بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ اور شہد کے چھتے سے محبت


ہمارے معاشرے میں عورت کے کئی روپ ہیں۔ کہیں وہ ممتا سے بھرپور ہے اور کہیں وہ نفرت سے بھری ہوئی۔ کہیں اس سے بڑھ کر محبت کرنے والا کوئی نہیں اور کہیں اتنی سنگ دل کہ قتل جیسے سنگین جرائم تک میں شامل ہے۔ یہ منفی یا مثبت کردار ہونا کئی عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس میں اس کی تربیت، ماحول، سوچ، شعور اور فطرت سبھی شامل ہیں۔ بعض اوقات اس کا ماحول اتنا محدود ہوتا ہے کہ اس کی سوچ سمجھ بھی محدود ہوتی ہے۔ اپنے ماحول کے ہی مطابق اس کی شخصیت سازی ہوتی ہے۔ گھٹے ہوئے ماحول کی عورت بھی تنگ ذہن اور چھوٹی سوچ کی حامل ہوتی ہے۔ ایسی ہی عورت آنے والی نسل میں بھی صحت مندانہ سوچ کو کیسے جنم دے سکتی ہے۔

ایسے ہی کرداروں میں ایک کردار ہے، گرل فرینڈ۔ پڑھنے والے اس بات سے اختلاف کریں گے کہ ایسا ہمارے معاشرے میں نہیں ہوتا اور یہ انگریزوں کی سازش ہے ہمیں بدنام کرنے کی۔ مگر یہ کردار نہ صرف پایا جاتا ہے بلکہ یہ اس سوشل میڈیائی دور میں روز بروز پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی اس کی کئی شکلیں تھیں، ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی ماہیوال سبھی اس کی اشکال ہیں۔

اگر کسی لڑکے کے پاس ایک عدد گرل فرینڈ ہے تو وہ اس کا برملا اظہار کرے گا اور یار دوستوں میں اس کی شیخی بھگارے گا مگر اسی دوران لڑکی اس بات کو پوشیدہ رکھنا چاہے گی۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کے لواحقین یہ برداشت نہیں کریں گے۔ بھلے اس کے باپ کی بھی ہوں یا بھائی نے بھی بنا رکھی ہوں۔

ان دنوں ایک ایسی ہی محبت کی داستان علم میں آئی۔ جسے ہم عام الفاظ میں ”سوشل میڈیا لو“ (Social Media Love) کہہ سکتے ہیں۔ لڑکے لڑکی کی دوستی ہوئی، محبت تک پروان چڑھی اور کہانی کا انجام لڑکی کی ذہنی اور جسمانی صحت کی خرابی کی صورت میں ہوا۔

میری اس بچی سے بات ہوئی تو اس نے ایسی کوئی بات نہیں بتائی جو نئی ہو یا ہم لوگ اس سے انجان ہوں مگر ان باتوں کا اعادہ یہاں اس لیے ضروری ہے کہ ہم جان لیں کہ سلسلہ وار کیا کیا ہوتا ہے۔

بچی کی دوستی ہوئی تو جو توجہ، محبت، اہمیت، عزت اور وقعت اسے اس لڑکے سے ملی، وہ اسے پوری زندگی کسی سے نہ مل سکی۔

وہ جب بھی بات کرتی تو کسی ایسے مرید کی طرح اس سے بات کرتا جیسے اس کی زندگی تمام ہی اس لڑکی پر ہوتی ہے۔ اس کی ذات کامحور وہی ہے، وہ جب تک جاگتی وہ بلاتھکان اس سے باتیں کرتا۔ وہ سو جاتی تو بےتابی سے اس کے جاگنے تک مسیج کرتا۔ وہ اداس ہوتی تو کن کن طریقوں سے اسے بہلاتا۔ وہ بیمار ہوتی تو اس کے لہجے سے صدیوں کی بیماری کی صدا آتی۔ وہ کسی دیوانے کی طرح پریشان ہو جاتا، وہ بار بار مسیج کر کے دوا لینے کا کہتا اور بار بار اس سے حال دریافت کرتا۔ دوا لینے میں ہلکی سی کوتاہی ہوتی تو خفگی کا اظہار کرتا کہ تم اپنے لیے نہیں میری خاطر ہی ٹھیک ہو جاؤ۔

لڑکی کا کہنا تھا کہ اگر یہ محبت تھی تو مجھے محبت کے لیے سو گناہ بھی کرنے پڑتے تو میں ایک لمحہ دریغ نہ کرتی۔ جب محبت کا پیکج اتنا شاندار ہوتو لڑکی کیوں نہ اس ہنی ٹریپ میں پھنس جائے۔ اس کے بعد وہ اس سے تقاضے کرنے لگا۔ جواب کے، مسکراہٹ کے، الفاظ کے اور پھر تصاویر کے۔ وہ اگر ناخن کی تصویر بھی بھیج دیتی تو ایسے نثار ہوتا کہ دنیا میں اس ناخن سے حسین کچھ نہیں ہے۔

پہلے اس کی باتوں میں لڑکی کی سیرت کی تعریف ہوتی، اس کی ذہانت کی تعریف ہوتی، اس کی متانت کی تعریف ہوتی، اس کے سلیقے کی تعریف ہوتی، اس کی پسند کی تعریف ہوتی، پھر تعریف کا زاویہ تبدیل ہوا۔ اس کی تعریف مادی ہوتے ہوتے جسمانی ہونے لگی۔ وہ بالوں سے آنکھوں اور آنکھوں سے ناک، ناک سے سرکتا سرکتا سراپے تک پہنچنے لگا۔ لفظ بےلباس ہونے لگے تو اس کی شائستگی سے بھی پردہ چھٹنے لگا۔

یہ معمول بن گیا اور دھیرے دھیرے لڑکی کسی نشے کی طرح اس کی تعریف کے نشے میں کھونے لگی۔ اگر کبھی اس سے تعریف نہ کرتا تو لڑکی اس کی تعریف حاصل کرنے لیے خود کوئی نہ کوئی راہ نکالتی۔ کبھی اسے تصویر بھیجتی تو کبھی محبت بھری کوئی شاعری۔ اس کے پسندیدہ رنگ کے لباس پہنتی اور ترسا ترسا کر ایک ایک کر کے اسے تصویریں بھیجتی اور اس کی بےچینی سے مزا اٹھاتی۔ یہ چہلیں، یہ نازوادا محبت کا حسین ترین احساس بن گیا تھا۔

وقت گزرنے سے دھیرے دھیرے لڑکے کی باتوں میں محبت کم اور جنس کا تذکرہ بڑھنے لگا۔ وہ محبت بھرے لمس سے ابتدا کرتے کرتے کھلے عام جنسی تعلقات قائم کرنے کا اظہار کرنے لگا۔

لڑکی پہلے پہل تو اس کی باتوں پر برا مناتی اور کئی بار قطع کلامی بھی کرتی مگر پھر خود ہی مجبور ہو کر دوبارہ اس سے بات کر لیتی۔ کسی شریف لڑکی کی طرح ایسے بالغ موضوع پر بات کرنا ہی اسے سخت معیوب لگتا مگر اس نے دھیرے دھیرے اسے یہ احساس دلایا کہ یہ معیوب نہیں بلکہ معاشرتی ہے اور جو لوگ اس سے نظریں چراتے ہیں دراصل دقیانوسی اور کم فہم ہوتے ہیں۔ متواتر اس سے ایسی باتیں سننے کے بعد اسے لگنے لگا کہ یہ تو ایک فطری عمل ہے۔ اگر وہ مجھ سے محبت کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ جنسی تعلقات بھی مجھ سے ہی قائم کرنا چاہے گا۔ اگر وہ اس کا برملا اظہار کر دیتا ہے تو کیا ہوا، یہ تو اس کی صاف دلی ہے۔

ویسے بھی اس نے مجھے قبول کیا میں نے اسے تو نکاح تو بس گواہوں کی تسلی کے لیے ہے۔ ایسی نجانے کتنی توجیہات انسان محبت میں گھڑ لیتا ہے۔  ایک بار جب لڑکی نے اسے جنسی باتوں پر ٹوکنا بند کر دیا تو اسے کھلی چھوٹ ملی گئی اور اس نے جی بھر ایسا گند پھیلایا کہ لڑکی محبت اور سیکس میں فرق کرنا ہی بھول گئی۔ وہ فحش گوئی کی انتہا تک پہنچ گیا اور اس کے ساتھ دوسری خواتین تک کے متعلق گھٹیا باتیں اور مذموم عزائم کا اظہار کرتا۔ لڑکی جہاں اسے ٹوکنے کی جسارت کرتی، گالیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

یہ سلسلہ مرحلہ وار آگے بڑھتا رہا اور اس دوران غیر محسوس انداز میں لڑکی پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی۔ ماں باپ، رشتہ دار، بہن بھائی، تعلیم، نیند، کھانا پینا، سونا جاگنا سبھی فراموش ہونے لگے۔ یہاں تک دین دھرم اور معاشرتی اقدار سے بھی باغی ہونے لگی۔ ہر وہ چیز جو اسے اس محبت سے باز رکھنے کا اشارہ دیتی، وہ اس سے منحرف ہو جاتی۔

اس نے آنے والے رشتوں سے انکار کر نا شروع کیا۔ لڑکے کو رشتہ بھیجنے کا کہا مگر اس نے ایک کے بعد ایک بہانوں کے بعد بالاخر کسی اور سے شادی کر لی۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں پر لڑکی اسے بھول سمجھ کر آگے بڑھ جاتی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اس نے لڑکی کو ایسے الجھایا کہ وہ اس کی شادی کے بعد بھی اس کے دام الفت سے نہ نکل پائی۔ وہ اسے بہلانے لگا کہ میں تم سے شادی کروں گا، یہ شادی تو ماں باپ کے دباؤ میں آ کر کی ہے اور اس عورت کو میں کبھی بیوی کا حق اور درجہ نہیں دوں گا۔ اس کی یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہوئی جب وہ باپ بن گیا۔

