خلائی مخلوق کی تلاش: دس دلچسپ حقائق


Milky Way at New Mexico

Getty Images

اس کائنات میں ہمارے علاوہ کیا کوئی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جس کا جواب انسان نے صدیوں معلوم کرنے کی کوشش کی ہے اور سائنسدان اس کے مناسب جواب کی تلاش میں لگے رہے ہیں۔

لیکن اب ایک چیز جان لیں، اگر خلا میں کوئی مخلوق ہے، تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ ’سازگار خطے‘ میں ملے گی۔ سازگار خطہ کسی ستارے کے گرد اس علاقے کو کہا جاتا ہے جہاں نہ بہت گرمی ہو اور نہ بہت ٹھنڈ۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ناسا کی دوربین خلائی مخلوق کا سراغ لگا پائے گی؟

دور دراز دنیاؤں کا کھوج لگانے والا مشن خلا میں روانہ

زمین کے حجم کا ایک ٹھنڈا سیارہ دریافت

بڑے سیارے کی دریافت پر ماہرین حیران

Full moon with visible surface

Getty Images

1 چاند کے باسی

خلائی مخلوق کی زندگی کے ساتھ ہماری دلچسپی گلیلیو کی نئی دوربین کے بعد شروع ہوئی جس سے ہمیں 17 ویں صدی کے آغاز میں آسمانوں میں دیکھنے کی سہولت ملی۔

شروع میں چاند پر نظر آنے والے دھبوں کو سمندر سمجھا گیا! اور یہ خیال کیا جاتا رہا کہ شاید ان میں جاندار پائے جاتے ہیں۔

لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ یہ دھبے سمندر نہیں ہیں بلکہ چاند کی سطح پر شہابِ ثاقب کے ٹکرانے سے وجود میں آنے والے گڑھے ہیں۔

Sunrise in Mars

Getty Images

2 طویل قامت مریخی باشندے

ماہر فلکیات ولیم ہرشل نے سنہ 1870 کی دہائی میں کہا تھا کہ سرخ سیارے یعنی مریخ پر رہنے والے مریخی باشندے انسانوں کے مقابلے میں طویل ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے زیادہ طاقتور دوربینوں کو استعمال کرتے ہوئے مریخ کے حجم کے ساتھ ساتھ اس کے موسم اور دنوں کی لمبائی کا تخمینہ لگایا۔

ولیم ہرشل کا کہنا ہے کہ سرخ سیارہ ہمارے سیارے کے مقابلے میں چھوٹا ہے، چنانچہ اس میں کم کشش ثقل ہے، جس کا مطلب ہے کہ مریخ کے باسیوں کے قد لمبے ہوں گے۔

The solar system in a line - from the Sun all the way to Neptune

Getty Images

3 برتر زحل

مشہور جرمن فلاسفر ایمانوئل کانٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ خلائی مخلوق کی ذہانت کا تعلق اس کے سورج سے فاصلے پر منحصر ہے۔ چونکہ عطارد سورج سے قریب ہے اس لیے اس کے باسی احمق جب کہ زحل (کانٹ کے زمانے میں دریافت شدہ سب سے دور سیارہ) کے باشندے انتہائی ذہین ہوں گے۔

Galileo demonstrating his how to operate his telescope to some 17th Century contemporaries

Getty Images

4 خلائی مردم شماری

سکاٹ لینڈ کے ایک پادری اور سائنس کے استاد ٹامس ڈک نے سنہ 1848 میں نظام شمسی کے اندر رہنے والی خلائی مخلوق کی تعداد کا حساب لگانے کی کوشش کی۔

انھوں نے پیش گوئی کی کہ اگر نظامِ شمسی کے تمام سیارے اتنے ہی گنجان آباد ہوں جتنا اس وقت کا انگلستان تھا، تو 280 افراد فی مربع میل کے حساب سے شمسی نظام کی کل آبادی 22000 ارب ہونی چاہیے۔

Close up of Europa, one of the moons of Jupiter, 1979.

Getty Images

5 چاند پر زندگی

نظام شمسی میں زندگی کو تلاش کرنے کے لیے بہترین جگہ ممکنہ طور پر مریخ جیسے قریبی سیاروں پر نہیں ہو سکتی بلک دور بسنے والے ایسے چاندوں پر ہو سکتی ہے جیسے کہ یوروپا (جو مشتری کے گرد گھومتا ہے) اور اینسلاڈس (زحل کا ایک چاند)۔

ان دونوں چاندوں پر مائع سمندر پایا جاتا ہے۔

ممکنہ طور پر وہاں اندرونی حرارت پیدا کرنے کا کوئی نظام پایا جاتا ہے جس سے یہ سمندر اندر سے مائع حالت میں ہیں۔

Close up of Europa, one of the moons of Jupiter, 1979.

Getty Images

6 دور کی دنیائیں

خلائی ماہرین کا تخمینہ ہے صرف ہماری کہکشاں میں زمین جیسے 40 ارب سیارے موجود ہو سکتے ہیں۔ اب تک ان میں سے 3800 کے قریب سیارے دریافت کیے جا چکے ہیں، تاہم اگر آپ پوری کہکشاں کی پیمائش کریں گے تو اس میں اربوں سال لگ سکتے ہیں۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پائے جانے والے سارے کے سارے سیارے بنجر نہیں ہو سکتے اور کہیں نہ کہیں زندگی موجود ہونے کا امکان ہے۔

Burning sky and the panoramic view of the frozen Abraham Lake, Alberta, Canada at sunset. Stacks of bubbles trapped inside the lake look amazing.

Getty Images

7 زندگی کے آثار

لیکن دوربین سے دور دراز واقع سیاروں پر موجود زندگی کے آثار کیسے معلوم کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ دوربینیں اتنی طاقتور نہیں ہیں کہ دوسرے نظام ہائے شمسی کے سیاروں کی تصویر لے سکیں؟

ایک طریقہ ایسی گیسوں کا کھوج لگانا ہے جو جاندار پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر زمین کی فضا میں پائی جانے والی میتھین کا بڑا حصہ جانوروں کا پیدا کردہ ہے۔

The universe - billions of bright stars, blue and purple, on a dark background

Getty Images

8 سازگار خطہ

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زندگی کی تلاش کے لیے کسی ستارے کے گرد گھومنے والے ان سیاروں پر توجہ مرکوز کی جائے جو ایسے سازگار خطے میں آتے ہیں جو نہ زیادہ گرم ہو اور نہ زیادہ ٹھنڈا۔ ہماری زمین سورج کے گرد ایسے ہی خطے میں گردش کر رہی ہے۔

سائنس دانوں نے ہم سے قریب ترین ستارے پراکسیما سینٹوری کے گرد ایک ایسے ہی مدار کا پتہ چلایا ہے جہاں ایک سیارہ گھوم رہا ہے۔

Cosmologist Stephen Hawking on stage at the New Space Exploration Initiative 'Breakthrough Starshot' - in New York City, 12 April 2016.

Getty Images

9 شمسی بادبان

خلا میں طویل سفر کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔ ایک انوکھا منصوبہ شمسی بادبان والے انجن کا ہے جو سورج سے خارج ہونے والی شمسی ہواؤں کے زور پر اسی طرح سے اڑ سکتا ہے جیسے بادبانوں والے بحری جہاز سمندر میں سفر کرتے ہیں۔

ایسے انجن والے جہاز اپنی رفتار بتدریج تیز کرتے رہتے ہیں اور بالآخر روشنی کی رفتار کے 20 فیصد تک پہنچ سکتے ہیں۔

شمسی بادبان والے خلائی جہاز کو نزدیک ترین ستارے پروکسیما سینٹوری تک پہنچنے تک 20 سال لگیں گے، تاہم یہ ستارہ چونکہ زمین سے چار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، اس لیے وہاں سے ایک طرف کا سگنل آنے میں چار سال کا وقت درکار ہو گا۔

Supermassive black hole at the Milky Way Galactic Center

Getty Images

10 ذہین خلائی مخلوق

یہ تو عین ممکن ہے کہ کائنات میں کہیں نہ کہیں زندگی موجود ہو، لیکن اکثر ماہرین کے مطابق یہ زندگی بہت ابتدائی اور سادہ شکل میں ہو گی، جیسے زمین پر جراثیم وغیرہ۔

لیکن کیا کہیں انسان کی طرح یا انسان سے زیادہ ذہین خلائی مخلوق کا وجود ہو سکتا ہے اور اگر ہوا تو وہ کس ہیئت میں ہوں گے؟

زمین پر انسان کی ثقافت کی عمر دس ہزار برس سے زیادہ نہیں ہے، جب کہ جدید سائنس کی ابتدا صرف چند صدیاں قبل ہوئی۔ لیکن اگر کائنات میں کہیں ذہین مخلوق موجود ہوئی تو وہ ممکنہ طور پر انسانوں سے لاکھوں یا کروڑوں برس زیادہ ترقی یافتہ ہو گی۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ حیاتیاتی وجود پر انحصار نہ کرتے ہوں اور مکمل طور پر روبوٹوں کا روپ دھار چکے ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر انھیں کسی سازگار خطے میں رہنے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔

البتہ توانائی حاصل کرنے کے لیے پھر بھی انھیں کسی ستارے یا پھر بلیک ہول کے قریب رہنے کی ضرورت پڑے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5732 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp