نعرے بازی کا نشہ


mubashirگئے دنوں کی بات ہے کہ اک محفل میں، اپنے اک دوست، چوہدری عقیل صاحب نے واقعہ سنایا کہ میاں نواز شریف صاحب واپس آنے کے بعد کہیں بات کر رہے تھے، تو حاضرین مجلس میں سے کسی نے نعرہ لگایا: قدم بڑھاؤ نواز شریف، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ میاں صاحب یہ بات سن کر مسکرائے، نعرہ لگانے والے کو روکا، اس سے مخاطب ہوئے اور کہا: جناب، یہی نعرے میں 1999 میں بھی سنتا تھا۔ قدم بڑھا کر جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا، آپ بھی نہیں تھے وہاں۔

یہی ہوتا ہے، مگر اس کی سمجھ ایسے نعرے سن کر قدم بڑھانے والے کو تب ہی آتی ہے جب اس کے سر سے پانی گزر چکا ہو، اور بشرطیکہ وہ زندہ ہو۔ نعرے لگانے والے، اور ان نعروں کی بنیاد پر بقول شخصے “باندر نوں بانس تے چاڑھن آلے،” گویا اپنا کام، یعنی نعرے مار کر فرار ہو چکے ہوتے ہیں۔ بھگتتا وہی ہے جو ان نعروں سے کسی بھی قسم کی ذہنی افیون کشید کررہا ہو، اور بسا اوقات تو اس کی قیمت اپنی زندگی سے بھی چکانی پڑتی ہے۔

صاحبو، ہر کسی کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے زندگی کے بارے میں، اور ہر کسی کو اس کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ مجھ جیسے غریب گھروں میں پیدا ہوجانے والوں کی زندگی اگر ہر قدم پر نہیں، تو ہر دوسرے قدم پر پٹائی لازمی کرتی ہے، اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے کہ جب تک نچلے درمیانے طبقے کی “جماندرو جذباتیت” سے چھٹکارا حاصل نہیں کرلیا جاتا۔ اور یہ کام آسان نہیں ہوتا۔ جذباتیت کی افیون کا بھی اپنا ہی مزہ اور نشہ ہوتا ہے، اور اس کے نشئی اک ایسی خیالی دھند کا شکار رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں کہ جہاں گزاری جانے والی زندگی میں میٹا فزکس (مابعدالطبیعاتی) معاملات واقع ہوسکتے ہیں، اور انکے بقول ہوتے بھی ہیں۔ میری زندگی کا ذاتی فلسفہ اس کے بالکل الٹ ہے۔ میں زندگی کو اسباب، فزکس اور پانچ حسیات کے دائرے میں رہ کر جینے کو ترجیح دیتا ہوں، اور میرے نزدیک دعاؤں سے کسی کی توپوں میں کیڑے نہیں پڑتے اور 1965 کی جنگ میں کوئی سبز پوش بابے راوی اور چناب کے پُلوں کے پاس بم کیچ کرکے انڈین جہازوں کو آؤٹ نہیں کر رہے ہوتے ۔ یہی بابے شاید 1971 میں چھٹیاں گزارنے بنکاک یا بیروت گئے ہوں گے!

khurram zakiمگر سچ کہوں گا کہ فزکس کی اساس پر زندگی اک ایسے معاشرے اور ایسے لوگوں کے مابین جینا آسان بالکل نہیں ہوتا جو فزکس سے زیادہ میٹا فزکس پر یقین رکھتے، کرتے ہوں، اور نہ صرف یقین رکھتے اور کرتے ہوں، بلکہ اس کی اک پرتشدد تشریح بھی آپ پر لاگو کرتے ہوں۔ آپ چونکہ میٹا فزکس کی دھند سے نکل کر فزکس کی سچائی میں آن نکلتے ہیں تو آپکا کوئی گروہ باقی نہیں بچ پاتا، اور کوئی گروہ شاید آپکو اون بھی نہیں کر پاتا۔ لہذا، آپ اپنے خیالات و تصورات کے ساتھ عام طور پر اکیلے ہی ہوتے ہیں، اور سب کے ہی نشانے پر ہوتے ہیں۔

آج 9 جون ہے۔ کراچی میں قتل کیے گئے شہری حقوق کے لیے سرگرم اک کارکن، خرم ذکی سے ان کی زندگی کا حق چھینے ایک مہینہ اور ایک دن ہو گیا ہے۔ ان کے قتل پر میں نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسا لکھا کہ مجھے ان کے مؤقف سے اتفاق ہے، مگر اس مؤقف کے پرچار کے طریقہ کار سے اتفاق نہ تھا۔ جانے والے پر کیا بات کرنی، مگر یہ بھی لکھا کہ انکی فیس بک نیوزفیڈ اور ٹویٹر اکاؤنٹ کو دیکھنے پر انکے مؤقف کی شدت کا بھی اندازہ ہوتا ہے، اور انتہا کسی بھی صورت درست نہیں ہوتی۔ یہ لکھنا تھا، کہ ان کے مسلک سے تعلق رکھنے والے گویا بمانند ابابیلاں اپنی اپنی چونچ میں پتھر اٹھائے مجھ پر پل پڑے۔ گالیوں اور واہی تباہی کا اک طویل سلسلہ، اور مجھے اعتراف ہے کہ اس سلسلہ میں، میں بھی اپنا پیرائے قائم نہ رکھ سکا۔ مگر دعویٰ کروں گا کہ جو “محبت” میرے ساتھ خرم ذکی کے مسلکی ہمدردوں نے فرمائی، میں نے اس کا شاید آدھا پرسنٹ بھی نہ کیا، کہ نہ تو اس کی ہمت تھی، اور نہ ہی اپنا ایسا مزاج ہے۔ اور اپنے پیرائے کو لمحاتی طور پر ہارنے پر میں معافی کا خواستگار تھا، ہوں، اور رہوں گا۔ وہ الگ بات کہ مجھ پر محبتوں کا یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، اور نامعلوم کب تک جاری بھی رہے گا!

مجھے اپنے تمام محبتی یاروں سے پوچھنا ہے کہ پچھلے اکتیس دنوں میں خرم ذکی کی بیوہ، ان کے بچے، ان کا خاندان اور ان کے لواحقین جس کرب سے گزر رہے ہوں گے، کیا آپ کی سوشل میڈیائی نعرے بازی اس کرب کا مداوا کر ے گی؟ کیا کر بھی سکتی ہے؟ وہ جب حیات تھے، تو پلےکارڈ اٹھا کر اپنے مؤقف کی حمایت میں کھڑے ہوتے تھے، تو انکے پیچھے “قدم بڑھاؤ” والے مجھ جیسوں کی اک بڑی تعداد ہوتی تھی، اس تعداد کو اگر ایک ارب سے بھی ضرب دے لی جائے تو کیا خرم ذکی کے بچوں، بالخصوص بیٹی، کے سر پر ان کا سایہ کیا ایک سیکنڈ کے لیے بھی آ سکے گا، آ سکتا ہے؟ فیس بک اور ٹویٹر پر اپنی “ڈی پِیز” کو خرم کی تصاویر سے بدلنے والوں نے ایک آدھ ہفتے بعد دوبارہ سے اپنی پروفائل پکچرز بدل دیں، کوئی کارٹون لے آیا، کسی نے کسی فلمی ہیروئن کی تصویر لگا ڈالی، کسی کی تصویر میں عشقیہ شعر تھا، تو کسی نے وادی میں چرتے ہوئے بکروں کی تصویر اپنی نمائندہ بنا ڈالی۔ خرم ذکی سے عقیدت، اور مجھ سے “محبت” گویا دس دن کی ہی مار تھی۔

خرم اگر میرے دوست ہوتے، ان سے 2009-2010 میں تین ملاقاتیں رہی ہیں، مگر دوستی کا دعویٰ نہ کروں گا، تو انہیں میاں نواز شریف صاحب سے منسوب واقعہ سنا کر درخواست کرتا کہ: “میرے یار، زندگی ہمیشہ ریس کے پیڈل پر ہی پاؤں رکھ کر بسر نہیں ہوتی، اکثر بریک لگانی پڑتی ہے، اور کبھی کبھی ریورس بھی کرنا پڑجاتا ہے۔ مگر زندگی کی گاڑی میں موجود رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ زندہ رہنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ سماج میں سرگرم لوگوں کا چھوڑا ہوا خلا تا دیر پُر نہیں ہو پاتا، کئی صورتوں میں پُر ہو ہی نہیں پاتا۔ “

خدارا، کوئی خرم ذکی کے گھر والوں تک یہ پیغام پہنچا دے کہ خرم بھلے دلیر آدمی تھے، مگر انہی کے نقش پا پر چلنے کی ان کے بہت ہی چھوٹے بیٹوں کو کوئی ضرورت نہیں۔ ان کو، ان کے مسلکی دکاندار، جلسوں جلوسوں میں لئے پھرتے ہیں اور آٹھ نو سال کے بچے تقریریں بھی کرتے ہیں۔ میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر یہ مناظر گھوم گھام کر مجھ تک پہنچ جاتے ہیں۔ خرم ذکی واپس نہیں آئیں گے، مگر ان کے بچوں کو نعروں کے نشے اور شدت کے سفر سے بچانا ان کے گھر والوں کا فرض ہے۔ ان کی عمر نعرے مارنے یا نعرے مروانے کی نہیں، ان کی عمر اپنے باپ کے بغیر ساری عمر جی کر، اپنی زندگی فزکس کے دائرہ میں گزارنے کے چیلنج کو سمجھنے کی ہے۔ انہیں نعرہ باز نہیں بننا، انہیں اس معاشرے، یا کسی بھی دوسرے معاشرے کے کارآمند، مثبت، ترقی کرتےہوئے، اور ترقی دینے والے افراد بننا ہے۔ انہیں نعروں کی افیون سے بچائیں۔

اور ہاں، یہ مضمون میرا “بدلہ” نہیں، میری پکار ہے۔ میری درخواست ہے۔ میری منت ہے۔ ان تمام سے جو نعرہ بازی کی افیون کے شکار ہو کر کسی میٹا فیزیکل مقصد کے لئے اپنی جان صلیب پر لے آتے ہیں۔ معاشرے میں رہنے والے شہریوں کی یہ ہیومن کنڈیشننگ درست نہیں ہوتی۔ یہ افیون آپ کو بھلے میٹا فزیکل دنیا میں لے چلے، پیچھے فزکس پر بنیاد رکھنے والی دنیا میں آپ کے پیارے، آپ کو روز یاد کرکے روتے ہیں، اور آپ کے پیچھے نعرے مارنے والوں کی پروفائل پکچرز پر فلمی ہیروئنز ناچ رہی ہوتی ہیں، یا بکرے چر رہے ہوتے ہیں۔

جیتے رہیے، کہ جینا بہت ضروری ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “نعرے بازی کا نشہ

  • 09-06-2016 at 5:36 pm
    Permalink

    اگر انسان کا کوئی مقصد ہو تو ضروری نہیں کہ مرنا مارنا اس کی انتہا ہو، خرم زکی کس کو مارنا چاہتا تھا ؟ اور کیا وہ مرنا چاہتا تھا؟ اور وہ سب جو تاریک راہوں میں مارے گئے ، فائرنگ، بم دھماکے ، ٹارگٹ کلنگ ، تشددسے ناگہانی موت کا شکار ہونے والے ہزاروں پاکستانی ؟ کیا سب مرنے مارنے کے جنون میں تھے؟ شہباز تاثیر ، شہباز بھٹی ، یہ بھی مرنے مارنے نکلے تھے ؟ چلیں ان کو چھوڑیں تاریخ میں زندہ ہزاروں شہید جو اپنے نظریات کے لئے جان سے گئے وہ سب مرنا مارنا چاہتے تھے؟ سقراط مرنے مارنے نکلا تھا ؟ سرویٹس کس کو مار رہا تھا ؟ یہ اتنا آسان نہیں کہ مظلوم کو ظالم بنا دیں، اس کی موت کا الزام اسی پر ڈال دیں، اس کی جگہ خود کو رکھیں.
    ہر دور کا نخچیر رہا ہے لب گویا
    یہ دور بھی منصور کو سولی پہ چڑھا دے
    ہر انسان اپنے ضمیر کو جواب دہ ہے، یہ فیصلہ اس پر چھوڑیں کہ ہم میں سے ہر ایک کہاں تک ضمیر کی آواز سنتا ہے اور کیا کرتا ہے ، شکایت کسی سے نہیں ، الزام کسی پر نہیں، تاریخ خود فیصلہ دے گی کہ کون کیا تھا ، جو چھوڑ گئے وہ بھی اور جو کھڑے رہے وہ بھی سب تاریخ کی کسوٹی پر پرکھے جائیں گے .

  • 09-06-2016 at 6:35 pm
    Permalink

    مبشر اکرام صاحب بہت عمدہ لکھاری ہیں۔ میں انہیں ٹویٹر پر دو سال سے فالو کررہا ہوں۔ مسلک کے حوالے سے لکھتے یا ٹویٹ کرتے ہوئے ان کے اندر چھپا ہوا ننھا منا تکفیری جاگ جاتا ہے جو اس تحریر سے بھی عیاں ہے۔ انتہائ بچگانہ تحریر۔ ایسی تحریر آپ انہیں سپاہ صحابہ یا لشکر جھنگوی کے کسی لیڈر کے خلاف لکھنے کو کہیں تو موصوف کو وٹ پڑ جانے ہیں ۔ 🙂

    • 09-06-2016 at 7:36 pm
      Permalink

      لیں محترمی, بس کہ سند رہے, باقی آپ اگر دو سال سے خادم کو فالو کررہے ہیں, تو نامعلوم کیا فالو کررہے ہیں کہ وہ لکھا, جو لکھا, آپکو دعا ہے آقا, اور بھی کئی لنکس ہیں, مگر ابھی ذرا مفت کا اک افطار اڑا لوں, دوست,

      پڑھئیے:http://www.humsub.com.pk/17750/mubashir-akram-9/

    • 09-06-2016 at 10:49 pm
      Permalink

      پہلے بھی کمنٹ دیا، مگر وہ انٹرنیٹ کی ہیراپھیری سے کہیں آگے پیچھے ہوگیا۔ کہا یہ تھا، ابوعلیحہ صاحب کہ اگر آپ خادم کو دو سال سے فالو کررہےہیں، تو نامعلوم کیا فالو کررہےہیں، کہ جو لکھا، وہ شاید پھر نہ لکھتے۔ آپ نے چونکہ موضوعاتی بحث کو ذات کی جانب موڑ ڈالا تو یہ لیجیے، آپکے لیے خاص:

      http://www.humsub.com.pk/17750/mubashir-akram-9/

      باقی اگر آپ مسالک کے نام کے ساتھ کوئی مضمون پڑھنا چاہتے ہیں تو پھر یقین کیجیے کہ لکھنے کا یہ سلیقہ مجھ میں نہیں۔ آپکو دعا ہے، اور خیال بےشک مسلسل بناتے رہا کیجیے، رائے سے پرہیز کیا کریں کہ جانے بغیر کسی شخص اور موضوع کے بارے میں رائے کچھ امیچؤر سا رویہ محسوس ہوتا ہے۔ جیتے رہیں۔

  • 09-06-2016 at 7:19 pm
    Permalink

    غلطی خرم زکی کی نہیں ہے. غلطی مرد مجاہد،مطلق ال اننان ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی ہے بلکہ ان کے والد محترم کی ہے. شاید سکندر مرزا اپنے میر جعفر شجرہ نسب کی وجہ سے اتنے قابل نفرت نہ ہوں جتنا ضیاء مرحوم نفرت کے قابل ہے.اس نے صحیح فرقہ واریت کو پروان چڑھایا.

  • 10-06-2016 at 4:02 pm
    Permalink

    بالکل ہی بیہودہ آرٹیکل ہے، فرقہ وارانہ قتل کے خلاف کھڑے ہوئے ایک انسان کو، جس نے اس معاشرے کے ناسور کی طرف اشارہ کرنے میں جان تک قربان کر دی، اسے جذباتی اور پاگل ثابت کرنے کی کوشش پر ایسے لکھاریوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے.
    مقتول کو ہی اپنے قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا جو صدیوں سے اس معاشرے میں ہوتا آ رہا ہے. اور لبرل سرکلز میں بھی یہ بات ہو گی اس کی امید نہ تھی.
    ویسے تو طالبان کیخلاف جدوجہد میں ہزاروں رہنما اور عوام اپنی جان سے گئے. لیکن صرف خرم زکی کو اپنے قتل کا ذمہ دار ٹھہرانا لکھاری کے مسلکی امتیاز کا آئینہ دار ہے.

Comments are closed.