شیریں مزاری کے لئے شکر کا مقام ہے


zunaira saqibآخر ٹریکٹر ٹرالی کہنے پراتنا ہنگامہ کیوں برپا ہے. جو عورتیں ہیں وہ تو ہنس رہی ہیں کہ شکر کرو، ٹریکٹر ٹرالی پر ہی جان چھوٹ گئی۔ ابھی لوگوں کو اندازہ نہیں کہ بازار میں، نوکری کرتے، بس میں چڑھتے عورتوں کو کیا کیا سننا پڑتا ہے. اصل میں سننے میں تو اب کوئی خاص حرج محسوس نہیں ہوتا یہ اس سے تو لاکھ درجے بہتر ہے جب اپنی جنسی تسکین کے لئے عورتوں کے جسم کے کسی بھی حصے پر ہاتھ لگاۓ جاتے ہیں۔ پہلے ہی دبی ہوئی مخلوق  کچھ اور سمٹ جاتی ہے. جاتے جاتے اپنی خباثت بھری مسکراہٹ سے نوازنے سے بھی  باز نہیں آتے. اور اب کچھ عقل کل حضرات کہیں گے ہاں تو اپنے آپ کو ڈھانپے

گی نہیں تو ایسا تو ہو گا. جناب مجھے پاکستان میں کوئی زیادہ نہیں، 2-3 عورتوں سے ہی ملوا دیں جو کہ اپنے آپ کو سر سے پیر تک ڈھانپتی ہوں اوروہ  یہ کہه سکیں کہ آج تک ان کو چلتے چلتے کوئی فحش گانا یا جملہ سننے کو نہیں ملا؟ جس سے مجھے یاد آیا ایک زمانے میں ابرار الحق نے ایک گانا گایا تھا “اساں تے جانا اے بلو دے گھر”. گانا بڑا مشہور ہوا اور گلی کے لڑکوں کا نیا “ملی نغمہ” بن گیا. بڑا شور مچا جی کہ ابرار کے اس گانے کی وجہ سے گلی کے لڑکے اب آتی جاتی لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں. بلو کا نام اس لڑکی کے نام سے تبدیل کر دیا جاتا تھا. اب اندازہ کریں مسئلہ گانے میں ہے، ان لڑکوں میں نہیں. تالیاں پیٹیں لوگوں کی عقل پر۔۔۔

خیر بات کہیں اور نکل گئی بات یہ ہے کہ کسی سیانے نے کہا تھا کہ مرد ہر لحاظ سے عورتوں سے برتر ہیں لکن کسی سیانی نے کہا تھا کہ مرد سب کچھ ہیں لیکن عورت نہیں ہیں۔ چونکہ آپ عورت نہیں ہیں اور آپ کے آگے پیچھے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا اور کچھ نہیں تو آنکھں سے نہیں بھنبوڑا تو آپ سے تو مکالمہ نہیں ہو سکتا

میں آپ کو سچ بتاؤں کچھ باتوں پر الله کا بڑا شکر کرنا چاہیے. مثال کے طور پر الله نے کچھ مردوں کو آنکھوں سے کھانے کی صلاحت نہیں دی. ورنہ یہاں کوئی عورت آپ کو سالم نہ نظر آتی۔ سب عورتوں سے گزارش ہے کہ مزاری کو سمجھائیں۔ ٹریکٹر ٹرالی ہی کہا ہے… کھا تو نہیں ڈالا. شور مچانا بند کرے ۔

اپنی عزت کا ہی خیال کرے۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments