کیا ڈالر اور درہم درختوں پہ لگتے ہیں؟


ہمارے ملک میں بےروزگاری اور حالات سے تنگ آئے ہوئے اکثر نوجوانوں کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ملک سے باہر چلے جائیں۔ اس کے لئے بعض اوقات وہ کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ چاہے بند کنٹینرز ہوں یا غیر قانونی طور پہ بارڈر پار کرنا۔ بھوک واقعی انسان سے سب کچھ کروا لیتی ہے۔ لیگل اور ال لیگل طریقوں سے بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ مجھے اس وقت کا انتظار ہے جب بیرون ملک سے نوجوان ہمارے ملک نوکریوں کے لئے آئیں گے۔ یہ بیان میرا نہیں، میرے وزیراعظم کا ہے۔ خیر سیاست کو چھوڑ کے بات کرتے ہیں۔

جیسے تیسے یہ نوجوان بیرون ملک پہنچتے ہیں تو سب سے اہم مسئلہ وہاں کام کی تلاش کا ہوتا ہے۔ مڈل ایسٹ میں انپڑھ اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لئے مزدوری یا ایسے کام رہ جاتے ہیں، جن میں محنت زیادہ اور اجرت کم ہوتی ہے۔ یورپ میں بھی کم و بیش یہی حال ہوتا ہے مگر چونکہ یورپی ممالک پردیسیوں کو بھی اپنے شہریوں جیسے حقوق دیتے ہیں تو وہاں حالات خلیجی ممالک جیسے برے نہیں۔

اب جب حالات کے ماروں کو نوکری مل جاتی ہے تو ان کو اپنی بقاء کے ساتھ ساتھ پیچھے رہ جانے والے اپنے گھر والوں کی فکر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ عام طور پہ بیرون ملک جانے والے نوجوان قرضے اٹھا کے یا ماں کے زیورات بیچ کے نکلے ہوتے ہیں۔ انہیں گھر والوں کا بوجھ اٹھانے کے ساتھ ساتھ قرضے بھی اتارنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پھر کئی کئی سال یہ نوجوان اپنے گھر ملنے تک نہیں آتے کہ جو خرچہ آنے جانے پہ کرنا ہے اس سے کوئی اور ضرورت پوری ہو جائے گی۔ بہنوں کی شادیاں، چھوٹے بھائیوں کی پڑھائی اور والدین کی دوائی سب کا بوجھ ان کے ناتواں کندھوں پہ پڑ جاتا ہے۔

یہاں میں بات کرنا چاہوں گی بیرون ممالک میں رہنے والوں کی فیملیز کی۔ جن کی خواہشوں کا ہاتھی اتنا بے لگام ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہی اولاد کی خواہشوں کو بھی روند دیتا ہے جو ان کی خوشیوں، آرام و سکون کی خاطر پردیس کاٹ رہا ہے۔ اور کیا پردیس کاٹنا بھی کوئی آسان کام ہے۔ کوئی عید تہوار ہو یا خوشی کا کوئی موقع اسے اکیلا ہی رہنا پڑتا ہے۔ غم کی گھڑیوں میں دلاسہ دینے کو اس کے جیسے ہی چند پردیسیوں کا کاندھا اسے ملتا ہے کسی ماں جائے یا ماں باپ کا نہیں۔

مگر پاکستان میں رہنے والے اس کے بھائی ہوں، بہنیں ہوں یا والدین۔ سب اس شخص کو سونے کی چڑیا سمجھتے ہیں۔ مارکیٹ میں نیا موبائل آ جائے تو چھوٹے بھائی بہن کی فرمائش ہو گی کہ ہمیں فوراً بھیجو۔ گھر کی مرمت کرانی ہے تو پیسے اسی کو بھیجنے ہیں۔ والدین بیمار ہیں تو ان کے علاج معالجے کا خرچہ بھی اسی پہ ہے۔ زیادہ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ اگر پاکستان میں کسی کے بھائی ویل سیٹلڈ بھی ہیں تو وہ بیرون ملک والے پہ زیادہ زور دے کے کہیں گے کہ وہ خرچہ کرے، کیونکہ وہ باہر رہتا ہے اور اس کے پاس ڈالروں یا درہموں کا درخت لگا ہوا ہے۔

پچھلے دنوں ہمارے ایک دوست پاکستان آئے تو ان کے صرف پانچ دن کے سٹے میں ان کا امریکہ کی ریٹرن ٹکٹ سے زیادہ خرچہ ہو گیا۔ وہ آٹھ سال بعد اپنے گھر والوں سے ملنے آئے تھے۔ مگر ان کے بھائی نے روزانہ ان سے پچیس سو کے حساب سے تو صرف دودھ ہی کے پیسے لئے۔ پھر وہ جہاں گئے ان کو پیسے بانٹنے پڑے، گفٹس کے علاوہ۔ میرے نزدیک یہ خودغرضی کی ایک اعلی مثال ہے۔

ایسے ہی میرے ایک اور دوست جو کہ یورپ میں مقیم ہیں۔ ان کے بقول سب ان سے آئی فون کی فرمائش کرتے ہیں۔ چاہے وہ فیملی میں سے کوئی ہو یا دوستوں میں سے۔ گفٹس تو دینے والی کی مرضی کا ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لو جی باہر رہ کے بھی اس کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ ہمیں ہماری مرضی کے تحفے دے سکے، تو اس سے بہتر ہے کہ پھر یہ بندہ پاکستان میں ہی سڑے۔

دور کیا جانا ہماری ایک بہت قریبی عزیزہ جب بھی دبئی سے واپس آتیں تو ان کے بھائیوں نے پہلے ہی ان سے پیسے مانگنے کے پلان تیار کیے ہوتے۔ کبھی کاروبار کرنے کے لئے مانگنے اور کبھی کاروبار کرنے کے ڈرامے کے طور پہ۔ جب ان خاتون نے پوچھنا کہ پچھلے سال بھی آپ کو کام شروع کروا کے دیا تھا اس کا کیا بنا، تو آگے سے جواب ہوتا کہ اس میں نقصان ہو گیا۔ ناچار وہ خاتون پیسے دے دیتیں اور جب پیسے ختم ہو جاتے تو اپنے زیورات بیچ کے بھائیوں کی مطلوبہ ڈیمانڈ پوری کرتیں۔ مگر وہ کاروبار کبھی نہ چل سکے۔

یہ سب مثالیں دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی گھریلو حالات کا خیال کرتے ہوئے ملک سے باہر چلا گیا ہے تو براہ مہربانی اس کا احساس کریں۔ اس نے کبھی آپ کو یہ نہیں بتایا ہو گا کہ بارڈر پار کرتے اس نے کتنی بار موت کو قریب سے دیکھا۔ وہ کتنی بار بھوکے پیٹ سویا۔ کتنی راتوں تک وہ ٹھٹھرتی سردی یا تپتی دوپہروں میں پارکوں کے بنچوں پہ سویا۔ کتنی بار اسے اپنی عزت نفس کا سودا کرنا پڑا۔ وہ بس آپ کو یہ بتاتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں۔ اور یہ سنتے ہی آپ ایک لمبی لسٹ اسے گنوا دیتے ہیں۔ اس کے اچھا ہو جائے گا کے پیچھے چھپے درد کو محسوس نہیں کرتے۔

آپ کی تمام فرمائشیں پوری کرنے کے لئے اسے کتنے دن ایک وقت کا کھانا کم کرنا پڑے گا، آپ نہیں جانتے۔ کیونکہ آپ تو بس یہ جانتے ہیں کہ یہ آئی فون میرے بھائی نے باہر سے بھیجا ہے۔ یہ چھت ٹپک رہی تھی، کچن کی الماریاں خراب تھیں اور واش روم کی ٹائلیں بھی بدلوانی تھیں، بس جی شکر ہے میرے باہر والے بیٹے نے پیسے بھیج دیے۔ الحمدللہ سارا کام چھوٹے نے سر پہ کھڑے ہو کے کروایا ہے۔ خدارا یہ رویے چھوڑیں اور باہر رہنے والوں کو بھی انسان سمجھیں۔ جیسے وہ آپ کا احساس کرتے ہیں آپ بھی کریں۔ آخر وہ آپ ہی کا تو خون ہیں۔ وہ یہ ڈالر اور درہم بڑی محنت سے کماتے ہیں، نہ کہ کسی درخت سے توڑتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں