کیا پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کی وجہ صرف چینی قرضے ہیں؟

عارف شمیم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن


پاکستان

Getty Images
پاکستان کی ٹیکسٹائل کی صنعت بھی بجلی کے بحران کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی موجودہ اقتصادی حالت کی ذمہ داری ایک حوالے سے چین سے لیے ہوئے قرضوں پر بھی ہے۔

انھوں نے جمعرات کو اپنی ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ‘میرے خیال میں پاکستان جس صورتحال میں ہے اس کی ایک وجہ چین سے لیا ہوا قرضہ ہے اور اس قرضے کے حوالے سے پاکستانی حکومتوں کا خیال ہو گا کہ اس سے نکلنا اتنا مشکل نہیں ہو گا لیکن یہ مشکل ہو گیا ہے۔’

یہ بھی پڑھیئے

’پاکستان جن حالات میں ہے اس کی وجہ چینی قرضہ ہے‘

پنیر ہی پاکستان کو آئی ایم ایف سے بچا سکتا ہے؟

مالیاتی بحران: حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ

تو کیا واقعی پاکستان کی موجودہ حالت کے ذمہ دار چینی قرضے ہیں؟ اس حوالے سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے اقتصادیات کے ماہر اور سکالر مجید شیخ اور نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر اور چیف ایگزیکیٹیو آفیسر سعید اصلاحی سے بات کی اور جاننا چاہا کہ امریکی دعوے میں کتنی صداقت ہے۔

مجید شیخ، اقتصادی امور کے ماہر اور سکالر

‘آئی ایم ایف میں 25 فیصد شیئر امریکہ کا ہے اس لیے ہر کام میں ان کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس میں پاکستان کا بھی حصہ دو اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔ اس لیے ایسی کوئی بات نہیں کہ یہ کوئی امریکی ادارہ ہے اور وہ جو چاہے کرے۔ یہ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے۔

‘آئی ایم ایف کی سود کی شرح یا ریٹ آف انٹرسٹ بہت کم ہوتا ہے، تقریباً ایک فیصد۔ وہ قرضوں کی واپسی میں زیادہ سے زیادہ چار سال تک کی چھوٹ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف صورت حال کو دیکھتے ہوئے ان کا قرضوں کی واپسی کا عرصہ بھی بہت لمبا ہوتا ہے جو کہ دس سے بیس سال تک ہوتا ہے۔ اس کے برعکس چینی قرضے ساڑھے چار فیصد سے آٹھ فیصد تک جاتے ہیں۔ ان میں صرف ایک سال کی چھوٹ ہوتی ہے اور قرضوں کی ادائیگی کا عرصہ بہت کم ہوتا ہے۔ اسی لیے چینی قرضہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔

ڈالر

Getty Images
ڈالر کا ریٹ روپے کے مقابلے میں بڑی تیزی سے بڑھا ہے

‘اورنج لائن اور سی پیک جیسے پراجیکٹس کے قرضے بڑے مہنگے ثابت ہوئے ہیں اور اس طرح کے پراجیکٹس کی ‘مینٹیننس کاسٹ’ یا دیکھ بھال کی لاگت بہت زیادہ ہوتی ہے جو کہ شرح سود سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے اور یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ ان بڑے منصوبوں سے ہم کتنا اور کب کمائیں گے۔ اس لیے امریکی کی بطور آئی ایم ایف کے میجر شییر ہولڈر سوچ بالکل درست ہے کہ وہ قرضہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر دیں گے۔

‘امریکہ پاکستان کی درخواست رد نہیں کر سکتا لیکن وہ اسے دیکھے گا ضرور۔ وہ شرائط رکھ دیں گے مثلاً ٹیکس اکٹھا کرنے کو بہتر بناؤ کیونکہ دنیا میں سب سے کم ‘ٹیکس کولیکشن’ پاکستانیوں کی ہے، منی لانڈرنگ کو روکو، کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے میں بہتری لاؤ، ایسے اقدامات کرو جس سے برآمدات بڑھیں۔

‘ہمیں اپنی برآمدات بڑھانی پڑیں گی، جو چیزیں ہم درآمد کرتے ہیں ان کو ملک میں بنانا پڑے گا، ذراعت میں انقلابی تبدیلیاں لانا پڑیں گی، شدت پسند عناصر سے درست طریقے سے نمٹنا ہو گا، کرپشن کم کرنا پڑے گی، صرف گوڈ گورننس سے ہی سب ٹھیک ہو گا اور یہ ممکن ہے۔’

سعید اصلاحی، سابق صدر نیشنل بینک آف پاکستان

‘امریکہ پاکستان کا قرضہ نہیں رکوائے گا نہ ہی اس کی یہ خواہش ہے۔ لیکن اصل مسئلہ ہے وہ قرضے جو پاکستان نے چین سے لیے ہوئے ہیں۔ وہ بہت بڑی شرح یا ہائی ریٹ پر لیے گئے ہیں۔ اور ان کی اضافی فائنانسنگ بھی بہت زیادہ ہے شاید ساڑے آٹھ فیصد کے قریب۔ اب امریکہ کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اتنے بھاری قرضوں اور اتنے زیادہ ریٹ کے ساتھ پاکستان کی ‘ڈیبٹ سروسنگ’ یا قرضوں اور سود ادا کرنے کی صلاحیت پر فرق پڑتا ہے۔

پاکستان

Getty Images
پاکستان میں مہنگائی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ بھی ناقص اقتصادی پلاننگ بتائی جاتی ہے

‘دوسری بات ہے کہ اگر آپ نے قرضے بہت زیادہ شرح پر لیے بھی ہیں تو اب ان قرضوں کو ریشنلائز کریں۔ ان سے بات کریں کہ یہ قرضے بہت مہنگے ہیں ان کا ریٹ کم کیا جائے تاکہ ہماری قرض ادا کرنے کی صلاحیت بہتر ہو سکے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کا جو اعتراض ہے اس میں بڑا وزن ہے۔

‘دیکھیں پاکستان کا جو اس وقت ڈیٹ لیول یا قرض کی سطح ہے وہ کوئی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ ہمارا ڈیٹ لیول 75 اور 70 کی رینج میں ہے۔ کئی ملکوں کا جس میں پسماندہ ممالک بھی شامل ہیں ان کا ڈیٹ ریٹ بہت زیادہ ہے۔ لیکن ہماری قرضے کو سروس یا ادا کرنے کی صلاحیت بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری برآمدات نہیں بڑھ رہیں اور ہم نے اس کی طرف توجہ بھی نہیں دی اور مہنگے قرضے لیے۔ ہمارا ڈیٹ لیول یونان کے مقابلے میں بہت کم ہے ان کا تقریباً 300 فیصد تھا۔ اس کی سب سے بڑی مثال جاپان ہے جس کا ڈیٹ لیول تقریباً 250 فیصد کے قریب ہے۔ مسئلہ زیادہ قرضوں کا نہیں انھیں ادا کرنے کی صلاحیت کا ہے۔

‘آئی ایم ایف کا قرضہ بنیادی طور پر بیلنس آف پیمنٹ (ادائیگی کے توازن) کے لیے ہوتا ہے۔ بیلنس آف پیمنٹ کی مشکلات اس وقت ہی دور ہوں گی جب ہماری برآمدات بڑھیں گی اور ہماری قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت میں بہتری آئے گی۔ جو ابھی نہیں ہو رہا۔

‘جان بوجھ کر اپنی ‘کک بیکس’ کے لیے خراب قرضے لیے گئے ہیں۔ اگر ہماری برآمدات بڑھتی رہیں اور ہماری منڈیوں میں مقابلے کی صلاحیت بہتر ہو جائے تو ہم اسے قرض کو ‘مینج’ کر سکتے ہیں۔ پاکستان اس پوزیشن میں آ سکتا ہے کہ وہ قرضے واپس کر سکے۔’

سابق حکومت کیا کہتی ہے؟

تاہم منصوبہ بندی کے سابق وزیر احسن اقبال نے امریکہ کی اس بات کو رد کیا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقتصادی مسائل کا ذمہ دار چین کا قرضوں کا جال ہے۔

انھوں نے کہا اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ‘ہمارے IMF کے پاس جانے کی وجہ سی پیک یا چینی قرضے نہیں ہیں چونکہ ان کی ادائیگی 2022 کے بعد زیادہ سے زیادہ 2 ارب ڈالر سالانہ ہو گی۔ ہماری مشکل کی وجہ توانائی کے منصوبوں اور معیشت میں ترقی کی بدولت درآمدات میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری میں سیاسی بحران کی وجہ سے کمی اور ناتجربہ کار حکومت ہے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5969 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp