کرنسی نوٹ پر لکھی عبارت اور عورت کے حقوق


salman yunus01 پاکستان کے کرنسی نوٹ پر دو جملے ہمارے سماج میں جاری مباحث اور ان کے حوالے سے ہماری اجتماعی رویے اور حقیقتوں کو سممجھنے میں مدد گار ھو سکتے  ہیں

پہلا جملہ رزق حلال عین عبادت ہے. اس پاکیزہ جملے کا زمینی حقیقت سے اتنا ہی تعلق ہے کہ رشوت میں دیے جانے والے ہر کرنسی نوٹ پر یہ جملہ پوری آب و تاب سے چمک رہا ھوتا ہے۔

البتہ کرنسی نوٹ کا دوسرا اہم جملہ توجہ کا طالب ہے کہ ’بینک دولت پاکستان حامل ہذا کو۔۔۔  عندالطلب ادا کرے گا۔ حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری ہوا۔‘

پسند کی شادی پر جلائی اور قتل کیے جانے والی لڑکیاں زیر بحث ہوں یا پارلیمنٹ میں شیریں مزاری پر کسی گئی بازاری بھپتی، بات عورت کے حقوق اور مقام کے تعین کی بحث پر آ تی ہے تو جس بنیادی اینٹ پر عمارت کھڑی کی جاتی ہے وہ خشت اول ہی کج ہوتی ہے

پبلک فورمز ہوں یا اہل سیاست کی محفلیں ، بظاہر متناقص نقطہ نظر کے افراد کے موقف کے تجزیے سے لگتا ہے کہ کم از کم ایک نقطہ اشتراک ہے اور وہ یہ کہ عورت کے حقوق حتی کہ پسند اور نا پسند کا تعین بہر حال مرد نے ہی کرنا ہے ، گویا جملہ حقوق بحق مرد محفوظ ہیں ہر حال میں۔

چند برس ادھر کی بات ہے کہ ایک دن نیویارک کے حلقہ ارباب ذوق میں جانا ہوا۔۔۔ اب یاد نہیں اس دن کا موضوع کیا تھا ، پر ایک صاحب مصطفی زیدی پر مضمون پڑھنے کو کھڑے ہوئیے، اب زیدی صاحب کی زند گی پر بات ہو اور عورت کا ذکر نہ آئے ، تو اس میں کوئی تعجب نہیں تھا البتہ جلد ہی صاحب مضمون نے عورت کو پہلے زیدی صاحب کی موت کا ذمہ دار عورت پھر عورت ذات کو آدم (ع) کے جنت سے بے دخل کیے جانے کی وجہ سے لے کر کائنات کی تمام برائیوں کی وجہ اور جڑ قرار دیا، راقم تو ابھی سکتے کے عالم میں تھا کہ ایک علمی اور ادبی محفل میں اپنے تئیں علم ، دانش اور احترام انسانیت سے جڑے افراد میں اکیسویں صدی میں امرکہ جیسے معاشرے میں آ کر بس جانے کے باوجود اگر ایسی سوچ پائی جاتی ہے تو باقی طرف کیا حال ہو گا ، کہ نا گاہ کسی جوشیلے صاحب سے برداشت نہ ہوا اور انھوں نے بیچ میں ھی اٹھ کر شور ڈالنا شروع کر دیا جس کو موقع غنیمت جان کر ہم وہاں سے ذہن میں سوچوں اور سوالوں کا جنگل اگائے اٹھ آئے۔

ہمارے معاشرے میں پسند کی شادی کے حوالے سے عورتوں پر مرد اور خاندان کی مرضی مسلط کرنے سے لے کر شادی سے انکار یا من پسند کی شادی پر قتل کے وا قعات عام ہیں، اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوشش تو درکنار بحث کی بھی مذہب، تہذیب اور روایات کے نام پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے جس کے حق میں من جملہ اور دلائل کے یہ بھی دلیل پیش کی جاتی ہے کہ یہ بھی ایک مفروضہ ہی ہے اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ پسند کی شادی کامیاب ور مطمین زندگی پر ہی منتج ھو گی

اس استدلال کی تہہ میں کارفرما سوچ اور اس کے محرکات اور دور رس اثرات کو سمجھنے کے لیے اگر یوں کہا جائے کہ جیسے یہ ایک مفروضہ ہے کہ اقوام غلامی میں خوش و مطمین نہیں رہ سکتیں جس کے حق میں تاریخ سے خوش اور مطمین آزاد اور غلام اقوام کی قریباً یکساں تعداد برآمد کی جاسکتی ہے

اس استدلال میں کہ چونکہ “خوش و خرم زندگی کی کوئی گارنٹی نہہیں اس لیے فریقین سے فیصلے کا حق چھین لینا جائز ہے”، میں بنیادی اخلاقی اور انسانی خرابی ہے۔ کیونکہ ایسی سوچ اور انسانوں کو بھیڑ بکریوں کے مترادف جاننا آخری تجزیے میں عملی نتایج اکے اعتبار سے ایک برابر ہیں۔۔۔

اس سوچ کے اثرات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہی سوچ اور استدلال خانگی زندگی سے ہوتا ہوا جب کارزار سیاست میں وارد ہوتا ہے تو آمریت اور جمھوریت مخالف قوتوں کی حمایت میں یہ دلیل پیش کرنے کا جواز بنتا ہے کہ ’’عوام تو چونکہ لاعلم ہیں چنانچہ مقتدر حلقے ہی ان کے لیے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور استحقاق رکھتے ہیں”، یا یہ کہ “کیا گارنٹی ہے کہ عوام کو حق حکمرانی دے دیا جایئے تو معاشی اور دیگر مسائیل حل ھو جائیں گے‘‘ سو یہ حق اپنے یعنی مقتدرہ کے پاس ھی رکھ کر مقتدرہ ہی کو عوام کے حقوق کا محافظ قرار دیا جائے

ہمارے معاشرے کا تلخ سچ یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ہمارا اجتماعی شعور اپیے ذاتی اختیار کی حدود اور دوسرے کے ذاتی حقوق کا نا قابل خلاف ورزی (inviolable) دائرہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور دوسروں کی زندگی کے ذاتی فیصلے کرنے کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے

اس کے ساتھ ایک مسئلہ وہ رویہ بھی ہے جو ان معامللات پر تنقید اور انھیں تبدیل کرنے کے تجاویز کو ہی تہذیب اور روایات کے تحفط کے نام پر غلط سمجھتا ہے۔ اگر ذیا بیطس کے مریض کو اس کی خواھش اور اصرار پر میٹھی گولیاں دینے کا عمل مسلمہ طور پر مضر اور ناقابل قبول اور ناقابل دفاع گردانا جاتا ہے تو معا اشرے میں تہذیب اور روایات کے نام پر بنیادی انسانی شرف سے متصادم روایات کا تحفظ کیسے صحت مند قرار دیا جا سکتا ہے

 گویا عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ مرد اور عوام کے حق حکمرانی کے محافظ اشرافیہ اور مقتدر طبقے ہیں کیونکہ عوام اور عورت، ہر دو کے حقوق حکومت پاکستان کی ضمانت سے جاری کئے گئے اور حامل ہذا کو عندالطلب ادا کئے جائیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کرنسی نوٹ پر لکھی عبارت اور عورت کے حقوق

  • 09-06-2016 at 2:40 pm
    Permalink

    بہت عمدہ،

Comments are closed.