سیکولر روایات کا بانی ۔۔۔۔ابن رشد


ابن رشد 14 اپریل 1126 کو مسلم اسپین کے علاقے اندلس میں پیدا ہوئے اور ان کی وفات 10 دسمبر 1198میں ہوئی۔ وہ عظیم فلسفی تھے۔ یورپین دنیا انہیں ’ایویروس‘ (Averroes) کے نام سے جانتی ہے۔ یورپ نے ابن رشد سے بہت کچھ سیکھا اور ان کی عظمت کے معترف ہیں۔ قرطبہ میں ان کا مجسمہ اسی عظمت کا اعتراف ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عظیم فلسفی ابن رشد کی سوچ، خیالات اور نظریات نے مسلمانوں اور مسلم تاریخ پر زیادہ گہرا اثر نہیں چھوڑا۔ مگر ابن رشد جدید یورپی تاریخ، سیکولر روایات اور جدید یورپین سوچ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔

ابن رشد کی اپنی زندگی میں ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ عظیم یونانی فلاسفر ارسطو کی سوچ اور اسلامی سوچ کو ایک ساتھ ملاکر کائنات اور دنیا کی حقیقت سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ ابن رشد کی کتابوں کا جب لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا تو پھر وہ ابن رشد سے Averroes ہوگئے۔ یورپ کا وہ دانشور طبقہ جو Averroes کی سوچ اور خیالات سے بہت متاثر تھا اور انہیں عظیم مفکر سمجھتا تھا انہیں Averroest کہا جاتا تھا۔ ایوروسٹ یورپ کا وہ پڑھا لکھا طبقہ تھا جو ابن رشد کو اپنا استاد تسلیم کرتا تھا۔

کیا بدقسمتی اور بدنصیبی کی بات ہے کہ مسلمان ابن رشد کی سوچ سے ہمیشہ دور رہے لیکن یورپی سماج اور معاشرت پر ابن رشد کے خیالات کا گہرا اثر ہوا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ آج ترقی یافتہ کہلاتے ہیں اور ہم مسلمانوں کو انتہاپسند کہا جاتا ہے۔ ابن رشد نے یونانی فلاسفر ارسطو کے خیالات کو تفصیل سے اور آسان زبان میں سمجھایا جس کی وجہ سے یورپ میں لوگ ارسطو سے واقف ہوئے۔

مورخین کے مطابق رومن فلاسفر Boethius وہ واحد دانشور تھا جس نے ارسطو کی کتابوں کے کچھ ترجمے کیے ۔ اس کے علاوہ لاطینی دنیا یعنی ویسٹرن رومن کیتھولک چرچ کے ماتحت جو یورپین سماج تھا وہ ارسطو کے بارے میں بہت کم جانتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ارسطو کے خیالات کا لاطینی زبان میں ترجمہ ہی نہیں ہوا تھا۔ ارسطو کی زیادہ ترتحریروں سے یورپ کے پڑھے لکھے افراد واقف نہیں تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ ارسطو کتنا بڑا اور عظیم فلاسفر تھا۔

یورپ میں ارسطو کو متعارف کرانے والا شخص مسلم فلاسفر ابن رشد تھا۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ مراکش کے خلیفہ یوسف یعقوب فلسفہ پڑھنے کے بہت شوقین تھے اور وہ ارسطو کو کائنات کا سب سے بڑا فلاسفر سمجھتے تھے۔ اس وقت عرب دنیا میں ارسطو کے جو حقیقی خیالات تھے ان کے عربی زبان میں بہت ترجمے ہوچکے تھے۔ ایک ترجمہ دوسرے ترجمے سے مختلف اور متضاد تھا۔ لہذا یوسف یعقوب نے ابن رشد کو کہا کہ وہ ارسطو کے خیالات پر مبنی تمام عربی ترجموں کو تفصیل سے پڑھے اور جو ارسطو کے حقیقی خیالات پر مبنی ترجمے ہیں انہیں اکھٹا کرے اور پھر ان فلسفیانہ خیالات کو عرب دنیا میں پھیلایا جائے۔

بہت سے ایسے ترجمے جنہیں ارسطو کے خیالات سمجھا جاتا تھا حقیقت میں وہ مترجم کی سوچ تھی۔ اس کے بعد ابن رشد نے ارسطو کی تمام کتابوں پر کمنٹری لکھی۔ ان میں سے کچھ کمنٹریز ایسی ہیں جو ابن رشد نے تفصیل سے آسان زبان میں لکھی۔ ان میں ابن رشد نے ارسطو کے حقیقی خیالات کو بیان کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے ان کمنٹریز میں اپنے خیالات کا بھی اظہار کیا۔ اس زمانے میں ایک بہت بڑا مسئلہ عرب دنیا میں یہ پیدا ہوگیا تھا کہ پڑھے لکھے لوگ افلاطون کے خیالات کو بھی ارسطو کے خیالات سمجھتے تھے۔ اس وقت ارسطو کے بارے میں مسلمانوں میں جو سوچ پائی جاتی تھی بنیادی طور پر وہ ارسطو کی سوچ نہ تھی، بلکہ ارسطو اور افلاطون کی سوچ کا مرکب ایک نقط نظر تھا جس کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوچکی تھی۔ ابن رشد نے ارسطو کی حقیقی سوچ عربی زبان میں لکھی اور پھر عربی زبان میں تحریر کی گئی ان کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ اس کے بعد یہ کتابیں یورپ میں پہنچی اور پہلی بار یورپ میں ارسطو کو دوبارہ دریافت کیا گیا کہ حقیقت میں ارسطو کے خیالات کیا تھے؟

یورپین اب ارسطو کو دوبارہ دریافت کر چکے تھے اور یہ دریافت ابن رشد کی وجہ سے ہوئی تھی۔ بارہویں اور تیرہویں صدی میں یورپ میں لکھنے والے تمام بڑے دانشور، مفکر اور فلاسفر ابن رشد کو ایک اہم ترین مفکر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ وہ عظیم انسان ہے جس نے حقیقی ارسطو کو دریافت کیا، اس وقت کے یورپی مورخین ابن رشد کو اپنی تحریروں میں the commentator لکھتے تھے۔ یعنی وہ انسان جو ارسطو پر حقیقی اتھارٹی رکھتا ہے۔

ابن رشد ارسطو کو اس دنیا کا سب سے بڑا فلاسفر سمجھتے تھے، اس لئے جب بھی وہ ارسطو کے بارے میں کچھ لکھتے تو انہیں the philosopher کےلقب سے یاد کرتے۔ یورپین مورخین اور دانشوروں کی یہ ایک متفقہ رائے ہے کہ ابن رشد وہ عظیم انسان ہے جس کی وجہ سے سیکولر خیالات اور سیکولر روایات یورپی دنیا میں نازل ہوئیں۔ اس لئے یورپی مورخیں انہیں سیکولر روایات کا بانی سمجھتے ہیں یعنی یورپی مورخین کے مطابق یورپ میں جو آج سیکولرزم کا دور دورہ ہے اس کی وجہ ابن رشد کی سوچ ہے۔ وہ سیکولرز جنہیں مسلم دنیا میں بدقسمتی سے کافرانہ خیال یا نظریہ سمجھا جاتا ہے حقیقت میں اس کا بانی بھی مسلم فلاسفر ابن رشد ہے۔

یورپ میں سیکولر روایات کے پھیلاؤ میں ابن رشد کا مرکزی کردار ہے اور یورپین فلاسفرز آج بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ابن رشد کہتے ہیں کہ سچ کبھی بھی سچ کا مخالف یا متضاد نہیں ہوتا۔ فلسفی فلسفے سے کائنات کے بارے میں جو سچ جان چکے ہیں یا سچ جاننے کی کوشش کررہے ہیں وہی حقیقی سچائی ہے۔ یہی سچائی اسلام سے بھی مل رہی ہے۔ اس لئے اسلام اور فلسفہ ایک دوسرے کے مخالف یا متضاد نہیں ہیں۔ ابن رشد کہتے ہیں کہ فلاسفی سچ تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے جبکہ اسلام بھی سچ تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے۔ دونوں راستے مختلف ہیں لیکن دونوں حقیقت میں ایک سچائی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اسلام اور فلاسفی دونوں مختلف راستے ہیں لیکن دونوں ایک ہی سچ کی جانب گامزن ہیں۔

ایک سچائی جو مذہب سے ملتی ہے اور دوسری سچائی جو فلسفے سے ملتی ہے۔ حقیقت میں دونوں سچائیاں ایک ہی ہیں۔ دونوں سچ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں مگر راستہ مختلف ہے۔ ابن رشد کے مطابق وہ مسلمان دانشور یا اسکالر جو فلسفے کی مخالفت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مسلمان دین سے دور ہورہے ہیں حقیقت میں وہ بھٹکے ہوئے ہیں اور مسلم دنیا کی اجتماعی ذہنیت کو پسماندہ کررہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں