ تماشائی نے جواب دیا۔ ”میرا مطلب ہے کہ آج آپ نے اپنے کھیل سے جس طرح مخالف ٹیم کو میچ جیتنے میں مدد دی ہے ، ہاکی کی تاریخ میں اسے مدتوں نہیں بھلایا جاسکے گا“۔

گوجرانوالہ ایک ن لیگی شہر ہے۔ 2014کے لانگ مارچ میںعمران خان کا لاہور سے اسلام آباد پہنچتے ہوئے ہر شہر میں پرتپاک استقبال ہوا۔ صرف گوجرانوالہ میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔ اسی واقعہ سے یہاں کے ن لیگی کارکن پومی بٹ کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ پچھلے ہی دنوں چوہدری سرور کی سینٹ کی خالی کی گئی نشست پر دوبارہ الیکشن ہواہے۔ تحریک انصاف نے یہ سیٹ جیت ضرور لی لیکن کامیابی کا مارجن بہت کم رہا۔ مقابلہ بہت سخت ہوا۔ تحریک انصاف کے پاس اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ جیتی ہوئی بازی ہارنے کیلئے ایک غلطی کافی ہوتی ہے۔ اب اسی’ ناخوشگوار واقعہ ‘ والے شہر میں بہت تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ انہی بدلتے حالات پرگوجرانوالہ کے پنجابی شاعر مستری عبداللہ کا شعر یاد آگیا :

             ہُن غور کراں گے الفت تے ہن اک دوجے نوں سمجھاں گے

             کجھ تیریاں لشکاں گھٹیاں نیں کجھ اساں وی سُرت سنبھالی اے

ترجمہ : اب ہم اپنی محبت پر غور کرینگے۔ اک دوسرے کو نئے سرے سے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ کچھ تو میرے محبوب کی چمک دمک بھی ماند پڑ گئی ہے اور کچھ ہمیں بھی ہوش آتی جارہی ہے۔ چند روز پہلے شہر کے مرکز میں ایک ن لیگی سیاستدان کے پٹرول پمپ کو گرا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس پٹرول پمپ کی وجہ سے شہر کے اوور ہیڈ برج کی لمبائی کم رکھنی پڑی تھی۔ ایک فرد کیلئے شہر کا کتنا نقصان ہوا، اس کا اندازہ شہریوں کو ہر روز ہوتا ہے۔ اب شہری یہ جان کر بہت حیران ہیں کہ 1986ء سے اس پٹرول پمپ کی زمین کی لیز کی تجدید نہیں ہوئی تھی۔ گویا یہ پٹرول پمپ 1986ء سے غیر قانونی تھا۔

مسلم لیگ (ن ) صنعتکاروں اور تاجروں کی جماعت ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں ضلع بھر سے ن لیگ نے قومی و صوبائی اسمبلی کی تمام نشستیں جیتی ہیں۔ ضلع کونسل ، میونسپل کارپوریشن اور تمام ٹاﺅن کمیٹیوں پر بھی ن لیگ ہی کامیاب ہوئی ہے۔ اب اسی شہر میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حالیہ الیکشن میں تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن ملک ظہیرالحق کے گروپ کی کامیابی موسم کی تبدیلی کی خبر دے رہی ہے۔ دوسری طرف اس بدلتے ہوئے موسم میں شہر میں تین اہم اداروں کی سربراہی کیلئے ایک برادری سے ایک ہی خاندان کو نوازنے سے کالم نگار کو وہی ہاکی کے شکست خوردہ کپتان سے تماشائی کا مکالمہ یاد آرہا ہے۔ سمجھ سکو تو ٹھکانے کی بات کرتا ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں