ٹیکسی سے ٹرالی تک


aqdas sandhilaیہ وقت کس کی رعونت پر خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

اگر میرا حافظہ درست کام کر رہا ہے تو خواجہ آصف نے یہ شعر ایک ٹاک شو میں پڑھا تھا  جس میں وہ پرویز مشرف کے خلاف موشگافیاں فرما رہے تھے۔ ان دنوں مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کی بازگشت تھی اور خواجہ صاحب حسب معمول اپنے لب و لہجے کی وجہ سے ٹاک شوز کی جان تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک ٹاک شو میں خواجہ صاحب کچھ زیادہ ہی بہک گئے – فرمایا

ہن معافیاں منگدے نیں، کہندے نے

اینکر نے تڑکا لگایا

کی کہندے نیں؟

خواجہ صاحب نے فرمایا

کہندے نے سانوں معاف کر دیو، سانوں باہر جان دیو-سوال ہی پیدا نہیں ہندا کہ انہاں نوں اسی جان دئیے ۔

مگر پھر نہ جانے کیا ہوا کہ خواجہ صاحب کو چپ لگ گئی ۔وہ جو معافیاں مانگتے تھے انہیں خود حکومت نے بصد احترام ملک سے روانہ کیا۔ پھر وہ دن آیا جب عمران خان کو شرم و حیا کا درس دیا گیا۔کوئی گریس ہوتی ہے کا نعرہ لگایا گیا۔بعد میں وہی شرم و حیا ان کے گلے پڑ گئی۔ اس کے علاوہ ایسے کئی واقعات ہیں کہ خواجہ آصف صاحب کواپنے ہی الفاظ پر معافی مانگنی پڑی ۔ اب بات کریں آج کے واقعہ کی تو مجھے یقین ہے کہ خواجہ آصف اسی ٹریکٹر ٹرالی کے پہیوں تلے گھسیٹے جائیں گے۔خواجہ آصف صاحب جیسے آدمی سے تو چلو کوئی اچھی توقع نہیں مگر نہ جانے آج اسپیکر صاحب کو کیا ہوا ؟  نہ کوئی تنبیہ ، نہ کوئی سرزنش، الٹا شیریں مزاری پر برس پڑے ۔اسپیکر صاحب بیچارے کرتے بھی تو کیا۔عوام کی گالیاں تو چلو وہ کھا ہی لیتے ہیں مگر خواجہ صاحب کو چپ کروانے کی صورت میں مریم بی بی کی باتیں کون سنتا۔

ہاں، مریم بی بی سے یاد آیا کہ بہت سے لوگ اس واقعہ کو خواتین کے حقوق کے منافی قرار دے رہے ہیں اور یہ بات کی جا رہی ہے  کہ شیریں صاحبہ کے ساتھ ایسا ان کے خاتون ہونے کی وجہ سے کیا گیا۔ کچھ حد تک تو یہ بات درست ہے کہ چونکہ وہ خاتون ہیں اور ہمارے معاشرے میں خواتین آسان ہدف ہیں اس لیے ان کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔ مگر بات صرف خاتون کی عزت تک محدود نہیں ہے۔ مریم نواز اور کلثوم نواز بھی تو خواتین ہیں، تو  اُن کے سامنے اِن کے منہ میں ٹافیاں کون رکھتا ہے؟ اُن کے سامنے تو اِن کی تمام نام نہاد لیڈران کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔شاید اس لیے کہ مریم کے والد اس ملک کے وزیر اعظم اورخود مریم صاحبہ مستقبل میں وزارت عظمی کی امیدوارہیں۔ مریم کی شان میں گستاخی نہیں کر سکتے ہاں مگر بینظیر بھٹو صاحبہ کو پیلی ٹیکسی کا لقب دیا جا سکتا ہے، اور شیریں مزاری کے والد نہ وزیراعظم تھے اور نہ ان کے اپنے وزیراعظم بننے کی کوئی امید ہے ،لہذا ان کے لیے اس طرح کے الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ خواجہ صاحب کا نہ تو کوئی رعب ہے نہ دبدبہ  ۔ ان کو لگا کہ ایک عورت پر طعنے کس کر شاید وہ  بھی کسی کھاتے میں آجائیں، بالکل ایسے ہی جیسے کوئی آدمی جس کی زندگی بھر کسی نے نہ سنی ہو اورشادی کے بعد جان بوجھ کر اپنی بیوی پر سب کے سامنے رعب جما کر سمجھنے لگے کہ شاید اب کوئی اسے سیریس لے لے۔ اور قریب بیٹھے عابد شیر علی جب آنٹی چپ کر جاؤ کی آوازیں لگا رہے تھے تو بالکل  اس بندر کی مانند لگ رہے تھے جس سے مداری نےکہا ہو کہ چلو بچہ اب آنٹی کو چپ کروانے والا کرتب دکھاؤ، اور وہ لہک لہک کر آنٹی کو چپ کروانے کا طریقہ بتانے لگے۔

بہت سے لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ عمران خان  نے دھرنے کے دوران غیر پارلیمانی گفتگو کی روایت کو پروان چڑھایا ہے۔یہ بات درست ہے کہ وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں مگر انہوں نے اپنی اس غلطی سے سبق سیکھاہے۔ اب ان کی تقاریر میں غیر شائستہ الفاظ استعمال نہیں ہوتے۔ مگر افسوس نواز لیگ نے کبھی اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا۔ یہ جب بھی حکومت میں آتے ہیں یا ان کے پاس تھوڑی سی بھی پاور آتی ہے ان کا غرور آسمان کو چھونے لگتا ہے۔ ان کا غرور ہمیشہ ان کو لے ڈوبا مگر یہ کبھی باز نہیں آتے۔ یاد کریں شہباز شریف صاحب نے کسی کو چوک میں الٹا لٹکانا تھا مگر خود اسی کے آگے لیٹنا پڑ گیا۔ خواجہ آصف نے ایک  ادارے کو للکارا تھا، سنا ہے دو دن پہلے بڑے بے آبرو ہو کر ان کے کوچے سے نکلے ہیں۔ یہ جمہوریت کا رونا تو روتے ہیں مگر خود جمہوریت کے معنی نہیں جانتے۔ یہ جس قدر مغرور ہیں اورجو ان کا لب و لہجہ ہے مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وقت بہت جلد ان کی رعونت پر خاک ڈالے گا اور

تم سے پہلے وہ جو اِک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا

میری نواز لیگ کے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ خدا نہ بنیں۔ ٹیکسی سے ٹرالی تک کے اس سفر میں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں

 


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ٹیکسی سے ٹرالی تک

  • 09-06-2016 at 8:45 pm
    Permalink

    خواجه آصف صاحب نے پارليمان میں غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کئے جس کی کسی بھی سنجیدہ شخص نے حمایت نہیں کی اورانہیں برا بھلا کہا ۔۔۔آج انہوں نے اسی پارلیمان میں معافی مانگ لی ہے اسلئے اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ معافی کو قبول کیا جائے اور اس کھاتے کو بند کیا جائے۔۔پارلیمانی سیاست میں یہی کچھ ہوتا ہے بلکہ گریبان بھی پکڑے جاتے ہیں لیکن پھر مل جل کر آگے چلنا ہوتا ہے۔۔اسلئے اس معاملے کو میرے خیال میں اب چھوڑںا چاہئیے۔۔شیریں مزاری صاحبہ کو دل بڑا کرکے خواجہ صاحب کی معافی قبول کرنی چاہئیے

Comments are closed.