اور صبا چپ تھی


farhana sadiqصبا رو رو کر ہلکان ہوچکی تھی

بھوک ہڑتال، لمبے لمبے سجدے، ماں کی منت سماجت

کچھ بھی تو کام نہ آیا۔۔

پیر کو کلثوم بیگم نے اسے نکڑ کی دکان والے سلیم کے ساتھ کالج سے واپس آتے دیکھااور منگل سے اس کے لیئے رشتے تلاش کرنا شروع کر دیئے ۔۔

ماں تھیں ڈر گئیں کہ دیر کی تو پانی سر سے گزر جائے گا ۔۔

گھر گھر پھرنے والی جمیلہ آپا کو دس ہزار اور جوڑے کا لالچ دیا۔۔

ہفتہ بھی نہ گزرا ، جمیلہ آپا اپنی ہی کسی دور کی نند کے بیٹے کا رشتہ لے کر آ پہنچیں ۔۔

دو دن رسمی چھان بین ہوئی ایک آدھ سے مشورہ کیا گیا ۔۔

تیسرے دن کی صبح کلثوم بیگم نے اعلان کر دیا مجھے استخارہ میں بشارت نظر آئی ہےگھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔۔

صبا اب چُپ تھی ۔۔

لڑکے والوں کو ہاں کہلوا دی گئ ساس نندیں آئیں اور منگنی کی رسم پوری کی گئیں ۔۔۔

چھوٹی نند بڑے فخر سے سب کو بتا رہی تھی بھابھی بڑی خوش نصیب ہیں بھائی جان تو راضی ہی نہ تھے۔۔

انہیں تو باہر پڑھنے جانے اور کمانے کا شوق تھاوہ تو امی اور ہم نے ضد کی کہ جب تک شادی نہ کریں گے باہر نہیں جا ئیں گےتو مان گئے ۔۔

مٹھائی بٹی تو ہر طرف سے مبارکباد کے پیغام آنے لگے ۔۔

صبا چُپ تھی ۔۔

چھوٹی بہنوں کی چھیڑ چھاڑ بھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہ لاسکی کلثوم بیگم کے دل میں ہول اٹھتے جنہیں وہ شدت سے دبا دیتیں ۔۔

جانے کس بات کا ڈر تھا جوانہوں نے صبا پرکڑی نگاہ رکھنی شروع کر دی تھی ۔۔۔

لڑکے والوں نے جلد ہی شادی کا عندیہ بھی بھیج دیا

ماں بہنوں کو اپنے ارمان پورے کرنے کی جلدی تھی یا شاید لڑکے کو اپنا شوق

کلثوم بیگم کی توفکر سے نیندیں ہی اُڑ گئیں تھیں ایک طرف شادی کی تیاری تو دوسری طرف صبا کا سکوت

جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ ہو رہا تھا۔۔

گھر کی پہلی خوشی تھی سبھی نہال تھے پر صبا چُپ تھی ۔۔۔

کلثوم بیگم کے خدشات آسمان کو چھو رہے تھے ۔۔

ڈھولکی کی تھاپ پہ پی کے گیت گائے جا رہے تھے مگر اس کی انکھوں میں کوئی سپنا نہ تھا ۔۔

ابٹن ہلدی تیل مہندی خوشبو کچھ بھی تو اُس پر اثر نہ کر رہا تھا

برات کے دن سجی سنوری بیٹی کو دیکھ کر کلثوم بیگم کا دل بھر آیا۔۔۔

اسے گلے لگایا ماتھے پہ پیار کیااور سرگوشی میں مجھے معاف کردے بیٹی کہتے ہوئے رو پڑیں،،،،،

ماں کو روتا دیکھ کر چھوٹی بہن بھی رونے لگی۔

اک اک کر کے سبھی عورتوں کی آنکھیں پرنم ہو گئیں مگر صبا نے سر جھکا لیا وہ نہیں روئی ۔۔۔

وہ اب بھی چُپ تھی

جگہ دو جگہ دو۔۔۔۔۔۔ نکاح کا وقت ہو گیا مرد اندر آرہے ہیں ۔۔

بڑے ماموں نے کمرے میں آتے ہی ہدایت کی کہ اونچی آواز میں ہاں کہنا تاکہ سب سُن لیں

صبا احمد ولد سعید احمد ! ! تمہیں بعوض شرعی حق مہردانیال قیوم ولد عبدلقیوم اپنے نکاح میں قبول ہے ؟؟

نہیں ! ! ! ! ! ! ایک زور دار آواز گونجی

مگر اس آواز کی گونج فقط صبا کے دل تک تھی

صبا احمد ولد سعید احمد ! ! تمہیں بعوض شرعی حق مہردانیال قیوم ولد عبدلقیوم اپنے نکاح میں قبول ہے؟؟

صبا چُپ تھی

کمرے میں بے چینی پھیل گئی کلثوم بیگم بڑی مشکل سے خود کو سنبھالے دل ہی دل میں خدا سے ساز باز میں مصروف تھیں

بات چالیس نوافل سے سو نوافل تین روزے اور پانچ ہزار روپےکی نیازتک پہنچ چکی تھی

صبا احمد ولد سعید احمد ! ! تمہیں بعوض شرعی حق مہردانیال قیوم ولد عبدلقیوم اپنے نکاح میں قبول ہے؟

اس بار سوال میں تفکر تھا ۔۔

ہاں بولو یہ کہتے بڑی خالہ نے کمر میں زور سے ٹہوکا مارا سکوت ٹوٹا اورہلکی سی سسکاری کی آواز آئی۔۔۔ آہ جی ۔۔

مبارک ہو مبارک ہو ۔۔۔۔

شور ہی شور۔۔۔۔

کلثوم بیگم کا بس نہیں چل رہا تھا سب کو ایک طرف کر کے یہیں سجدہ شکر بجا لائیں

کھانا چنا گیا رسمیں ہوئیں اور رخصتی ہوگئی ،،،،

صبا چُپ چاپ سسرال پہنچی اور حجلہ ء عروسی میں جا بیٹھی،،،

بقیہ رسمیں پوری کی گئیں شرارتی فقرے کسے گئے۔۔

دولھا مسکرا رہا تھا مگرسر جھکائے صبا کے چہرے پرخوشی کا شائبہ نہ تھا ،،،،

بڑی بہن نے سب کوڈانٹ کر کمرے سے نکال دیا۔۔۔۔

اب وہاں صرف دو لوگ رہ گئے تھےدروازہ بند ہواتھوڑی دیر بعد بتی بھی بند ہو گئ۔ ۔ ۔ ۔

رات کا آخری پہر تھادونوں گھروں میں خاموشی تھی ،،،

سب ہی تھک کر سو چکے تھےمگر کلثوم بیگم مصلیٰ بچھائےشکرانے کے نوافل ادا کر رہی تھیں ،،،

اور اُدھر۔۔۔

ایک خوابیدہ مہکتے کمرے میں زنا کا عمل جاری تھا


Comments

FB Login Required - comments