عقل کے تالے کی چابی


lubna mirza“یہ کیسا تالا ہے؟” ہاسٹل کے بابا نے پوچھا۔ ایسا ہلکا پھلکا سا اور چابی کا خانہ بھی نہیں‌ ہے! وہ صبح‌ سب لڑکیوں‌ کے کالج چلے جانے کے بعد سارے ہاسٹل میں‌ چکر لگا کر ہر دروازہ چیک کرتے تھے۔ یہ نمبروں‌ کا تالا ہے اور درست نمبر ڈالنے سے کھل جاتا ہے میں‌ نے ان کو بتایا۔ مجھے اور میری روم میٹ کو اس کا نمبر پتا ہے اور اگر ہم بھول جائیں‌ تو ایک دوسرے کو بتا سکتے ہیں۔ یہ تالا ٹھیک نہیں‌ لگتا آپ لوگوں‌ کو بڑا اور مضبوط صحیح تالا لینا چاہئیے انہوں‌ نے مشورہ دیا۔ کافی دن گزر گئے کبھی کسی کمرے کا تالا ٹوٹ رہا ہے کبھی کسی اور کا۔ کنڈیوں‌ کا ہتھوڑے کھا کھا کر حشر ہو گیا۔ پھر بابا نے سر ہلا کر کہا ہاں‌ بھئی یہ نمبروں‌ والا تالا ہی ٹھیک ہے اس کو توڑنے کی کبھی ضرورت نہیں‌ پڑی۔

انسان سماجی جانور ہے۔ بائیولوجی کے مطالعے سے دنیا کی ہر اسپی شیز کی زندگی کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے۔ تقسیم ہوں‌ اور مر جائیں۔ کیڑے مکوڑے، چرند پرند اور دیگر جانور سب بچے پیدا کرتے ہیں‌ اور یہ ایک نارمل نظام ہے۔ انسان ایوولیوشن کے پروسس سے گذر کر انتہائی ذہین ہوتا چلا گیا اور اس میں‌ اور دیگر جانوروں‌ میں‌ ایک خلیج قائم ہوگئی۔ اپنے گرد نظر گھمائیں۔ ہم ایک نقلی دنیا میں‌ رہ رہے ہیں۔ لباس، مکان، گاڑیاں‌، سڑکیں، ہسپتال، ریل کی پٹڑی سب انسان کا بنایا ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح ان تمام چیزوں سے متعلق بنائے ہوئے اصول بھی۔

آج کی انسانی دنیا نہایت پیچیدہ ہوگئی ہے۔ انسان بارہ تیرہ سال کی عمر میں‌ ری پروڈکشن کے لائق تو ہوجاتے ہیں لیکن اس عمر میں‌ انہوں‌ نے اتنی تعلیم اور تربیت حاصل نہیں‌ کی کہ وہ دنیا میں‌ لائے گئے بچوں‌ کو چھت اور خوراک مہیا کرسکیں۔ دنیا کے باقی جانور چونکہ نیچرل دنیا میں‌ رہ رہے ہیں‌ ان کے لئیے یہ بات شرط نہیں اور ان کی تعداد ان نیچرل ریسورسز پر ہی مبنی ہوتی ہے۔

اس سے کچھ فرق نہیں‌ پڑنے والا ہے کہ آپ کتنے لوگوں‌ کو زندہ جلائیں گے، ان کو پتھر ماریں گے یا دیوار میں‌ چنیں گے، نیچر سے نہیں‌ لڑا جا سکتا ہے۔ نارمل انسانی دماغ اور انسانی جسم میں‌ کیمیکلز اور ہارمونز کو پتھر مار کر نہیں‌ بھگا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں‌ کم از کم ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کو ضرور سمجھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کیوں گزرے ہوئے لوگوں‌ کی کھڑی کی ہوئی صلیب پر اپنے بچوں‌ کی بلی چڑھاتے رہیں؟

 دئیے ہوئے نام، قومیت، شناخت سب انسانوں‌ کی بنائی ہوئی چیزیں‌ ہیں‌ اور مناسب ساتھی کے ساتھ جوڑا بنانا نارمل بائیولیوجکل فعل  ہے۔

کافی لوگ یہی سمجھتے ہیں‌ کہ تعلیم و تربیت سے زیادہ جلد سے جلد لڑکیوں‌ کا بیاہ کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ وہ اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ آج کل کی پیچیدہ دنیا میں‌ 16 سال کا بچہ کیا جانتا ہے۔ میری ایک مریضہ ہے جس کے دو چھوٹے بچے ہیں‌ جن کو ٹائپ ون ذیابیطس ہے اور وہ دونوں‌ انسولین پمپ استعمال کرتے ہیں۔ یہ خاتون جاب نہیں‌ کرتی ہیں۔ جب پہلے بچے کو چھ ماہ کی عمر میں‌ ذیابیطس ہوگئی تو انہوں‌ نے نوکری چھوڑ دی۔ ان کے شوہر سارے بل دیتے ہیں‌ اور یہ سارا وقت اپنے دونوں بچوں‌ کا خیال کرتی ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں‌ ٹائپ ون ذیابیطس کے مریض انسولین کے بغیر زندہ نہیں‌ رہ سکتے ہیں اور یہ ہر دن کا چیلنج ہوتا ہے کہ بلڈ شوگر نارمل رکھی جائے۔ وہ پڑھی لکھی ماں‌ ہے تو یہ سب کر سکتی ہے۔ ان کو یہ بھی اندازہ ہے کہ مزید بچوں کو دنیا میں‌ لانے سے وہ ان تمام بچوں‌ کو وہ توجہ نہیں دے پائیں‌ گی جس کی ان کو ضرورت ہے۔ایک اندازے کے مطابق سارے امریکہ میں‌ نرسوں‌ کی تعداد 2,927,000 ہے اور اس شعبے کی معاشرے میں‌ عزت ہے۔ ان کو اچھی تنخواہ اور فوائد حاصل ہیں۔ اب اس بات پر آپ غور کریں‌ تو سمجھ لیں‌ گے کہ یورپ اور امریکہ میں‌ جب ٹائپ ون ذیابیطس کا مریض ڈی کے اے کی پیچیدگی کے ساتھ ہسپتال میں‌ داخل ہوتا ہے تو 1000 میں‌ سے صرف ایک موت ہوتی ہے۔ کراچی کے اچھے ہسپتال میں کی گئی ریسرچ کے مطابق وہاں‌ ڈی کے اے کے ساتھ آئے ہوئے 100 بچوں میں‌ سے 5 مر جاتے ہیں۔

ایک پدرانہ معاشرے میں‌ خواتین کے ساتھ ملکیت کے مخصوص برتاؤ کی ایک وجہ ان کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ہے۔ بچے بڑے کرنا کوئی آسان کام نہیں‌ ہے اسی لئیے کوئی نہیں چاہتا کہ وہ دوسروں‌ کے بچے پالے۔ اسی لئیے پرانے زمانے میں‌ خوفناک سزائیں ترتیب دی گئیں تاکہ ان کے دلوں‌ میں‌ دہشت ڈالی جائے اور وہ اپنے قدرتی جذبات اور احساسات کو اس پدرانہ معاشرے پر قربان کریں۔ مائیں زیادہ تر کمزور پوزیشن میں‌ ہوتی ہیں‌ اور ان پر دیگر بچوں‌ کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے تو وہ خود بھی عزت کے نام پر قتل میں‌ شامل ہوجاتی ہیں۔ خواتین کو خاندان کا مرتبہ بڑھانے، کاروبار میں‌ ترقی کرنے اور سیاسی میدان میں‌ آگے بڑھنے اور دیگر طاقتور خاندانوں‌ کے ساتھ رشتے استوار کرنے کے لئیے بھی مہروں‌ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ جیسے جیسے خواتین معاشی طور پر طاقت ور ہو رہی ہیں، اس روئیے میں‌ تبدیلی آرہی ہے۔ حقوق کبھی بھی پلیٹ میں‌ ڈال کر کوئی ہمارے آگے نہیں ‌رکھتا، ان کے لئیے لڑنا ہوتا ہے۔ خواتین کو اپنی زندگی اور صحت پر کنٹرول واپس لینا ہوگا۔

اکستان، ایران اور سعودی عرب ان چند ممالک میں‌ شامل ہیں‌ جہاں‌ قانون کی نگرانی میں‌ خواتین کا استحصال جاری ہے۔ جس طرح‌ خواتین میں‌ تعلیم کی شرح‌ بڑھ رہی ہے تو یہ آثار ہیں‌ کہ آہستہ آہستہ قانون میں‌ بھی یہ تبدیلیاں‌ آ سکیں‌ گی۔ ایک مثال میں‌ آپ کو اسرا نعمانی کی دوں‌ گی جن کا سلسلہ نسب مولانا شبلی نعمانی سے ملتا ہے۔ ان کی کتاب “اسٹینڈنگ الون” پڑھنے کے لائق ہے۔ وہ انڈیا میں‌ پیدا ہوئیں۔ اب امریکی ہیں۔ وہ اپنے جرنلزم کے کام سے پاکستان گئیں‌ جہاں‌ ایک لڑکا ان کا بوائے فرینڈ بن گیا، اس نے کہا کہ وہ ان سے شادی کرے گا۔ اس دوران ان کو احساس ہوا کہ وہ حمل سے ہیں۔ یہ سن کر پاکستانی بوائے فرینڈ تو غائب ہوگیا۔ جیسا کہ وہاں ایک عام بات ہے۔ یہ بات ماں‌ باپ اپنے بیٹوں‌ کو کبھی نہیں‌ کہتے ہیں کہ بیٹا کسی لڑکی کو شادی کا دھوکہ دے کر اس کے ساتھ سونا شروع کردینا ان ایتھیکل ہے اور کئی ممالک میں‌ ایک جرم ہے جس کو “ریپ بائے ڈسیپشن” کہتے ہیں۔ دوسری طرف سنگل ماں‌ ہونا پاکستان میں‌ جرم ہے اور وہ جیل جا سکتی تھیں۔ ماں‌ کو ہی پکڑ سکتے ہیں۔ ڈی این اے استعمال کرکے باپ کو نہیں‌ پکڑیں‌ گے کہ 18 سال تک ہونے تک اس بچے کا خرچہ دو۔ یہ بچے جن کو ایدھی سینٹر کے باہر ٹوکری میں‌ چھوڑ دیا جاتا ہے ان کو ناجائز اور باسٹرڈ کہہ کر جان چھڑا لینا اصل میں‌ کمزوروں‌ کا استحصال اور طاقت ور کی سرپرستی ہے۔ اس نظام کو بدلنا ہوگا۔ اسرا نے فلائیٹ‌ لی اور واپس امریکہ آ گئیں۔ یہاں‌ پر آنے کے بعد انہوں‌ نے یہ بچہ پیدا کیا اور اس کو خود پالا۔ اس کا نام بھی شبلی رکھا۔ ان کی فیملی نے کافی سپورٹ کیا۔ کہتی ہیں‌ کہ جب میں ‌واپس گھر پہنچی تو ماں ‌کو بتایا، ماں‌ ان کے والد کے ساتھ باہر کھانے پر گئیں‌ اور ان کو بتایا۔ اسرا کے ابا نے ان کو ای میل بھیجی اور اس میں‌ لکھا کہ خدا رحمان ہے اور خدا رحیم ہے۔ ایسا باپ ہونا انسانیت کا پیمانہ ہے۔

پاکستان میں‌ کون خاتون سامنے آ کر کہہ سکتی تھی کہ میرا بچہ عمران خان کا ہے؟ سب اسی کو پتھر مارنے لگ جاتے۔ یہاں‌ ایسا نہیں‌ ہوتا۔ جن فیملیز میں‌ ایسے حادثے ہوجائیں‌ ان کو اپنی بیٹیوں‌ سے ہمدردی کرنی چاہئیے۔ معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ دوسرے لوگوں‌ پر تھو تھو کرنے کے بجائے اپنے گھروں‌ پر توجہ کریں۔ اگر ایسا گھر بنایا ہو جہاں‌ آپ کی بیٹی اپنی پسند کے آدمی کو آپ سے ملنے ڈنر پر بلاسکے تو جو گلیوں‌ کوچوں‌ اور گھروں‌ میں‌ چھپ چھپاتے ہو رہا ہے اس کو کچھ لگام ملے گی۔ جب لڑکیوں‌ کو پتا ہو کہ امی ابا سے ملوانا ہوگا تو وہ بھی بہتر چنیں‌ گی اور اگر لڑکوں‌ کو پتا ہو کہ لڑکی کے ماں‌ باپ جانتے ہیں‌ تو اس کا رویہ بھی چوری کرکے بھاگنے کے بجائے ذمہ داری کا ہو گا۔

امریتا پریتم نے کہا کہ “مرد کا گناہ وقت کے تالاب میں‌ کنکر کی طرح‌ ڈوب جاتا ہے جب کہ عورت کا گناہ ساری عمر کنول کے پھول کی مانند سطح آب پر رہتا ہے۔ بس یہی اک سچ ہے”۔ یہ سچ ہوتا ہو گا ماضی اور حال کا لیکن حالات بدل رہے ہیں۔

کنکر تالاب میں‌ یقیناً ڈوب جاتا ہو گا لیکن دیکھئیے اس سے کیسے لہریں‌ بنتی ہیں جو دور تک جاتی ہیں۔ لہروں کو دیکھ کر کوئی بھی بتا سکتا ہے کہ پتھر کتنا بڑا تھا اور کہاں ڈوبا۔ میں‌ آپ کو خود ایک تحقیق دان کی حیثیت سے یہ بتا سکتی ہوں‌ کہ اس بات سے کچھ زیادہ فرق نہیں‌ پڑتا کہ کتنا وقت گذر گیا اور کتنی ڈاکیومینٹیشن باقی رہ گئی۔ اگر انسان کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کریں‌ تو ان کو کافی حقیقت پتہ چل سکتی ہے۔ اس لئے اگر کوئی بھی ایسی بات ہے جو آپ چاہتے ہیں‌ کہ کسی کو آپ کے بارے میں پتا نہ چلے تو اس کا صرف ایک ہی حل ہے۔ “ڈونٹ ڈو اٹ”! ہمارے پاکستانی نوجوان کالج میں‌ افیئرز تو ایک عاقل بالغ‌ کی حیثیت سے چلا رہے ہیں لیکن شادی امی کی پسند سے کریں‌ گے۔ یہ میں‌ نے خود اپنے کالج میں‌ دیکھا۔ ان امیوں‌ سے میری گزارش ہے کہ آپ اس جرم میں‌ اپنے بیٹوں‌ کا ساتھ مت دیں۔ ہماری زندگیوں‌ کا مقصد دعوت بلا کر اپنے اوپر واہ واہ کرانا نہیں‌ ہونا چاہئیے۔ کرما از آ بچ! جو بھی ہم دوسروں‌ کے ساتھ کرتے ہیں وہ ہمارے اپنے ساتھ بھی ہوتا ہے۔

امریکہ کی سپریم کورٹ کے ایک جسٹس تھامس ہیں جن کو صدر بش کے دور میں‌ اپوائنٹ کیا گیا تھا۔ جب ان کے لئیے ووٹنگ چل رہی تھی تو بیک گراؤنڈ چیک سے یہ بات سامنے آئی کہ انہوں‌ نے پروفیسر انیٹا ہل کو دس سال پہلے ان کی ملازمت کے دوران جنسی طور پر ہراساں‌ کیا تھا۔ ان کا پتھر یقیناً بہت پہلے ڈوب چکا تھا لیکن لہریں ٹی وی، اخبار اور ریڈیو کے ذریعے ساری دنیا کے سامنے آ گئیں۔ اس لئے ہمیں‌ بدلتے ہوئے وقت کو سمجھنے اور اس کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ اپنے بیٹوں‌ کی بہتر تربیت بہت ضروری ہو گی۔ ان کو ہم یہ نہیں‌ کہہ سکتے کہ تمہاری ‌غلطیاں بیٹیوں‌ کی غلطی سے کم اہم ہیں۔

میرے خیال میں‌ یہ ضروری ہے کہ امریکہ اور یورپ منتقل ہونے والی فیملیز کو خاص طور پر ایجوکیٹ‌ ضرور کردیا جائے۔ جہاں‌ بھی بیج گرائیں تو یہاں‌ ڈی این اے پیٹرنٹی ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اپنےکھلائے ہوئے پھولوں‌ کو 18 سال تک کا ہوجانے تک ہر مہینہ پیسے دینے ہوں‌ گے۔ اگر خود سے نہ دیں‌ تو تنخواہ میں‌ سے کٹ جائیں‌ گے۔ اب سوچئیے کہ وہ اپنی کالج کی فیس دیں گے، اپنے گھر کا کرایہ یا چائلڈ سپورٹ؟ اس سے ان کی ساری زندگی خراب ہوجائے گی۔ اور جیسا کہ ہمارے روایتی معاشرے میں‌ ماں‌ باپ بھی جلدی ریٹائر ہو کر خود اپنے بیٹے کے گھر میں‌ رہنا چاہتے ہیں‌ اور اپنے باقی بچوں‌ کو بھی ان سے پلوانا چاہتے ہیں تو ان پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “عقل کے تالے کی چابی

  • 10-06-2016 at 11:54 am
    Permalink

    ایک بار پھر… ایک ہی سانس میں مختلف سماجی رویوں پہ گرفت کی گئی ہے. ان میں بہتری کیسی لائی جائے آسان انداز میں بتایا اور سمجھایا بھی گیا ہے.

  • 10-06-2016 at 7:57 pm
    Permalink

    ٓاچھا مضمون ہے، ’’عقل کے تالے کی چابی‘‘ کا عنوان پر کشش ہے،لیکن اس حوالے سے بات کم ہوئی ، میرے خیال میں خواتین پہ یہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی مظلومیت کا رونا رونے کی بجائے ،ایک ماں کے کردار کو مؤثر بنائیں اورپنی تربیت کے ساتھ ایسے بیٹے پیدا کریں جو معاشرے میں عورت کو دھوکہ نہ دیں،عورت کو نفسیاتی، سماجی، معاشی، اعتبار سے برابر سمجھیں۔ماں کی گود پہلی تربیت گاہ ہے۔

Comments are closed.