ڈبلیو گیارہ کو شرم کیوں نہیں آتی


hafsa noorجون کی تیز چلچلاتی دھوپ تھی زمین آگ اگل رہی تھی سونیا بس اسٹاپ پر کھڑی کافی دیر سے بس کا انتظار کررہی تھی۔ لگتا ہے آج سی این جی بند ہے، لیکن پرائیوٹ گاڑیوں کا ہجوم کم نہیں ہوتا اتنے میں کالی کرولا آکر سونیا کے پاس رکی۔ ایک بھونڈی سی شکل والے نے سونیا کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کیا سونیا نے منہ پھر لیا اور بس کا انتظار کرنے لگی۔ دور سے بس آتی دکھائی دی۔ سونیا نے بس کی طرف دوڑ لگا دی۔ بس رکنے کا انتظار کرنے سے پہلے وہ بس میں چڑھنے کی جلدی میں تھی اس خوف سے اگر یہ بس نکل گئی تو نہ جانے اس کو اور کتنی گاڑیوں والے دعوت دیں گے. بس کے پائیدان پر پیر رکھنے کے لیے آگے بڑھی ہی تھی کہ فٹ پاتھ پر تیز رفتار موٹرسائکل سوار نے اسکا راستہ کاٹنا چاھا اور آوازہ کس کر چلتا بنا۔ سونیا بس میں چڑھی جو عورتوں کے ہجوم سے کھچاکھچ بھری تھی سفر طویل تھا، گرمی کی شدت، اوپر سے عورتوں کی مچ مچ سونیا کو عورت ہوتے بھی نہ پسند تھی، کافی دیر بعد دروازے کے پاس ایک سیٹ ملی وہ جھٹ سے بیٹھ گئی۔ شدید گرمی میں خود کو برقعے میں لپیٹ کر خود کو غیر محفوظ سمجھنا ایک ایسی کیفیت ہےجو مردوں کی سمجھ سے بالاتر ہے.

ہوا کا نام و نشان نہیں تھا مگر جب ویگن تیز ہوتی تو تھوڑی سی ہوا آتی تو لیکن (کمبخت) برقعے کی دیوار سونیا کے جسم تک ہوا کی رسائی نہیں ہونے دے رہی تھی اور سونیا پسینے میں شرابورتھی. سونیا نےصورت حال سے جھنجھلا کر ابھی نقاب اتارنا ہی چاہا تھا کہ اتنے میں سونیا کو اپنی کمر کے پاس ایک اجنبی سا لمس محسوس ہوا

 شاید گرمی سے پسینہ سر سے کمر کی جانب رواں تھا مگر یہ سلسلہ بڑھتا ہوا دیکھائی دیا۔ سرسراہٹ تیز ہوئی تو سونیا آگے پیچھے ہوئی مگر حرکت نے زور پکڑا تو سونیا گھبراہٹ کے مارے کھڑی ہوئی دیکھا تو سیٹ کے نیچے تین انگلیاں تھی جس میں شہادت کی انگلی واضح تھی۔ نظریں اٹھائیں تو اسکے باپ جتنی عمر کا آدمی تھا جو چونکا اور کھسیانا ہو کر پرے دیکھنے لگا۔ سونیا کے تن بدن میں جھرجھری سی آگئی۔ ماضی کی خاموش آوازیں چیخنے لگی۔ سونیا کو وہی سب یاد آنے لگا جب پانچ سالہ بچی کو حیدرآباد سے کراچی جاتے ہوئی ایک بوڑھے نے اپنی گود میں بیٹھا لیا تھا جو اس کے ننھے بدن کو سہلاتا ہاتھ گھماتا ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پھر اس کے ہاتھ گال چومتا ہونٹوں کو اس کے ننے پیروں پے سہلاتا اسکے گالوں پر بوسے دیتا تھا۔ ننھی سونیا اس شیطان کی گود میں سختی برداشت کررہی تھی بے چینی سمجھ نہیں پارہی تھی اسکی معصوم سی عمر مگر وہ زور سے رو پڑی تھی بابا نے سونیا کو واپس اپنی گود میں لیا اور رش میں بھری ویگن میں سامان سے بھری گٹھڑی بوڑھے کو تھما دی۔ بھائی اس میں میرا قیمتی سامان ہے اس کا خیال رکھنا جب کہ بابا کے ہاتھ قیمتی سامان واپس لگ چکا تھا۔ سونیا اس بار واویلا کرنا چاھتی تھی لیکن کرتی بھی تو بدنامی اور سب کو خبر ہونے کہ ڈر سے سوکھے حلق میں غلیظ احساس کے ساتھ منزل کا انتظار کرنے لگی۔

سونیا نے سوچا وہ چیختی بھی تو کہاں کہاں پورا معاشرہ اسے ڈبلیو گیارہ لگا رہا تھا۔ بس اسٹاپ ہو یا بھرا بازار، ہر جگہ عورت کے لیے تنگ ہے۔ ہاتھ مارتے اور آوازیں کستے ہوئے مرد، اسکول ہو یا مدرسہ خود کو سات پردوں میں لپیٹ کر بھی غیر محفوظ سمجھنے کا خیال اب شاید ہماری رگوں میں سرایت کرچکا ہے۔ ہزاروں اٹھنے والی نظروں اور تن پر کپڑے ہونے کے باوجود خود کو برہنہ تصور کرنے کے رواج نے عورت کو نفسیاتی غلام بنا دیا ہے۔ موسم گرم ہو تو بھی ہمارے جسموں پر بارہ مہینے سرد مہری مقدر ہے۔ بارش میں تو برقعہ بھی جسم کا غرور نہیں چھپا پاتا۔ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں عورت کو تو پردے کی تلقین کی جاتی ہے مگر نیت چار سال کی بچی پر بھی خراب ہو جاتی ہے۔ جہاں پھول جیسے بچوں کی آبرو بھی محفوظ نہیں۔۔ جہاں زلزلوں کا مرکز بھی عورت کی بےحیائی پر مختص ہو جہاں زمین تو کانپتی ہو مگر ضمیر نہیں۔ ۔جہاں عورت کے جینز پہنتے ہی شہروں میں سیلاب آجائیں۔۔۔ جہاں بدنام زمانہ گلیوں میں جانے والے کا کوئی نام نہیں مگر اس گلی میں بیٹھی عورت گالی ضرور ہے۔ خود کو حاجی قاضی عبادت گزار کہنے والی قوم ہر سال فحش مواد تلاش کرنے پر اول آتی ہے تو کیا ہوا۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلوانے پر بضد ہیں۔ ہم یوم حیا، یوم منافقت اور یوم خجالت نہیں مناتے۔ ارے تو کیا فرق پڑتا ہے قائد کے مزار کے باہر عورت جسم فروشی کرتی ہے۔ سونیا سوچنے لگی شاید عزت کی ساری گھٹی ہمارے لیے ہے۔

 ہمارا سارا کا سارا معاشرہ اس ڈبلیو گیارہ کے بس اسٹاپ پر کھڑا ہے ۔

اب ڈبلیو گیارہ پورے اڑسٹھ سال کا ہے


Comments

FB Login Required - comments