اداکارہ ایان علی اور فقہہ اسلامی


salim javedجائےماتم ہے کہ اب فقہہ اسلامی کو اداکارہ ایان علی کے کیس سے سمجھا جائے مگر یہ کہ نیرنگئی دوراں! ماڈل ایان علی کے منی لانڈرنگ کیس کی جزیات تو احباب کو ازبر ہوں گی مگر از برائے مکالمہ، خلاصہ دہرا دیتا ہوں۔

آنسہ ایان علی، اسلام آباد ائرپورٹ پر، پاکستان سے اڑنے کیلئے “بیگ” تول ہی رہی تھیں کہ ان کو”سکین مشین” کی نظر لگ گئی۔ بیگ سے 6لاکھ ڈالر کیش رقم برآمد ہو گئی۔ اس منظر کو کیمرے نے اور رقم کی گنتی کو افسران نے محفوظ کر لیا۔ سول ایوی ایشن کا قانون کہتا ہے کہ کسی مسافر کے لئے 10 ہزار ڈالر سے زیادہ کیش باہر لے جانا جرم ہے۔ اس جرم کی سزا، اگر صرف چند ماہ جیل ہوتی تو محترمہ قید کاٹ کر باہر جا سکتی تھیں مگر یہ کہ کیش رقم، بحق سرکار ضبط ہوجاتی ہے۔ جسے بچانے کےلئے ایک چوٹی کا وکیل کیا گیا جس نے ایسا فقہی نکتہ اٹھایا کہ قانون بنانے والے بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئیے۔

وکیل نے لفظ”مسافر” کو پکڑا اور نکتہ اٹھایا کہ “ٹیکنکلی” مسافر، اس شخص کو کہا جاتاہے جس نے بورڈنگ پاس وصول کر لیا ہو۔ چونکہ ایان علی صاحبہ کو ابھی بورڈنگ پاس ایشو ہی نہیں ہوا تو وہ ائرپورٹ میں داخل ہونے والی ایک عام پاکستانی شہری ہے نہ کہ مسافر۔ پس اس پہ مسافر کی شق لاگو ہی نہیں ہوتی۔

آپ کو اس وکیل کی شاطرانہ مہارت زہر لگی ہوگی کہ ایک مجرم بچ نکلا، مگر اس خرابی میں خوبی یہ ہوئی کہ قانون مزید واضح ہوکر بہتر ہوگیا۔ دوسرے، اسی منطق سے، شاید کسی واقعی معصوم مجرم کی جان بخشی بھی ہوئی ہو۔

Ayyan-Ali-height-and-weightدیکھئے، شارح علیہ السلام نے اسلامی قوانین دئے جو کہ احادیث کی صورت موجود ہیں، جنہیں محدثین نے رپورٹ کیا ہے۔ ان قوانین کو زمانے اور موقع کے لحاظ سے منطبق کرنا، فقہا کا کام ہوتا ہے۔ محدثین نے یہ کیا کہ سرکار کے الفاظ کو من وعن نقل کرنے کی ذمہ داری نبھائ۔ صحتِ الفاظ کورپورٹ کیا۔ راوی کے حافظہ و کردار تک کی چھان پھٹک کی۔ مگر، ان الفاظ کے پردے میں شریعت کی اصل منشا کیا ہے؟ اس کو صحابہ نے سمجھا اورجب تک صحابہ کے عمل کی روشنی میں اسے نہ دیکھا جائے توپھر شریعت، تا قیامت عالم انسانیت کی راہبری سے قاصر ہوگی۔

میں اپنی بات کی وضاحت کےلئے،صرف دو احادیث بطور دلیل لاؤں گا۔ ایک پرانے زمانے کی بابت اور ایک نئے دور کی صورتحال کے تناظر میں۔

ایک صحیح حدیث میں ہے۔ سرکار ص ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہیں کہ “لڑآئی میں نہ بھاگنا، چاہے سب ساتھی مارے جائیں”۔ اگر صرف الفاظ کو دیکھا جائے تو یہ پریکٹکل نہیں رہتی۔ سرکار نے اس صحابی کو کس خاص تناظر میں بات کی؟ اس کو سمجھنا جمہور صحابہ کے عمل سے ہی ممکن ہوگا۔

دور صحابہ میں ایسی صورتحال پیش آئی کہ سارا لشکر گھیرے میں آگیا اوراگر میدان نہیں چھوڑتے تو بے موت مارا جانا تھا جو عقل کے کسی زاویے سے مناسب نہیں چہ جائیکہ اسلام جیسے منطقی مذہب کے نزدیک۔ یہاں، ایک طرف حدیث کی صورت قانون موجود ہے (میدان نہ چھوڑو) تو دوسری طرف، بظاہر اس کے الٹ، صحابہ کا طرز عمل ( کہ میدان چھوڑ دیا)۔ اب اس کیس کو حل کرنے کے لئے فقہا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ( اس وقت مجھے اپنے اس تصور سے ہی ہنسی آرہی ہے کہ میں لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ کو امام ابوحنیفہ کے مقابل رکھ رہا ہوں)۔

بہرحال، فقہا نے حدیث کے لفظ “بھاگنا” کی تشریح کی جس سے دو اصطلاحات وجود میں آئیں۔ ایک” فرار” اور دوسرے “پسپائ”۔ یعنی اگر کمانڈ کا حکم میدان چھوڑنے کو ہو، تو اس کو پسپآئی کہیں گے اور کمانڈ کے حکم کے بغیر، سپاہی نےخود ہی میدان چھوڑا تو اسے فرار کہیں گے۔ پہلی صورت کو جنگی حکمت عملی جبکہ دوسری کو جرم کہا جائے گا۔

اس بات سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ قران وحدیث کے الفاظ پہ تفقہ نہ کیا جائے تو من وعن الفاظ  کے اتباع سے، آپ دنیا کے ساتھ چلنے کے قابل ہی نہیں رہتے۔

اب فقہہ اسلامی کی دوسری مثال، زمانہ جدید کے ایک اہم ایشو کے تناظر میں لیتے ہیں جو ہے “عورت کی حکمرانی”۔

بخاری شریف کی حدیث ہے کہ وہ قوم فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنا حکمران کسی عورت کو بنا لیا۔ مگر زمانہ جدید میں یہ بات پریکٹیکل نہیں۔

اس بات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ عورت ذات کی جذباتیت کی بنا پر، اسے فیصلہ سازی کا کلّی اختیار دینا، احسن ہے یا نہیں؟ فی الحال، اس حدیث پر فقہا کا کام دیکھئے۔

یادش بخیر، عالم اسلام کے کسی خطے کے مسلمانوں کو پاکستانیوں سے زیادہ یہ حدیث ازبرنہیں ہو گی۔ اس کا سہرا جماعت اسلامی کےسر ہے۔ 1988 میں”فرشتوں” نے بےنظیر بھٹو کا راستہ روکنے، اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے بھان متی کا جو کنبہ تشکیل دیا تھا، اس کی پروپیگنڈہ مشینری، جماعتِ اسلامی کے ہاتھ تھی۔ پس نہ صرف اس حدیث کو پاکستان کے طول وعرض میں پھیلایا گیا بلکہ بینظیر کی کردار کشی کے لئے، اسکی آکسفورڈ میں رقص کناں تصویروں کوبھی ہیلی کاپٹر سے پھنکوایا گیا۔

لیکن نہ صرف یہ کہ مسلمانان پاکستان نے اسے بری طرح رد کیا بلکہ چند سال بعد،حالات کے جبر کے تحت، خود جماعت اسلامی، بنگلہ دیش میں خالدہ ضیا کی حکومت کا حصہ بنی۔ سعودی عرب میں بخاری پرست علما کی قوت کا عالم یہ ہے کہ آج تک وہاں عورت کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ملی۔ مگر بدلتی دنیا میں، اقوام عالم میں اپنا امیج بنانے کے لئے جب شاہ عبداللہ نے 2009 میں پہلی بار نورہ الفائز کو وزیر تعلیم بنایا توسعودی ریالوں کے خوشہ چین، پاکستانی بخاری دانوں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ کہنا یہ ہے کہ آج کی پارلیمانی دنیا میں، عورت کی حکمرانی والی حدیث، ظاہری الفاظ کی بنا پر، قابل عمل نہیں ہوسکتی۔

اب اس موضوع پر بھی حنفی فقہا برسرکار آئے جو زمانے سے پہلے زمانے کی چال بھانپ لیا کرتے ہیں۔

حنفی فقہا نے اس حدیث میں لفظ، حکمران(امیر) کی تشریح کی۔ حکمران یا امیر کون ہوتا ہے؟ جس کے پاس “امر” یا حکم” کا آخری اختیار ہوگا۔ یہاں سے دو مختلف اصطلاحات وجود میں آئیں۔ ایک حکمران اور دوسرا منتظم۔ ہوا یوں کہ متحدہ ہندوستان میں، بھوپال کی ریاست، امیر ترین مسلم ریاست ہواکرتی تھی، جس میں اصل ویژن، راجہ کی نیک نام و پرہیزگار بیوی، بیگم صولت جہاں کا رائج تھا ( انہی بیگم نے مکہ مکرمہ میں پہلا دینی علوم کا مدرسہ کھولا جسے مدرسہ صولتیہ کہا جاتا ہے اور آج تک قائم ہے)۔ راجہ کے انتقال کےبعد، اس کا نابالغ (یا ناسمجھ) بیٹا، حکومت کے معاملات کو چلانے کا اہل نہیں تھا، مگر مذکورہ حدیث شریف، خود بیگم صاحبہ کی حکمرانی میں رکاوٹ تھی۔ پس امور سلطنت بیگم صاحبہ چلاتی تھیں تاہم، قانونی طور پر بیٹے کو حکمران اور ماں کو منتظم یا سینئر وزیر(یا وزیر اعظم) قرار دیا گیا۔

جدید جمہوری نظامِ حکومت، چاہے وہ صدراتی نظام ہو یا پارلیمانی نظام، اس میں قرون اولی جیسے بادشاہوں اور حکمرانوں کا وجود نہیں رہا۔ امریکہ کا صدر بھی ایک حد سے آگے، کانگریس کو بآئی پاس نہیں کرسکتا، پس آج کے دور میں اگر عورت، صدر یا وزیر اعظم بنے تو حقیقت میں وہ ملک کی کلّی صاحب امر نہیں ہوا کرتی۔ اور یوں یہ حدیث، آج کل کی جمہوری حکمرانی کے تناظر میں لاگو نہیں رہتی۔

مگر اس کے باوجود، جب پاکستان کی صدارت کے لئے، ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کا مقابلہ ہوا تو اپوزیشن میں ہونے کے باوجود، مفتی محمود نے فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کی بجائے، اپنا الگ مرد امیدوار کھڑا کیا۔ دل چسپ بات یہ کہ محترمہ بے نظیر کی حکمرانی پر شرعی تنقید کرنے والے، جماعت اسلامی کے پروفیسر عبدالغفور صاحب سے جب صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے فاطمہ جناح حمایت کی تھی جب کہ وہ بھی عورت تھیں؟ تو پروفیسر صاحب کا جواب تھا کہ وہ بوڑھی تھیں، یہ جوان ہے۔ خیر، شاید اسی تجربہ کے پیش نظر، جب مفتی محمود اور بھٹو وغیرہ نے 1973 کا آئین بنایا تو پاکستان کا آئینی سربراہ، صدر کا عہدہ رکھا جبکہ منتظم کو وزیر اعظم کہا گیا۔ اب پاکستان کا قانونی حکمران، صدر ہوا کرتا ہے، جس کے دستخط کے بغیر، اسمبلی کا کوئ قانون نافذِ عمل نہیں ہوسکتا اور جسے کئی معاملات میں استثنی حاصل ہے۔

پس عورت چاہے ملک کی وزیر اعظم یا کسی ادارے کی منتظم بن جائے، وہ شرعی طور پر، صاحبِ امر کی حدیث سے باہر ہوجاتی ہے۔

برسبیل تذکرہ، ریکارڈ کی درستی کےلئے عرض ہے کہ مولانا فضل رحمان پر یہ تہمت لگادی گئی ہے کہ انہوں نے پہلے بے نظیر کی حکمرانی کو خدا کا عذاب قرار دیا اور بعد میں اس سے وزارت لے لی۔ مولانا، نہ صرف اس وقت کی متحدہ اپوزیشن یعنی ایم آر ڈی میں، پیلپز پارٹی کے اتحادی تھےبلکہ 1988 کے الکشن میں باہمی مفاہمت کے تحت، ڈیرہ میں پیپلز پارٹی نے اور جواباً پشاور میں جمعیت نے، ایک دوسرے کے لئے سیٹ خالی چھوڑی تھی۔ اس لحاظ سے تو مولانا بےنظیر کی گویا حکومت لانے کی راہ ہموار کررہے تھے تو مخالفت کے فتوے کیونکر لگاتے؟ بے نظیر کی حکمرانی بارے، عذاب وغیرہ کے فتوے جماعت اسلامی کی مہم تھی بلکہ اپنے مخالفین کی مذہبی کردار کشی کی بنیاد ہی جماعت اسلامی نے رکھی تھی (یہ بھی خیال رہے کہ جماعت اسلامی کا اپنے ہی کہے سے لاتعلقی ظاہرکرنا بھی، اسکے کردار کا خاصہ ہے)۔ بعینہ یہی گر، مولانا فضل رحمان نے اب عمران خان بارے برتا ہے۔ (شاید ایم ایم اے دور میں جماعت اسلامی کی 5 سالہ صحبت کا اثر ہوا ہے)۔

فقہائے اسلام، جب قرآن وحدیث پہ جرح کرتے ہیں یا تاویلات کرتے ہیں تو دراصل یہ روحِ شریعت تک پہنچنے کا عمل ہوتا ہے کیونکہ اسلام ہر زمان رہبر ہے۔ اس سلسلے میں تین قسم کے علماء پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ علمائے ظاہر ہیں جو احادیث کے الفاظ کوہی اصل گردانتے ہیں اور زمانے کی کروٹ کو رد کرتے ہوئے خود تحلیل ہوئے جارہے ہیں۔ دوسرے وہ جدید سکالرز ہیں جو احادیث کی عبارات کو جدید زمانے سے ہم آہنگ نہ پا کر، احادیث کو ہی رد کرتے چلے جاتے ہیں۔ تیسرے وہ روایتی حنفی علماء ہیں جو جدید زمانے کا ادراک کرتے ہوئے، الفاظِ حدیث کی ایسی شرح کرتے ہیں کہ دونوں باتیں ہم آہنگ ہوجائیں۔

پس زمانہ جدید کے پرپیچ مسائل میں، قوم کی رہبری، وہی سکّہ بند اہل بصیرت علما ہی کرسکتے ہیں جو فقہہ اسلامی پر عمیق نگاہ رکھتے ہیں۔ جو قدیم اور جدید کی تطبیق کرسکتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments