خوش رہیے بھلے تھوڑی دیر کے لیے سہی!


ایم ایس بھارت کی مشہور کلاسیکل سنگر تھیں۔ تامل ناڈو سے تعلق تھا۔ وہ پہلی موسیقار تھیں جنہیں بھارت رتن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ فقیر کوئی بہت بڑا کن رس ہے اور ایم ایس کو پچھلے دس سال سے سن رہا ہے ، نہ! بالکل نہیں۔

کتابوں کی ایک دکان میں بیٹھے بیٹھے مختلف کتابیں سونگھی جا رہی تھیں کہ اس پہ نظر پڑی۔ اصل میں اس کا ٹائٹل کچھ چونکا دینے والا تھا۔ ایم ایس – اے لائف ان میوزک۔

تامل لوگوں کا ایک مسئلہ ہے ۔ وہ لوگ اچھے بھلے لمبے نام رکھتے ہیں اور انہیں بعد میں انگریزی مخفف دے کر بہت چھوٹا کر دیتے ہیں۔ جیسے اے پی جے عبدالکلام تھے ۔ وہ بھارت کے صدر بھی رہے ۔ ان کا اصل نام ابو الفاخر زین العابدین عبدالکلام تھا۔

چونکہ ان کی زبان میں عربی فارسی والی آوازیں نکالنے کی گنجائش کم ہے تو وہ لوگ فاخر کو پھاخر کہتے ہیں اور زین کو جین، یوں عبدالکلام، اے پی جے عبدالکلام ہو گئے اور وفات تک یہی رہے ۔ اے پی جے کس کا مخفف ہے یہ اس وقت بھی کم ہی لوگ جانتے تھے ۔ اے آر رحمن، ای وی کے سمپتھ، مطلب سب کے سب بڑے نام لے کے آتے ہیں اور انگریزی میں شارٹ ترین کروا کے سکون سے باقی عمر گزارتے ہیں۔

تو ایم ایس لکھا دیکھ کے دو خواہشیں جاگیں۔ ایک تو یہ کہ ان کا اصل نام کیا ہے ، اور دوسری یہ خواہش کہ ایک موسیقار کی زندگی پہ لکھی گئی کتاب کتنی چھپی ہے ، مطلب یہ کون سا ایڈیشن چل رہا ہے ؟

اپنے یہاں تو ایسا نہیں ہوتا نا، میں آج کتاب لکھ دوں استاد فتح علی اور استاد امانت علی پہ، وہ بیس سال بعد بھی شاکر علی میوزیم کے ثقافت والے دفتر یا الحمرا کے تہہ خانوں میں ہی سجی ہو گی۔ تو مالک نے دونوں آرزوئیں پوری کیں اور ساتھ میں ایک کہانی بھی دکھلائی۔

کوٹ کے بٹن جتنی چوڑی سی لال سرخ بندیا لگائے بڑی بڑی آنکھوں اور خوبصورت موتیوں کے جیسے دانتوں والی ایم ایس کا نام تو مدورائے شان مکھاوادیو سبولکشمی تھا، لیکن وہ پہلے ایم ایس ایس کہلائیں پھر فین لوگوں نے بعد میں انہیں سیدھا ایم ایس کر دیا۔

کتاب جو ان کی چھپی تھی وہ اب تیسرا ایڈیشن تھا جو میرے ہاتھ میں تھا۔ جسٹ امیجن! حد نہیں یار؟ اور وہ لوگ تو چھاپتے بھی کم از کم پانچ پانچ ہزار ہیں۔ تو کچھ نہیں تو کم از کم دس ہزار افراد اس کتاب کو پڑھ چکے تھے ۔

جو کہانی اس کتاب سے پتہ لگی وہ بڑی ہٹ کے تھی۔ اس کتاب کا ٹائٹل ایک ایسے مصور نے بنایا تھا جو آنکھوں سے تقریباً معذور ہو چکا تھا۔ وہ آسٹریلیا کی بنی ہوئی ایک عینک پہنتا تھا جس کے شیشے غالباً دنیا کے سب سے بڑے نمبر والے تھے اور وہیں سے بطور خاص ہر جگہ بنا کر بھیجے جاتے تھے ۔

اس عینک سے بھی وہ بس ایک انچ جتنا کاغذ بمشکل دیکھ پاتا تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ عینک بھی اسے ہر ایک دو منٹ بعد اتارنی پڑتی تھی تاکہ اپنی بیماری کی وجہ سے آنکھوں میں جمع ہونے والا پانی ٹھیک طرح سکھا سکے یا کسی چیز سے پونچھ سکے ۔

چھتیس سو مرتبہ عینک لگاتے اور اتارتے ہوئے ، کاغذ کو بار بار اپنی آنکھوں کے اندر گھسا کے ڈرائنگ کرتے ہوئے اور ایک وقت میں ایک انچ سے بھی کم کاغذ پہ فوکس کرنے کی اہلیت رکھنے کے باوجود اس نے اپنی ”ایم ایس اماں‘‘کی تصویر بنائی تھی۔

مصور کا نام منوہر دیوداس تھا۔ ستر کی دہائی میں اپنے پین سکیچز اور لائن ڈرائنگز کی وجہ سے بہت مشہور تھے ۔ شہر کی مختلف پرانی بلڈنگز، مندر اور سینریاں بنانا ان کی وجہ شہرت تھا۔ منوہر اور ماہیما دونوں میاں بیوی ایم ایس کے بہت قریب تھے ۔

ایم ایس کو بعض اوقات جوڑوں میں درد زیادہ ہوتا اور کبھی اگر اپنے شوہر سے مقدر خراب ہونے کا گلہ کرتیں تو وہ فوراً انہیں منوہر اور ماہیما کے بارے میں یاد دلاتے اور ایم ایس فوراً خاموش ہو جاتیں۔ ایم ایس کیوں چپ ہو جاتی تھیں؟

ماہیما مدراس کونونٹ کی پڑھی لکھی اور ذہین لڑکی تھیں۔ اپنے دور کی گولڈ میڈلسٹ تھیں۔ ادھر منوہر بھی مشہور پینٹر تھے ، آرٹسٹ تھے ، بہترین زندگی تھی، دونوں نے شادی کی اور امریکہ چلے گئے ۔ وہاں سجاتا پیدا ہوئی، وہ لوگ کام کے سلسلے میں بہت سی سٹیٹس کا سفر کرتے رہے اور بالاخر واپس آ گئے ۔ وہ جدھر جاتے تھے لوگ ان سے محبت کرتے تھے ، نئے دوست بنتے تھے ، وہ ہنستے گاتے ، بیٹی سے کھیلتے کودتے اور گھومتے رہتے ۔ وقت بہترین تھا مگر پھر کچھ بھی ایسا نہیں رہا۔

ان کا ایکسیڈنٹ ہوا، سامنے سے آنے والی ویگن نے ان کی گاڑی کچل دی، بیٹی ساتھ نہیں تھی تو بچ گئی، ماہیما کندھوں سے نیچے بالکل مفلوج تھیں۔ ہسپتال میں ان کا اتنا برا حال تھا جتنا کسی ایسے اپاہج کا ہو سکتا ہے جسے ابھی ایکسیڈنٹ بھگتے چار پانچ دن ہوئے ہوں۔ منوہر بیوی کی خدمت کرتے رہے ۔

آخر کار بہت مہینوں بعد ماہیما گھر آ گئیں لیکن اسی حالت میں جو پہلے دن تھی۔ مفلوج جسم اور وہیل چیئر پہ ہوتی ہوئی حرکت۔ وہاں منوہر کی بینائی ایکسیڈنٹ کے بعد تیزی سے کم ہو رہی تھی، انہیں پہلے کوئی ایسی بیماری تھی جو آنکھ میں پردے پہ آہستہ آہستہ اثر انداز ہوتی ہے ۔ حادثے کے بعد اس کا اثر بھی ایکدم بڑھ گیا۔
ماہیما اب گھر پہ بچوں کو سپوکن انگلش پڑھاتی تھیں، آرٹ کی کلاسیں لیتی اور فزیو تھراپی کرواتیں۔

کندھوں کی مختلف ورزشیں کر کے انہوں نے کچھ نہ کچھ لکھنا بھی شروع کر دیا تھا۔ منوہر کی بینائی اتنی کم ہو چکی تھی کہ وہ ایسے آئی ڈراپس ڈالنے پہ مجبور تھے جو پتلی کو تھوڑی دیر دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ اس کے بعد ڈرائنگ کرنے کے لیے وہ انتہائی تیز لائٹ کا لیمپ اپنے ساتھ رکھتے اور پھر دستانے پہن کے ڈرائنگ کرتے ۔

دستانے اس لیے کہ لائٹ کی گرمی سے ہاتھوں پہ پسینہ آ جاتا تھا اور کاغذ خراب ہونے کا ڈر رہتا۔ اور یہ سب کر کے بھی منوہر کتنا دیکھ پاتے تھے ؟ بس اتنا سا جیسے آپ کوئی دھاگے کی نلکی سے آنکھ لگائیں اور دوسری طرف دیکھیں اور سامنے کے دو تین انچ کا منظر واضح ہو۔

اس کے باوجود منوہر کی ہر ایک تصویر اپنی جگہ انتہائی باریکی سے بنی ہوئی ماسٹر کرافٹ ہوتی تھی۔ منوہر اتنی محنت اس لیے کرتے تھے کہ ان کی تصاویر پوسٹ کارڈ کی شکل میں فروخت ہوتی تھیں۔ ان کارڈز کی پشت پہ ماہیما وہ تمام محنت اور وہ ساری کیفیت درج کرتیں جن سے گزرنے کے بعد وہ کارڈز بنے تھے ۔

انڈیا کے بڑے کاروباری ادارے انہیں خرید لیتے اور ان کے پرنٹس ہر تیوہار پہ پورے بھارت میں پھیل جاتے۔ ان کارڈز کی آمدنی میں سے بھی زیادہ پیسہ پتا ہے کہاں جاتا تھا؟ چیریٹی میں۔ عطیات، صدقات اور دوسروں کی مدد میں، اس حال میں بھی وہ دونوں میاں بیوی آنکھوں کے ایک ہسپتال کو ہر سال بھاری رقم عطیہ کرتے تھے ۔

اب ایم ایس والی کتاب میں یہ قصہ آدھا تھا۔ صرف یہاں تک کہ منوہر نے سرورق کیسے بنایا۔ باقی تلاش کیا تو انٹرنیٹ پہ ڈھونڈا اور مل گیا، نام لکھیے سکون سے مل جائے گا۔ بڑے دنوں تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ آخر یہ دونوں لوگ ایکسیڈنٹ کے بعد اتنی طویل مدت زندہ کیوں رہے ؟

نہ تو یہ کوئی خاص اہل ایمان تھے ، نہ ہمارے سٹینڈرڈز کے مطابق پرہیز گار تھے اور نہ ہی کوئی بہت زیادہ امیر کبیر تھے ۔ یہ لوگ ڈپریشن سے چار پانچ سال بعد مر کیوں نہیں گئے ؟ ڈھونڈئیے تو صرف ایک وجہ نظر آئے گی اور وہ دوسروں کی مدد کا جذبہ ہے ۔

منوہر نے انہیں آنکھوں سے چھ کتابیں لکھیں، ماہیما کی 2008ء میں ہونے والی وفات کے بعد ان کے حالات زندگی پہ ایک کتابچہ لکھا اور اب بھی زندہ ہیں۔ سجاتا، ان کی بیٹی، اپنے شوہر کے ساتھ باپ سے دور کسی شہر میں رہتی ہیں، منوہر اب ایک ملازم کے ساتھ ہیں اور نوجوانوں کو مختلف ورکشاپس میں زندگی بسر کرنے کے گر بتاتے ہیں۔

تو بعض دفعہ ایسے ہی کچھ بھی کہیں سے بھی اٹھا کے پڑھنا ضائع نہیں جاتا۔ پانچ دس منٹ کی اس ریڈنگ نے زندگی کے بہت سے پردے کھولے ، جو سمجھ آئے فقیر نے آپ کے ساتھ بھی شئیر کر دئیے ۔ بات بس اتنی سی ہے کہ انسان کی مشینری بڑی پیچیدہ سی ہے ۔ کچھ لوگ منوہر اور ماہیما جیسے ہوتے ہیں اور بعض لوگ صحت سمیت دنیا کی ہر نعمت رکھتے ہوئے بھی روتے رہتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 468 posts and counting.See all posts by husnain