لڑکی اس کے سحر میں ایسے گرفتار تھی کہ اس سے بات کرنے کو منتیں کرنے لگتی۔ اس کو گھنٹوں مسیج کرتی تب جا کر اس کا ایک آدھ مسیج آتا وہ بھی بےزاری یا گالی بھرا۔ مگر لڑکی کو اس کی گالی بھی برداشت تھی۔ وہ اس سے اس قدر ذلت کے باوجود تعلق نہیں توڑ پا رہی تھی۔ اس کی ذہنی حالت کسی پاگل جیسی ہونے لگی۔ ہر وقت کا ڈپریشن، بےزاری، سب سے نفرت اور سب سے بڑھ کر خود ترسی۔ غنیمت یہ تھا کہ وہ کبھی اس سے تنہائی میں نہیں ملی تھی ورنہ عزت سے بھی جاتی۔

لڑکی ایسی ایسی غلیظ باتیں اور تقاضے مانتی رہی کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ ایسی کونسی مجبوری یا کمزوری ہے کہ وہ اس کے آگے اس درجہ بےبس ہے۔

وہ کمزوری تھی، وہ ابتدائی محبت اور توجہ، وہ محبت کے دعوے، وہ احترام، وہ لگاؤ، وہ چاہت، لڑکی کو امید باقی تھی کہ ایک نہ ایک دن اسے احساس ہو گا، اسے میری محبت صبر کا ادراک ہو گا، اسے میری وفا شعاری کی قدر ہو گی۔

اس کی گالیاں اسے کوڑے کی طرح پڑتی تھیں مگر وہ سوچتی کہ یہ وقتی غصہ ہے اس کا تضحیک کرنا۔ اسے کسی بات پر ڈپریشن لگتا اس کا ذلیل کرنا، اپنی کوتاہی لگتا کہ مجھ سے ہی کوئی خطا ہوئی ہو گی۔ اس کا فحش گفتگو کرنا اور تقاضے کرنا، محبت لگتا کہ مجھے چاہتا ہے اور دل سے اپنی سمجھتا ہے تو اس استحقاق کا اظہار ہے۔ اس کا گھر کے افراد یا دیگر خواتین کے متعلق بدنیتی کے بیان اسے مذاق لگتے کہ خیر ہے دل سے نہیں کہہ رہا یونہی مجھے ستا اور آزما رہا ہے۔

لڑکی کو ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ یہ اس کی فطرت نہیں ہے بلکہ اس کی فطرت تو وہ تھی جو پہلے اس نے ظاہر کی تھی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہوتی ہے۔

یہ کہانی نئی نہیں ہے اور نجانے کتنے مردوں نے کتنی لڑکیوں کو محبت کے نام پر بےوقوف بنایا ہوا ہے۔ گرل فرینڈ جیسے رشتے کا نام دے کر اس کی سوچ کو برباد کیا اور سوچ تباہ ہونا انسان کی شخصیت تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔ بار بار بچیوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ ایسے ہنی ٹریپ سے بچیں اور کسی بھی مرد پر اس کی خوش گفتاری اور اچھے کلام کی وجہ سے بھروسا نہ کریں۔

لڑکوں کی خوش گفتاری اسی وقت تک قائم رہتی تھی جب تک بات کرنے نہ کرنے کا اختیار لڑکی کے ہاتھ میں ہو۔ ایک بار وہ دام الفت میں پھنس جائے تو اس کے بعد لڑکے کی مرضی ہے کہ وہ اسے ردی کے طور پر استعمال کرے یا ٹشو پیپر کے طور پر۔

مگر ان سب کے باوجود ہر روز ہم نت نئے واقعات سنتے ہیں اور نت نئی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ ہم یہاں ہر روز ماں بہن بیٹی بیوی کے حقوق کا رونا رو رہے ہیں کہ ان کو ان کا جائز حق نہیں مل پاتا اور نہ وہ اختیار اور مقام، ایسے میں گرل فرینڈ کو کیا ملنا ہے؟

بچیوں کو سمجھنا ہو گا کہ ماں باپ کی عزت تو بعد میں آتی ہے، پہلے اپنی عزت نفس کی حفاظت کیجیے۔ کسی کو آپ سے ایسی بات کرنے کی اجازت نہ ہو جسے آپ سننا نہ چاہیں۔ اگر انسان اپنی عزت نہیں کروا سکتا تو محبت کیسے حاصل کرے گا۔ جس نے اپنی عزت نفس مجروح نہ ہونے دی وہ ماں باپ یا خاندان پر بھی حرف نہیں آنے دے گی۔ مرد کی محبت اٹل حقیقت ہے مگر مرد محبت کے لفافے میں کب دھوکہ دینے لگے یہ جاننا آسان نہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی پر مکمل اختیار رکھتا ہے مگر انتخاب کا پیمانہ سوچ سمجھ کر طے ہونا چاہیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

وقار احمد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں