بھوتوں کی سرزمین


asif-farrukhi_1ایک تو کریلا اوپر سے نیم چڑھا۔ ان کا نام پہلے ہی نمایاں ہو چلا تھا، حالاں کہ اس میں ان کی کسی قسم کی ممکنہ انفرادی صلاحیت سے زیادہ ان کی اس خاندانی نسبت کا تھا جس کا اندازہ پاکستان کا بچہ بچہ اندازہ لگا سکتا تھا، اس لیے کہ جمہوریت کے حصول کے بلند بانگ دعووں کے باوجود خاندانی ورثے کے تسلسل اور اقتدار کا جواز بنے رہنے کے جس عمل کو انگریزی میں dynasty کہا جانے لگا ہے، ہم اس طرح تسلیم کرنے کے عادی ہو گئے ہیں گویا اس بارے میں دو رائے ہونے کا امکان تک نہ ہو۔ وجہ بہرحال کچھ بھی ہو، محترمہ کا نام تو ہم نے سن ہی لیا تھا اور اس کا آخری جزو، وہ خاندانی نام۔ اب دساور سے یہ اطلاع بھی آگئی کہ وہ خیر سے نام خدا، انگریزی زبان کی ناول نگار ہو چلی ہیں اور اس ناتے سے اس نا چار و مقہور مملکت کے بارے میں گاہے گاہے تجزیے کے نام پر فیصلے صادر کرنے کی مہربانی بھی فرمانے لگی ہیں جو مغرب کے بڑے بڑے اخباروں میں شائع ہوتے ہیں اور دور سے آنے والی آواز کی طرح ان کی گونج ہمارے کانوں میں پڑ جاتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں انہوں نے اپنی انتہائی شُستہ اور کانٹے کی تول والی زبان میں پاکستان کے لیے  Land of Ghosts کی ترکیب استعمال کی اور وہ بھی جیسے انگوٹھی میں نگینہ ٹھیک بیٹھ رہا ہو۔ مگر کہ ہم سوچ میں پڑگئے۔ مملکت خداداد اور سرزمینِ موعود بننے چلی تھی، بھوتوں کی سرز مین کیسے بن کر رہ گئی؟ ایک گمان یہ ہوا کہ محترمہ اس ماضی کا حوالہ دے رہی ہوں گی جو ان کے خاندان کا اور اس حوالے سے پورے ملک کا ماضی رہا ہے جس میں کئی لاشیں موجود ہیں، ستم رسیدہ اور عذاب دیدہ جس کے خون کی قیمت ملک و قوم کے شب دروز میں شامل ہے۔ پھر خیال آیا، کہیں ان کی رائے یہ تو نہیں کہ یہاں آبادی کا بڑا حصّہ غیر حقیقی زندگی گزارتا ہے۔ ایسی زندگی جس میں کوئی حقیقت ہے نہ واقعیت، سراسر دھوکا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سوال بھی بیتال نے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ اس کہانی میں چھپی پہیلی بوجھ نہ لی تو ماضی کا یہی بھوت ہمارے کاندھوں پر پھر سے سوار ہو جائے گا۔ مگر یہ بھوت ہمارے کاندھوں پر سے اترا ہی کہاں ہے؟ ہمارے کندھے اب اس بوجھ کے عادی ہو چکے ہیں۔

محترمہ جو کہتی ہیں سو کہتی رہیں، ان کی بات میرے دل کو اس لیے بھی لگی کہ کئی بھوت مجھے بھی نظر آئے ہیں۔ نا آسودہ خواہشات کے بھوت، اس نا مختتم ماضی کے بھوت جس کی مہلت ختم ہو چکی ہے مگر پیچھا چھوڑنے کا نام تک نہیں لیتا اور ضائع ہو جانے والے امکانات جو بھوت بن کر رہ گئے ہیں اور رہ رہ کر ستاتے ہیں۔ اتنے بہت سارے بھوت !

FATIMA BHUTTOبھوتوں کے اس دیس میں کہانیاں بھی وضع وضع کی سامنے آئی ہیں کسی افسانہ نگار کا قلم اس طرح اٹھتا تو یار لوگ اعتراضات کے مارے برا حال کر دیتے کہ مبالغہ بہت ہے۔ لیکن اب تو یہ کہانیاں زندگی کے حجم سے بھی بڑی لگتی ہیں۔ اس دہشت گرد کی کہانی جس کی تلاش دنیا کی بڑی طاقتوں کو تھی اور جو پاکستان کے ایک شہر میں برسوں چھپا بیٹھا رہا۔ بے اندازہ دولت اور سیاسی اقتدار کی کہانی جس میں قتل و غارت گری سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ پھر وہ کہانی جو نیویارک کے اخبار سے شہ سرخی بن کر ہم تک پہنچتی ہے__ بین الاقوامی یونیورسٹی جن کا وجود محض کمپیوٹر کی اسکرین تک ہے، ٹیلی فون پر گفتگو کرنے والے نوجوان جن کا لہجہ امریکی انگریزی یا عربی میں پُختہ ہے مگر پاکستان کے کسی شہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں، بے اندازہ رقوم جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہورہی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کائونٹ آف مونٹی کرسٹو اپنی پُراسرار اور بے اندازہ دولت کے ساتھ انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ تو مال دولت کا قصّہ ہے اور اس کا اخلاق سے کیا کام۔ مبادا آپ یہ سوچنے لگیں، جلد ہی منظر بدل جاتا ہے اور نئی سُرخی سامنے آتی ہے۔ ایک نسبتاً چھوٹے شہر سے جاری ہونے والی خبر میں بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کی عکس بندی کو پوری دیدہ دلیری کے ساتھ جاری کرنے کی تفصیل اتنی بڑی تعداد کے ساتھ بتائی جاتی ہے کہ آپ پھر حیران رہ جاتے ہیں__ ایسا کیسے ہوسکتا ہے اور اتنے بڑے پیمانے پر ایسی مذموم کارروائی کس کے ذہن نے تیار کی ہوگی۔ وقفے وقفے سے وہ کہانیاں بیچ میں آجاتی ہیں جو اب ایسی خبروں کے سامنے گھسی پٹی اور پرانی معلوم ہونے لگی ہیں__ اقلیت کا لیبل لگا کر دو چار پانچ، نہیں دس بیس کو بے دردی سے مار ڈالا گیا۔ نہیں، سو پچاس کو۔ جانے دیجیے، اگلی خبر سنیے۔ غیرت کے نام پر لڑکی کو ایک بار پھر زندہ جلا دیا گیا۔ خبر پرانی ہے، تفصیلات نئی ہیں۔ لڑکی کو گاڑی کی پچھلی سیٹ پر باندھ دیا گیا، لڑکی کے ساتھ گاڑی کو بھی جلا دیا گیا (آخر فرار کے جرم میں وہ بھی شریک تھی!) اور سزا سنانے والے جرگے میں لڑکی کے ماں باپ، رشتہ دار سبھی شامل تھے۔  تخیّل کو حیران پریشان کر دینے والی یہ کہانیاں آج کے پاکستان سے آئی ہیں۔ مگر کسی ناول یا طلسماتی داستان سے بھی زیادہ محیر العقول، بھوتوں سے بھی زیادہ بڑی ثابت ہوتی ہیں۔ اور یوں یہ ملک ادب کے ذریعے سے گزرنے کے بجائے براہ راستہ طور پر پوری دنیا کے تخیّل کو چونکا کر رکھ دیتا ہے۔کیا یہ کارنامہ ایسا نہیں کہ دیکھنے سننے والے دانتوں میں انگلیاں دبالیں؟

بھوتوں کی سر زمین __کیا ہماری ساری شاعری تمام، کہانیاں بھوتوں کی تخلیق ہیں؟ کیا بھوت کچھ تخلیق کرسکتے ہیں، ایسا کچھ جس میں ان کی طرح محض وہم کا اقتباس نہ ہو؟ بہت پہلے ایک کہانی پڑھی تھی، بھوتوں کا جہاز۔ کیا ہم اسی جہاز پر بیٹھے ہوئے عمر رواں کا سفر طے کر رہے ہیں۔ پورا ملک تو بڑی بات ایک گائوں ہی میں بھوتوں کا بسیرا ہو کر رہ جائے تو کیا منظر ہوتا ہے، کسی کو جاننا ہو تو حوان رلفو کا ناول ’’بنجر میدان‘‘ پڑھ لے جو لاطینی امریکا کے ادب کی ہی نہیں، بیسویں صدی کے ادب کی وقیع تخیلاتی دستاویز ہے ۔ سماجی بد حالی و غربت، اقتدار و مال کی خاطر کیے جانے والے جرائم، بدلے کی آگ، ناجائز اور تباہ کن محبّت کے ثمرات، زمین کی ہوس کا وہ اندھا جذبہ جس کے آگے باقی سارے جذبے ماند پڑجاتے ہیں۔ اس مختصر ناول سے پتہ چل جاتا ہے کہ بھوتوں کا گائوں اپنے اس انجام تک کیوں کر پہنچا۔ شاید ہمیں بھی انتظار کرتے رہنا چاہیئے کہ ہمارے دیس کے اس حال پر کوئی لاطینی امریکی ناول ایک نہ ایک دن ضرور لکھا جائے گا۔ آخر امید پر دنیا قائم ہے ۔ وہ دنیا جس کا ہم بھی حصّہ ہیں اور لاطینی امریکا بھی۔

شاید آپ کو اس وقت یہ شکایت اور بھوت کہانی پرانی بات معلوم ہو۔ مگر ہمارے قصّے میں پرانی باتیں رہ رہ کر نئی ہو جاتی ہیں۔ ٹیلی وژن کی خبروں سے یہ سرخیاں غائب ہو جانی ہیں، ان کی جگہ نئی باتیں آگئی ہیں۔ نئے سنسنی خیز معاملات، چونکا دینے والے انکشافات، حیرت زدہ کر دینے والی خبریں کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے مگر پھر بھی ہم جانتے ہیں کہ ایسا ہوگا۔ ایک اسکینڈل کے جیب و کفن میلے نہیں ہونے پاتے کہ اس کی جگہ لینے کے لیے اگلا تیار۔ کہانی وہی پرانی، حوالے نت نئے۔ زندگی کے نام پر رسوائی، اس کے چاروں طرف موت کی پرچھائیاں۔۔۔

زندگی صرف حاشیے تک سمٹ کر تو نہیں رہ جائے گی۔


Comments

FB Login Required - comments