شاہ خرچ شہزادہ، بادشاہ اور ٹرمپ


شہزادہ امریکہ میں سفیر مقرر ہوا تو سفارت کاری کی تاریخ میں تو کوئی معجزہ برپا نہ ہوا مگر خریداری کی دنیا میں انقلاب ضرور آ گیا۔

اٹھائیس برس کا نوجوان جو پائلٹ تھا امریکہ جیسے ملک میں سفیر مقرر ہوا۔ یہ وہ ملک ہے جس میں سفارت کاری کے لیے ان افراد کو تعینات کیا جاتا ہے جن کے سر کے بال اڑ چکے ہوتے ہیں۔ بھویں تک، سفارت کاری کے شعبے میں کام کرکے سفید ہو چکی ہوتی ہیں۔ جن کے بیسیوں سفیروں سے ذاتی تعلقات ہوتے ہیں، مگر آہ! اگر کوئی حکمران اعلیٰ کا بیٹا ہو تو پھر سارے معیار منسوخ ہو جاتے ہیں۔

شہزادے نے آتے ہی ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر کا محل خریدا جو واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقع ہے۔ اسی لاکھ ڈالر اس کے علاوہ خرچ کیے ۔ سفر کے لیے وہ 767 لگژری جیٹ استعمال کرتا ہے۔ والد گرامی کے اثاثوں کی قیمت سترہ ارب ڈالر ہے۔ شہزادے نے ایک سفر میں پانچ سو چھ ٹن سامان ساتھ رکھا۔ اس سامان میں دو مرسڈیز کاریں اور برقی سیڑھیوں کے دو سیٹ بھی شامل تھے۔

یہ محل، جس میں آٹھ بیڈ روم ہیں اور جو سفیر بننے سے دو ماہ پہلے ڈھونڈ لیا گیا، شہزادے کو اس وقت پسند آیا جب وہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں طالب علم تھا۔ دو ماہ بعد دنیا نے دیکھا کہ وہ سفیر مقرر ہو چکا تھا۔ اس محل کے اندر تھیٹر ہے۔ کھیلوں کے میدان ہیں۔ سوئمنگ پول ہے جس کے آگے پیچھے نظروں کو خیرہ کرنے والے ستون اور برآمدے ہیں۔ سفر کرنے کے لیے جو جہاز لیا جاتا ہے اس کا کرایہ تیس ہزار ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ اس جیٹ جہاز میں 63 نشستیں ہیں۔ دفتر ہیں اور بہت بڑا بیڈ روم ہے۔ ساڑھے چھ کروڑ ڈالر اس جہاز کی قیمت ہے۔

بادشاہ سلامت گزشتہ سال جب بالی کے جزیرے میں تفریح کے لیے تشریف لے گئے تو چار سوساٹھ ٹن سامان ہمراہ تھا۔ وفد میں چھ سو بیس افراد تھے۔ آٹھ سو مندوب اس کے علاوہ تھے جن میں دس وزیر تھے اور پچیس شہزادے۔ جکارتہ کے لیے ستائیس پروازوں اور وہاں سے بالی کے لیے 9 پروازوں میں یہ سب کچھ پہنچا۔ انڈونیشین پولیس کے اڑھائی ہزار نوجوان پہرے پر مقرر تھے۔ اخراجات کا محتاط تخمینہ تین کروڑ ڈالر تھا۔

کچھ عرصہ پہلے بادشاہ سلامت نے فرانس میں تفریح منانے کا پروگرام بنایا۔ ایک طویل ساحل (بیچ) ان کے لیے مخصوص کیا گیا جہاں فرانسیسی عوام کے جانے پر پابندی لگا دی گئی۔ لاکھوں فرانسیسیوں نے تحریری درخواست کے ذریعے احتجاج کیا تو تعطیل کا پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔

جب تفریح کا یہ معیار ہو، جب کاریں خالص سونے کی ہوں، جب ہوائی جہازوں کے اندر محلاتی خواب گاہیں دالان، غلام گردشیں اور بارہ دریاں ہوں، جب پورے پورے جزیرے خرید لیے جائیں تب عزت کا گراف اوپر نہیں نیچے کا رخ کرتا ہے اور مسلسل گرتا ہے۔ یہاں تک کہ امریکی صدر اپنے عوام کو جلسہ عام میں خوش خبری دیتا ہے کہ ”میں نے بادشاہ کو بتا دیا کہ امریکہ تمہارے سر پر سے ہاتھ اٹھالے تو دو ہفتے بھی تمہاری حکومت زندہ نہ رہ سکے۔ ‘‘

یہ ہے اس نشاۃ ثانیہ کا اصل چہرہ جس نے پورے عالم اسلام کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا ہے۔ دنیا بھر کو فتح کرنے کا خواب، کبھی لال قلعے پر اور کبھی وائٹ ہاؤس پر پرچم لہرانے کا دعویٰ۔

دوسروں کو کافر قرار دینے کی فیکٹریاں دن رات چل رہی ہیں۔ فخر سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ”خودکش جیکٹ‘‘ ہماری ایجاد ہے۔ اپنے عوام کو تزک و احتشام دکھانے والوں، سجدہ ریز ہونے کے لیے حرم کی حدود کے اندر محلات بنانے والوں کی حقیقت کیا ہے؟ جھاگ! جو فوراً بیٹھ جائے، ریت! جو ایک ہی ریلے میں بہہ جائے، عکس! جو آئینے پر پانی کے دو قطرے پڑنے سے دھندلا جائے۔ امریکی صدر کا ایک فقرہ اور شان و شوکت تزک و احتشام جاہ و جلال دھڑام سے نیچے آ گریں۔

اور امریکی صدر کے پاس کیا ہے؟ یہ دھمکی اس نے اس لیے نہیں دی کہ اس کے غسل خانوں کے دروازوں کے ہینڈل اور پانی کھولنے اور بند کرنے کی ٹونٹیاں سونے کی بنی ہیں۔ اس امریکی صدر کی بہشت پر صدیوں کی محنت شاقہ ہے جو امریکی عوام نے کی ہے۔ وہ درجنوں امریکی سربراہ ہیں جو عوام سے تھے اور اقتدار سے ہٹنے کے بعد پھر عوام میں واپس آ جاتے تھے اور آ جاتے ہیں۔ وہ نظام ہے جو صدر کو اس لیے کٹہرے میں کھڑا کردیتا ہے کہ اس نے عوام سے جھوٹ بولا۔ وہ عدالتیں ہیں جن پر کوئی حکمران حکم نہیں چلا سکتا۔ انتخابات کا وہ مستحکم نظام ہے جو چار سال بعد حکمران کو تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے جو دوبار سے زیادہ کسی کو صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

جو قوم ہوائی جہاز ایجاد کرے، جو پوری دنیا کے بہروں کو آلہ سماعت کا تحفہ دے جس نے انٹرنیٹ، ای میل اور موبائل فون ایجاد کیے ، پہلا کمپیوٹر بنایا۔ راستہ ڈھونڈنے کا آلہ (جی پی ایس) ایجاد کیا۔ اسی کا سربراہ ایسی دھمکیاں دے سکتا ہے۔ پچپن مسلمان ملکوں کے سربراہ اور عوام یہ دھمکی سن کر، دبک کر، بیٹھ گئے۔

لیزر پرنٹر، ڈیجیٹل کیمرہ، خلائی شٹل، تھری ڈی پرنٹنگ، آنکھوں کے اندر لگائے جانے والے لینز، وائی فائی، جگر کی پیوندکاری، فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب، آئی فون، کیا ہے جو امریکہ نے دنیا کو نہیں دیا۔
آپ امریکی نظام کا استحکام دیکھیے کہ یونیورسٹیوں نے جو تاریخیں داخلے کی، امتحانات کی، فارغ التحصیل ہونے کی مقرر کیں وہ صدیوں سے جوں کی توں ہیں۔ کبھی تبدیل نہیں ہوئیں۔

ہمارے مقدس ترین شہر کے ہوائی اڈے پر مسافر قطار میں کھڑے تھے۔ اپنے اپنے پاسپورٹ دکھا کر بورڈنگ کارڈ لے رہے تھے۔ ایک شخص دمکتی عبا پہن کر آتا ہے اور سیدھا کاؤنٹر پر جا کر سب سے پہلے بورڈنگ کارڈ لیتا ہے۔ ایک مسافر احتجاج کرتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ عبا والا فلاں خاندان سے ہے۔ خاموش ہو جاؤ ورنہ پانچ منٹ میں ایسی جگہ پہنچا دیے جاؤ گے جہاں کسی کوسراغ تک نہیں ملے گا۔

قوموں کو استحکام، عزت اور برتری انصاف، تعلیمی نظام اور مساوات سے ملتی ہے۔ جہاں شاہی خاندان عوام کی دولت کو ذاتی دولت سمجھیں جہاں نظام، سسٹم، وجود ہی نہ رکھتا ہو اس ملک کا کیا وقار اور کیا عزت۔
سر کے نیچے اینٹ رکھنے والے عمرؓ کو ڈھونڈو عید کے دن سوکھی روٹی تناول فرمانے والے علیؓ کو تلاش کرو، ورنہ بدبختو! پیٹھ پر ٹرمپ کے کوڑے کھاتے رہو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں