لاہور میں اخلاقی فتح سے اخلاقی شکست تک


سنہ 2013 میں الیکشن ہوا تھا تو تحریک انصاف نے الیکشن میں شکست کی وجہ 35 پنکچر قرار دیتے ہوئے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں اپنی اخلاقی فتح کا اعلان کیا تھا۔ اس اخلاقی فتح کے بعد 2018 کے الیکشن میں عمران خان نے سعد رفیق کے حلقے 131 میں غیر اخلاقی یعنی الیکشن کمیشن والی فتح پانے کے بعد الیکشن کمیشن سے سیٹ نکلوا بھی لی تھی۔ خواجہ سعد رفیق جیت کا مزا کرکرا کرنے کو چیختے رہے مگر ووٹ ری کاؤنٹ نہ ہوا لیکن پھر عمران خان میاں والی کے ہو گئے تو 131 میں دوبارہ گھمسان کا رن پڑا جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو اخلاقی شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

لاہور کے دونوں صوبائی اور قومی حلقوں میں نون لیگ کی فتح ہوئی۔ تحریک انصاف کی خواجہ سعد رفیق کے حلقے میں اخلاقی فتح، غیر اخلاقی یعنی الیکشن کمیشن والی فتح اور اس کے بعد اخلاقی شکست کے کیا اسباب ہیں؟ دوسرے حلقے یعنی 124 میں تو شاہد خاقان عباسی بہت بھاری مارجن سے جیتے ہیں۔

ہم نے غور کیا ہے کہ نیا پاکستان بننے اور بہترین نئی پالیسیوں کے باوجود لاہوریوں نے نون لیگ کو کیوں ووٹ دیا ہے؟ خاص طور پر اس سیٹ پر تحریک انصاف کیوں ہاری ہے جو عمران خان نے خالی کی تھی؟

اس کی کئی وجوہات ذہن میں آتی ہیں۔ مثلاً تحریک انصاف والوں کی طرف سے ایک جواز تو یہ پیش کیا جائے گا کہ اس کی وجہ ہم لاہوریوں کی خوراک ہے اور لاہوریوں سے یہی توقع تھی۔ ویسے اس دلیل میں کچھ وزن تو ہے، آخر عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر لوگ بھی تو لاہور سے جیتے ہیں۔

ایک وجہ یہ ذہن میں آتی ہے کہ تحریک انصاف کے لیڈروں نے دلچسپی نہیں لی۔ صرف پیسہ ہی تو سب کچھ نہیں ہوتا جو ہارون اختر جیت جاتے۔ علیم خان جیسی شجرکاری بھی تو جیت کے لیے لازم ہے۔ پھر ووٹر بھی مصروف تھے۔ ایک تو اتوار کا دن تھا۔ وہ ریلیکس کر رہے تھے۔ دوسرا تحریک انصاف کی لاہور میں شکست میں جیو نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ تبدیلی کے داعی لاہوری ووٹ ڈالنے کی بجائے ڈونکی کنگ دیکھنے چلے گئے تھے۔ جیو نے اتنی اچھی فلم بنائی تھی تو اس نے رش تو لینا تھا۔ کچھ انقلابی ووٹر اپنے گھر یا کاروبار دوبارہ سیٹ کر رہے ہوں گے جو پچھلے دنوں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں گرائے گئے تھے۔

لیکن اصل وجہ یہ لگتی ہے کہ لاہوریوں نے اپنے علاقے کے فخر یعنی نیلی راوی بھینسوں کو سرعام نیلام کرنے کا بدلہ لیا ہے۔ خاص طور پر مغل پورہ اور محمود بوٹی جیسے علاقوں والے حلقہ 124 میں اتنے بھاری مارجن سے شکست میں یہی فیکٹر اہم دکھائی دیتا ہے۔

یہ علاقہ ہے بھی دریا کے آس پاس کا جہاں بھینس سے محبت کرنے والے بے شمار لوگ رہتے ہیں۔ اب انہوں نے دیکھا ہو گا کہ ایک طرف میاں نواز شریف ہیں جو نیلی راوی بھینسوں کو وزیراعظم ہاؤس لے گئے اور ان کے بعد آنے والے شاہد خاقان عباسی نے بھی ان کے مرتبے میں کمی نہ آنے دی، اور دوسری طرف عمران خان ہیں جنہوں نے حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے ان بھینسوں کو نیلام کر ڈالا۔ لوگ ہرٹ تو ہوئے ہوں گے۔ پھر شاہد خاقان عباسی نے تو بھاری مارجن سے جیتنا ہی تھا۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے آئندہ جیتنا ہے تو اسے بھینس کو عزت دینی ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1026 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar