رمضان ٹرانسمیشن اور مذہبی ہیجان


khurram niaziمغربی دنیا میں ٹی وی چینلز ایک درجہ بندی کے تحت دیکھے اور دکھائے جاتے ہیں۔ آپ ریموٹ ہاتھ میں تھام کر نمبر بدلتے جائیں، بچوں کے دس بارہ چینل ایک ترتیب سے آگے پیچھے ملیں گے۔ اسی طرح تفریح، کھیل، کھانے پکانے، فلم، دستاویزات، سیاحت، خبر، مذہب، موسیقی علیٰ ہذا القیاس۔ ناظر اپنے مزاج، مذاق اور افتاد کی مناسبت سے پسند کا چینل دیکھ سکتا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں یا نغموں میں اپنے ہوش کھو رہے ہوں اور اچانک ایک بریکنگ نیوز اور اس پر فوری تجزیہ سے آپ کے موڈ کا بیڑا غرق کردیا جائے۔

وطن عزیز میں صورتحال قطعاََ مختلف ہے۔ درجنوں چینل صبح شام ہیجان انگیز پروگراموں کے ذریعے سامعین میں چوبیس گھنٹے سنسنی پھیلائے رکھتے ہیں۔ رہی سہی کسر مارننگ شو پوری کرتے ہیں۔ ایک زمانے سے یہ تمام چینلزعملاََ عقیدے (فیتھ) کے چینلز بن چکے ہیں ان کی پوری کوشش ہے کہ مذہبی جنون کو جتنا بڑھاوا دے سکیں دیں۔ پاکستان میں دہشت گردی اور ہزارہا جانوں کے اتلاف کے باوجود الیکٹرانک میڈیا کی روش میں کوئی تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ آمد رمضان کے ساتھ تو یہ عمل انتہاؤں کو پہنچ جاتا ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے سحری اور افطاری کی نشریات میں پھکڑ پن، لچر پن اور تحقیر و تضحیک انسانیت کے جو مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں مشکل ہے کہ اس کی مثال کسی اور ملک سے مل سکے۔ یاد رہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی بڑی اکثریت دن رات انہیں چینلوں سے نتھی رہتی ہے۔

آپ فرض کریں کہ ایک شخص جسے پاکستانی کلچر اور زبان سے کوئی واقفیت نہ ہو وہ اچھے خاصے کھاتے پیتے افراد کو مع اہل خانہ لان کے سوٹ اور کم قیمت گفٹ پیکس پر ایسے ٹوٹتے دیکھ کر جیسے بھوکے کبوتروں کی ٹولیاں باجرے کے دانوں پر گرتی ہیں کیا تاثر قائم کرتا ہوگا؟ اس کو شاید اندازہ نہیں لیکن یہ ادھیڑ عمر خاتون جو ایک نوجوان میزبان کو گلے لگا کر دیوانہ وار چوم رہی ہیں اور وہ بزرگ جو ہنستے ہوئے ناچ رہے ہیں ان کو ان کے خاندان سمیت وی آئی پی عمرے کے ٹکٹ بالکل مفت بغیر کچھ کئے عطا ہو گئے ہیں۔ زبان سے ناواقفیت اس کے اس قیاس میں حائل نہیں ہوسکتی کہ داڑھی،جبہ و دستار سے مزین مرد اپنی عبایہ پوش شریک حیات کے ہمراہ دنیا بھر کے سامنے جو اوٹ پٹانگ حرکتیں کررہے ہیں اس کا صلہ انہیں کار یا ایک کلو سونے کی صورت میں ملنے والا ہے۔ وہ یہ تو سمجھ گیا ہوگا کہ جس لڑکے نے سٹیج پر کھڑے ہوکر اپنا سر منڈایا ہے اسے اس عظیم قربانی پر موٹر بائیک انعام میں ملی ہے لیکن یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہوگا کہ اس لڑکے کی تعلیم ایم بی اے ہے اور عید کے بعد اس کی شادی ہے!

عربی ثوب(عبا) میں ملبوس، چہرے پر فیشل اور میک اپ کی بہار لئے ہوئے، کچھ تازہ خط سے آراستہ کچھ صفا چٹ چہرے سمیت۔ چبا چبا کر بولتے، آیات قرآنی، حدیث رسول مقبول صل اللہ علیہ وسلم اور اسلامی تاریخ جملوں میں پرولتے مقررین، اپنے فنی مستقبل سے مایوس کچھ ریٹائرڈ اداکارائیں بھی سروں سے ڈھلکتے آنچل بار بار سنبھالتی اربوں روپوں کی اس انڈسٹری کی طرف متوجہ ہو گئی ہیں جس کی مصنوعات میں قومی مفت خوری،خیرات نوشی، منافقت، لالچ، قول و فعل کا تضاد اور سطحیت پیش پیش ہیں۔ بچکانہ سوالات پر بغلیں جھانکتے مہمانوں کے لئے چند رمضان قبل “مسلمانوں تکا لگاؤ!” کے مقبول فقرے کی ایجاد سےصرف اجتماعی کم علمی ہی کا اعتراف نہیں ہوا بلکہ جہالت اور بے شعوری پر فخر و غرور کرنے کا پیغام بھی عام ہوا۔

اس دفعہ نئی بات یہ نظر آئی کہ ابتدا ہی سے ان تمام نشریات کے میزبانوں نے ہاتھ جوڑ کر ناظرین سے پیشگی معذرت طلب کرلی کہ دین کا معاملہ نازک ہے اگر کوئی اونچ نیچ، بھول چوک ہوجائے تو بندہ بشر، بے خوابی اور تھکاوٹ سمجھ کر معاف فرمائیں۔ جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانے سے پہلے حاضرین سے کہا سنا معاف کروا لیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف دین ہی کا معاملہ حساس ہے باقی سائنس، معیشت، معاشرت، تعلیم، سماجیات، طب، فلسفہ، اخلاقیات، تہذیب وغیرہ سے متعلق تمام امور و علوم غیرحساس اور غیر اہم ہیں جن کے ساتھ ہر قسم کا کھلواڑ کرنے اور ہر عصری مسئلہ ‘علمائے دین اور مفتیان شرع متین’ کے سامنے دھرنے میں کوئی ڈر خوف آڑے نہیں آتا؟ دینی موضوعات پر عدم برداشت اور تشدد کا وہ ماحول جس میں مارننگ شو کی ایک خاتون میزبان ملک چھوڑ کر فرار ہوچکی ہیں اور ایک سابق گلوکار اور ملبوسات کے بہت بڑے بیوپاری کچھ عرصے دیار غیر میں گزار کر چند ماہ پہلے گوشمالی سے بال بال بچے ہیں۔ تو کیا مناسب نہیں تھا کہ یہ قومی نباض، حکماء الامت اور مقتدرہ کے مزاج شناس کچھ ہدایت پاتے، اپنے حریص مالکان کو بھی کچھ سمجھاتے اور ایک مقدس مہینے میں عوام الناس کو مزید مذہبی ہیجان میں مبتلا کرنے سے باز آتے؟؟!!

انسان پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کا مرقع ہوتا ہے۔ اس کا ماحول طے کرتا ہے کہ کون سا پہلو اس پر غالب آتا ہے۔ میڈیا کا کام صرف تصویر کشی کرنا ہی نہیں بلکہ وہ علم و شعور کے پھیلاؤ، تعصبات کے خاتمے، محنت کی عظمت، معقولیت پسندی اور تحقیق و تجسس کی حوصلہ افزائی کر کے ایک خوبصورت انسان کی تصویر گری بھی کرسکتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستانی میڈیا ان اعلیٰ مقاصد سے کوسوں دور نظر آتا ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “رمضان ٹرانسمیشن اور مذہبی ہیجان

  • 10-06-2016 at 11:37 am
    Permalink

    خوبصورت تحریر،عمدہ تجزیہ

  • 12-06-2016 at 12:56 am
    Permalink

    Good effort

Comments are closed.