فمینسٹ بلاؤں کی آزادیاں


اک عجب سی خواہش بچپن سے رہی ہے کہ ہفتے میں، یا مہینے میں، یا چلیں سال میں ایک دن ہو جب عورتیں مردوں کی جگہ لے لیں۔ ان کی طرح آزادی سے، ذرا پھیل کر بازار میں گھوم پھر سکیں۔ یہ خواھش پہلی دفعہ کب پیدا ہوئی، مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں ہے۔ شاید 12 -13 سال کی عمر میں جب پہلی دفعہ گھر سے اور رشتے داروں سے یہ احساس ملتا ہے کہ لڑکیوں کی طرح رہو شاید تب سے۔

شاید بہت سے لوگوں کو اس بات کا احساس بھی نہیں کہ اس معاشرے میں بچیاں اور بچوں کو بہت مختلف انداز سے بڑا کیا جاتا ہے۔ بچیوں کے لباس، اٹھنے بیٹھنے، باہر جانے، بات کرنے، اور مستقبل پر وقت سے پہلے بات شروع کر دی جاتی ہے۔ یہ باتیں صرف ماں باپ نہیں بلکہ ہر وہ شخص کرنے کا مجاز ہوتا ہے جس کا گھر سے ذرا بھی کوئی تعلق ہے۔ یہ باتیں بچیوں کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں۔ ان کو اپنے بارے میں اور اپنے ارد گرد کے ماحول کے بارے میں بے انتہا حساس کر دیتی ہیں۔ وہ جانے انجانے میں ایک خوف کا شکار رہتیں ہیں۔ اور ان سب کے بیچ میں ہم سب لڑکوں کی تربیت کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ میں آپ سے پاکستانی بچیوں کے مسائل کی بات کروں میں جیکسن کاٹز کی کتاب میں سے کچھ لکھنا چاہوں گی۔ جیکسن کاٹز مسچتٹس یونیورسٹی سے عورتوں پر تعلیم کے شعبے سے گریجویٹ کرنے والے پہلے مرد ہیں۔ یہ اقتباس ان کی کتاب ” کچھ مرد عورتوں کو کیوں تکلیف پہنچاتے ہیں اور تمام مرد کس طرح مدد کر سکتے ہیں؟ ” میں سے ہے۔ “میں بورڈ پر ایک لائن لگاتا ہوں (ایک ناظرین سے بھرے ہوے ہال میں ) جس کے ایک طرف میں ایک مرد کی تصویر بناتا ہوں اور دوسری طرف عورت کی۔ پھر میں مردوں سے پوچھتا ہوں کہ روزانہ کی بنیاد پر وہ خود کو جنسی ہراسانی سے بچانے کے لئے کیا کرتے ہیں؟ پہلے تو ایک عجیب سے خاموشی چھا جاتی ہے جس کے دوران شاید وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہ کیسا سوال پوچھا گیا ہے؟ ۔ پھر کچھ کھسیانی سی ہنسی کی آوازیں آتی ہیں ۔ کبھی کبھی کوئی مرد اپنا ہاتھ اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں جیل سے باہر رہتا ہوں۔ پھر ایک دو اور لوگ بھی کچھ ایسے ہی تبصرے کرتے ہیں ۔ سب لوگ ہنستے ہیں لیکن آخر کار کوئی کہتا ہے۔ کچھ نہیں میں اس بارے میں سوچتا تک نہیں۔

پھر میں اسی ہال میں بیٹھی عورتوں سے یہی سوال پوچھتا ہوں کہ روزانہ کی بنیاد پر وہ خود کو جنسی ہراسانی سے بچانے کے لئے کیا کرتی ہیں؟ تقریباً تمام عورتیں اپنا ہاتھ کھڑا کرتی ہیں۔ مرد اس وقت بالکل خاموشی سے یہ دیکھتے ہیں۔ عورتیں بتاتی ہیں کہ وہ اپنی چابی کو اپنے ہاتھ میں ایسے پکڑتی ہیں کہ بوقت ضرورت اس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکیں۔ اپنی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے بیک سیٹ پر دیکھتی ہیں۔ ہمیشہ موبائل لے کر گھر سے نکلتی ہیں۔ رات کو جوگنگ پر نہیں جاتیں۔ رات کو سونے سے پہلے ساری کھڑکیاں بند کرتی ہیں چاہے شدید گرمیاں ہی کیوں نہ ہوں۔ بہت زیادہ پینے سے گزیر کرتی ہیں۔ اپنا گلاس چھوڑ کر نہیں جاتیں کہیں اس میں کوئی کچھ ملا نا دے۔ گھر میں بڑا سا کتا رکھتی ہیں۔ مرچوں والا سپرے پرس میں رکھتی ہیں۔ اپنی وائس مشین پر مرد کی آواز ریکارڈ رکھتی ہیں۔ گاڑی روشنی والی جگہ پر پارک کرتیں ہیں۔ پارکنگ گیراج استعمال نہیں کرتیں۔ ایسی لفٹ جس میں ایک مرد ہو یا بہت زیادہ مرد ہوں اس میں نہیں جاتیں۔ گھر سے آفس اور آفس سے گھر جاتے ہوے مختلف روٹین استعمال کرتی ہیں۔ کپڑے سوچ کر پہنتی ہیں۔ ہائی وے کے ریسٹ ایریا میں نہیں جاتیں۔ گھر میں الارم سسٹم کا استعمال کرتی ہیں۔ جنگل یا بہت زیادہ درختوں والی جگہ پر نہیں جاتیں۔ فرسٹ فلور پر اپارٹمنٹ نہیں لیتیں۔ باہر گروپ کی صورت میں جاتی ہیں۔ پستول رکھتی ہیں۔ گلی میں چلتے ہوے مردوں سے آنکھ نہیں ملاتیں” یہ وہ چند جوابات ہیں جو عورتیں دیتی ہیں۔

اب میں آپ سے کچھ پاکستانی جوابات شیر کرتیں ہوں۔ میں نے فیس بک پر بچیوں سے پوچھا کہ بڑے ہوتے ھوئے ایسے کونسی باتیں تھیں جو ان کے بھائی کرسکتے تھے لیکن وہ نہیں۔ یا ان کو اجازت نہیں تھی یا معاشرہ ان کو مجبور کر دیتا تھا۔ ذیل میں کچھ جوابات ہیں

اپنی مرضی

اپنے کسی دوست کے گھر رات کو رہنے کی اجازت

آرمی میں جانے کی اجازت

کہیں بھی جانے کی آزادی۔ سوالات پوچھے بغیر

اپنی مرضی کے دوست رکھنے کی اجازت

گلی میں کھیلنے کی آزادی

پڑھنے کی آزادی ۔ 18 سال کی عمر میں مجھے گھر پر بیٹھا لیا گیا جب کہ میرے بھائی کو پڑھنے کے لئے باہر بھیج دیا گیا

سائیکل چلانے کی آزادی۔ جیسے ہی میں 13 سال کی ہوئی میرا باہر سائیکل چلانا بند ہو گیا

اپنی مرضی کے ٹی وی شو دیکھنے کی آزادی

یونیورسٹی اپنی گاڑی میں جانے کی اجازت

رات کو یا شام کو باہر واک کرنے یا بیٹھنے کی اجازت یا آزادی

بہت سی بچیوں نے کہا کہ ان کے ماں باپ کی طرف سے ان پر کوئی قدغن نہیں تھی لیکن معاشرے نے انھیں مجبور کر دیا کہ وہ ان سب پابندیوں کو مانیں۔

بہت پرانی بات ہے پاکستان سے ایک خاتون اولمپکس میں دوڑنے کے مقابلے میں 36 عورتوں میں 36 نمبر پر آئیں ۔ یار لوگوں نے بہت ٹھٹا اڑایا۔ وطن واپسی پر کسی کے مذاق اڑانے پر انھوں نے سنجیدگی سے کہا، ” آپ پاکستان کے کتنے شہروں کے نام بتا سکتے ہیں جہاں ایک عورت صبح یا شام کے وقت جاگنگ کر سکتی ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ صرف اسلام آباد ایسی جگہ ہے جہاں آپ کچھ پارکس میں ایسا کر سکتے ہیں اور ان میں بھی میرا بھائی میرے ساتھ جاتا ہے۔ جب آپ ایسے ماحول میں جیتے ہیں تو اس بات کی امید چھوڑ دیں کہ آپ کے لئے کوئی خاتون دوڑ میں گولڈ میڈل جیت لایے گی۔ :

بہت سے پاکستانی (مردوں اور عورتوں دونوں) کا خیال ہے کہ یہ پاکستانی فیمنسٹ آزادی کا مطلب ننگ دھڑنگ گھومنے کو کہتی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ فیمنسٹ کوئی مرددوں کو کچا کھا جانے والیں کوئی بلائیں ہیں۔ اسلام کی مخالف ہیں۔ مغربی تہذیب کی دلدادہ ہیں۔ بچے پیدا کرنے کے بجاے ابورشن کے حق میں ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر چاہتی ہیں کہ کسی طریقے سے مردوں کے برابر آ جائیں ۔ آہ! شاید آج کا بلاگ پڑھ کر کچھ لوگوں کو اندازہ ہو جائے کہ پاکستانی عورتیں بیچاری کچھ کھل کر چلنے کی، اپنی مرضی کسے کپڑے پہنے کی، باہر واک کرنے کی، گاڑی چلانے کی، اور بس تھوڑا سا جینے کی آزادی مانگتی ہیں۔ کچھ زیادہ نہیں یہی مل جائے تو ہم شکر بجا لائیں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں