ضمنی الیکشن کا فیصلہ 25 جولائی کو ہو چکا ہے


اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ضمنی انتخابات کے لئے آج اتوار 14 اکتوبر کو پولنگ زور شور سے ہو گی۔  ملک بھر میں 35 حلقوں میں اُمیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔  اس ضمن میں، الیکشن کمیشن نے پولنگ کے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔  پولنگ 35 حلقوں میں ہوگی جن میں قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلی کے 24 حلقے شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے بقول ضمنی الیکشن کیلئے 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔  اس انتخاب کے دوران 641 امیدوار مقابلہ کریں گے۔  ان حلقوں میں 92 لاکھ 83 ہزار 74 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، جس کے لئے 7 ہزار 489 پولنگ اسٹیشن بنائےگئے ہیں۔  مختلف حلقوں کے1727 پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 7364 سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے پاس کوڈ جاری کردئیے گئے۔  بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ووٹنگ پینل متعارف کرایا گیاتھا، جس پر رجسٹریشن کرانے کے اہل وہی افراد تھے جن کے پاس ‘نائیکوپ’ کارڈ ہو، ان کے پاس پاکستان کا پاسپورٹ ہو اور وہ مذکورہ حلقے کے رجسٹرڈ ووٹر بھی ہوں۔

ان انتخابات میں 40 ہزار سے زائد پاک فوج کے جوانوں کو پولنگ اسٹیشنز میں تعینات کیا گیا ہے جب کہ ایک لاکھ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔  الیکشن کمیشن نے وزارت توانائی کو ہدایت بھی جاری کی ہے کہ پولنگ کے دوران متعلقہ حلقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

اب ہم لے چلتے ہیں اگلے مرحلے کی طرف۔ اگر ہم بات کرِیں قومی اسمبلی کے بڑے مقابلوں کی تو این اے 35 بنوں سے ایم ایم اے کے زاہد اکرم درانی سابق وزیر اعلی کے پی کے اکرم درانی کے بیٹے ہیں جو پی ٹی آئی کے نسیم علی شاہ کے مدمقابل ہیں۔ این اے56 اٹک سے پی ٹی آئی کے خرم علی خان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے ملک سہیل خان سے جاری ہے۔ یہ نشست میجر (ر) طاہر صادق کے چھوڑنے پر خالی ہوئی تھی۔ این اے 60 راولپنڈی سے پی ٹی آئی کے شیخ راشد شفیق جو کہ حالیہ وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید کے بھتیجے ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے سجاد خان سے ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا اس حلقے میں الیکشن حنیف عباسی کوعمر قید کی سزا ہونے کے باعث منسوخ کیا گیا تھا۔ این اے 63 راولپنڈی سے پی ٹی آئی کے منصورحیات خان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کےعقیل ملک سے ہے۔ این اے 69 گجرات سے مسلم لیگ ق کے مونس الہٰی جو کہ اسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کے صاحبزادے ہیں ان کا مقابلہ مسلم لیگ ن کےعمران ظفر سے ہو رہا ہے۔ این اے 124 لاہور سے مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی کا مقابلہ پی ٹی آئی کے غلام محی الدین سے ہوگا۔ این اے 131 لاہور سے مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ پی ٹی آئی کے ہمایوں اختر خان سے ٹاکرا جاری ہے۔ یہ حلقہ وزیراعظم عمران خان کے چھوڑنے کے بعد خالی ہوا تھا۔ کراچی کی صورتحال بھی دلچسپ ہے این اے 243 کراچی سے پی ٹی آئی کے عالمگیر خان کا مقابلہ ایم کیو ایم کے عامر چشتی سے ہے۔

اسی طرح دوسری طرف 26 صوبائی اسمبلیوں میں خیبر پختونخواہ کے بڑے مقابلے قارئین کو بتاتاچلوں کہ پی کے 78 پشاور سے کارنر میٹنگ میں جاں بحق ہونے والے ہارون بلور کی بیگم ثمرہارون بلور کا مقابلہ پی ٹی آئی کے محمد عرفان سے ہے۔ پی کے 97 ڈیرہ اسماعیل خان سے پیپلز پارٹی کے فرحان افضل ملک کا مقابلہ پی ٹی آئی کے فیصل امین گنڈا پورسے ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبیدالرحمان تحریک انصاف کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں۔ پی کے 99 ڈیرہ اسماعیل خان سے پی ٹی آئی کے آغاز اکرام اللہ جو کہ سردار اکرام اللہ گنڈا پور کے بیٹے ہیں۔ کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے اکبر خان سے ہے۔ یاد رہے کہ سردار اکرام اللہ گنڈاپورالیکشن سے قبل 22 جولائی کو دھماکے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ ۔ جس کے باعث اس حلقے میں الیکشن منسوخ کیے گئے تھے۔

بلوچستان کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ پی بی 35 مستونگ سے آزاد امیدوار نواب اسلم رئیسانی کا مقابلہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سردار نور احمد بنگلزئی سے ہے۔ نواب مستونگ دھماکے میں جاں بحق سراج رئیسانی کے بھائی ہیں۔ پی بی 40 خضدار سے آزاد امیدوار میر شفیق الرحمان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے قدیر احمد سے ہے۔ ۔

پنجاب کی صورتحال بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ واضح رہے کہ پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے پی ٹی آئی کے اسد زمان چیمہ کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے فوزیہ وڑائچ سے ہو رہا ہے۔ پی پی 201 ساہیوال سے پی ٹی آئی کے سید صمصام کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے شفقت علی چیمہ سے۔ پی پی 222 ملتان سے پی ٹی آئی کے سہیل احمد نون کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے مہدی عباس خان سے۔ پی پی 292 ڈی جی خان سے مسلم لیگ ن کے اویس لغاری کا مقابلہ پی ٹی آئی کے سردار مقصود خان لغاری سے ہو رہا ہے۔

سندھ میں پی ایس 30 خیر پور سے پیپلز پارٹی کے احمد رضا جی ڈی اے کے محرم علی شاہ سے مدمقابل ہیں۔ میں اے آر وائی الیکشن سیل میں بیٹھ کر تھکی ہوئی آنکھوں سے جیت اور ہار کے اعداد وشمار اپڈیٹ کر رہا ہوں۔ ۔ ۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لندن میں افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے لندن میں صحافیوں سے گفت گو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں عام انتخابات انتہائی شفاف اور آزاد تھے، ووٹرزنے اپنی مرضی سے ووٹ دیے، کسی کو نہیں کہا گیا کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کو نہیں۔ فوج نے ممکن بنایا کہ ہرشخص اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دے، دھاندلی کےالزامات لگائے گئےلیکن کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تبدیلی کے سال سے متعلق ان کی ٹویٹ کو غلط معنوں میں لیا گیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

جنید شاہ کی دیگر تحریریں
جنید شاہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں