درسی قاعدہ جدید: غیر سیاسی


روزنامہ دھرتی کے ایڈیڑ عابد صدیق صاحب نے محمد کبیر خان کی کتاب ”درسی قاعدہ جدید‘‘ کی تقریب اجرائی میں اس محبت کے ساتھ مدعو کیا کہ اقرار کے سوا چارا نہ تھا۔ کیونکہ روایت کے برعکس یہ ایک زندہ و جاوید کردار کے ساتھ منائی جانے والی شام ہے۔ یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمیں نامورشخصیات کے اعزار میں تقریبات منعقد کرنا اور ان کی تحسین کا فن نہیں آتا۔ مرد کوہستانی ادیبوں، شاعروں، سائسندانوں اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور تکریم اپنے شایان شان نہیں سمجھتے۔

عالم یہ ہے کہ ہم صاحب کشف وکمال کو بھی اس وقت تک دل میں اترنے نہیں دیتے جب تک وہ قید حیات سے آزاد نہیں ہوجاتا۔ بعد مرنے کے قبر پر چادر چڑاتے ہیں۔ تعزیتی جلسہ منعقد کرتے ہیں۔ مقریرین شعلہ بیانی کے جوہر دکھاتے ہیں۔ محروم کی حیات وخدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔

محمد کبیر خان کو میں نے پہلی بار راولاکوٹ میں ان کی کتاب ہمہ یاراں دشت کی تقریب رونمائی میں دیکھا۔ اس تقریب کا نقش ابھی تک میرے حافظے میں تازہ ہے۔ جناب ضمیر جعفری، احمد ندیم قاسمی اور امجد اسلام امجد جیسے بلند پایہ ادیبوں کو دیکھنے اور سننے کا یہ پہلا موقع تھا۔ ہمہ یاراں دشت کا بہت چرچا ہوا۔ یقین نہیں آتاتھا کہ
؎ ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی۔

پونچھیوں کے پرکھوں کا پیشہ سپہ گری تھا۔ عساکر کی دھرتی کی کوک سے ایک ادیب کا جنم لینا، قلم و قرطاس تھامنا اور پھر اپنا رنگ جمانا بہت کھٹکا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب راولاکوٹ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ لوگ ایک دوسروں کو نہ صرف پہچانتے بلکہ چہرے بھی پڑھ لیتے۔ دکھ درد سانجھے اور صحن مشترک تھے۔ چھوٹے سے بازار میں درجنوں ہوٹل نما چائے خانے تھے۔ دن بھر سیاسی کارکن جہاں بیٹھ کر گیپیں ہانکتے۔ کیک رس مل جاتے تو چائے کا لطف دوبالاہوجاتا۔ شہر میں ابھی بیف تکوں نےاپنا رنگ اور سکہ نہیں جمایا تھا۔

سیاست پر گفتگو اور دوسروں کی اصلاح کی فکر پونچھوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ بسم اللہ چوک میں عنایت بیکری کے پہلو میں سردار اسحاق خان صاحب عقاب والے کی دفتر نما دوکان تھی جو ان دنوں اصلاح معاشرے کے علمبردار تھے۔ محمد کبیر خان کو ان کے پاس بیٹھے دیکھا تو ایسا لگا کہ کوئی فوجی تازہ تازہ ریٹائرڈ ہوکر گاؤں لوٹا ہو۔ چہرے مہرے سے وہ ادیب دکھے نہ صحافی۔

جی ہاں! بظاہر اس گم سم شخص نے ایک نہیں دس کتابیں لکھ ڈالیں۔ ان کی کتابوں کے مطالعہ سے ان کی لاجواب حس مزاح کا پتہ چلتاہے۔ جملے چپکانے اور ٹھٹھہ اڑانے میں وہ اپناجواب نہیں رکھتے۔ ایسے ایسے فقرے کستے ہیں کہ قاری بے اختیار لوٹ پوٹ ہوجاتاہے۔ مزاح لکھنا کوئی سہل کام نہیں۔ اصناف سخن میں یہ سب سے مشکل صنف ہے۔ قادرالکلام، صاحب نظر اور سماج کی اٹھان اور حرکیات پر گہری نظر رکھنے والا ادیب ہی اچھا مزاح تخلیق کرسکتاہے۔

یہ جان جوکھوں میں ڈالنے والا کام ہے۔ محمد کبیرخان اس میدان میں اترے اور سرخ رو ہوئے۔ وہ اپنی تحریر میں طنز ضرور کرتے ہیں اور وہ ہنسی بھی اڑاتے ہیں لیکن سستی جملے بازی سے دور رہتے ہیں۔ معاشرتی کمزوریوں اور سماجی برائیوں پر بے دریغ نشتر چلاتے ہیں۔ ان پر طنز کی گہری چوٹ بھی مارتے ہیں لیکن دل نہیں دکھاتے۔ ان کے جملے کاٹ دار ہیں۔ بھرپور وار کرتے ہیں لیکن معاشرتی بے حسی پر‘ شخصیات پر نہیں۔

ان کی ادبی تحریروں میں پہاڑی کے ملغوبے (مسکچر) نے ایک نیا مگرکامیاب تجربہ کیا۔ مقامی کہاوتوں اور محاوروں کا برمحل استعمال کرکے انہوں نے اردو کو مقامی بولیوں سے ہم آہنگ کرنے کے فن کو جلا بخشی۔ ان کی کتاب درسی قائدہ پڑھتے ہوئے اجنیبت کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے واقعات کو کمال مہارت سے موضوع سخن بناتے ہیں۔ مختلف کرداروں کے ذریعے قاری کے دل اور دماغ میں اتر جاتے ہیں۔

آج کل کے خشک ماحول میں جہاں شگفتگی ناپیدہوچکی۔ بھونڈے مذاق اور بدذوقی کے چلن کو سوشل میڈیا نے رواج دیا۔ تضحیک کے بغیر طنز ومزاح لکھنا محمد کبیر خان کا ہی خاصہ ہے۔ پھبتی کس کر وہ دوسروں پر ہنستے نہیں بلکہ سب کے ساتھ مل کر ہستے ہیں۔

؎ ہنسی ہے دل لگی ہے قہقہے ہیں
تمہاری انجمن کا پوچھنا کیا
(مبارک عظیم آبادی)

میں صاحب کتاب کو مسلسل شاندار تحریریں لکھنے اور خاص کر اپنی مٹی اور دھرتی کے رنگ میں انہیں رنگنے پر مبارک باد پیش کرتاہوں۔ یہ محمد کبیر خان ہی ہیں جنہوں نے ہمیں حوصلہ دیا کہ پہاڑی کے محاوروں اور حکایتوں کو بلاتکلف اردو کی تحریروں کا حصہ بنایا جا سکتاہے۔

ان کے قلم میں روانی ہے وہ گلی محلے کی باتوں کو ملکی اور قومی پس منظر میں بیان کرتے ہیں تو زندگی کے سارے رنگ جگمانے لگتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
پیارے بچو! ڈالر سےبہترین شہ آج تک نہیں بن سکی ہے۔ ڈالر یوں تو ایک کاغذی سکہ ہے جسے کتے بھی گھاس نہیں ڈالتے لیکن اس کے آگے دنیا کے بڑے بڑے شیر دم ہلاتے ہیں۔
سیاستدان وہ مظلوم طبقہ ہے جس پر تبرہ بازی کی مشق ہر خاص وعام شوق سے کرتا ہے۔ کبیر خان نے بھی یہ شوق پورا کیا: لکھتے ہیں: ل سے ہی لوٹا بنتاہے۔ لوٹا چاہے کھنڈا یعنی بے پیندے کا ہو بھانویں لنڈا، فی زمانہ ہمارے ہاں اس سے زیادہ باعزت وباوقار اورکوئی نہیں۔ اسمبلیاں اور ایوان ہائے اقتدار کی جملہ رونقیں انہی کے دم سے ہیں۔

آزادکشمیر کے مزاحیہ ادب کو ہم کسی شخصیت کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں تو ہیں محمد کبیر خان۔ آخر میں شاندار تقریب کا اہتمام کرنے اور میرے شہر کے ذہین ترین دماغوں کو ایک چھت تلے جمع کرنے پر عابد صدیق صاحب اور ڈاکٹر ضغیر خان کا شکریہ ادا کرکے اجازت چاہوں گا۔
نوٹ: یہ کالم روزنامہ دھرتی راولاکوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ ممتاز مزاح نگار محمد کبیر خان کی کتاب درسی قاعدہ جدید کی تقریب رونمائی میں پڑھاگیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 92 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood