کیا عمران ہی قاتل ہے؟


میڈیا کی ہی توسط سے معلوم ہوا کہ عمران علی جس نے معصوم زینب اور سات سے دس کے قریب بچیوں کو قتل کیا، اسے سترہ نومبر کو پھانسی دی جائے گی۔ چلو ایک تو مثبت فائدہ یہ ہوا کہ کسی قاتل کو تو سزا ملی۔ یہ ایک اچھی روایت ہے کیونکہ سزا کی سنگینی سے زیادہ سزا کے یقینی ہونے سے جرائم کم ہونے کی امید ہوتی ہے۔ ایک بحث یہ بھی ان دنوں سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے کہ عمران کو سرعام پھانسی دی جائے تاکہ اس سے جرائم پیشہ افراد کو خوف محسوس ہو۔

میرا ماننا یہ ہے کہ سب سے پہلے تو پوری دنیا میں خود کو متشدد اور جارحانہ قوم ثابت کرنے کا اس سے اچھا موقع کوئی نہ ہو گا۔ جن مجرموں کے دل میں خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کا تو روز موت سے آمنا سامنا ہوتا ہے، ان کو کیا خوف محسوس ہونا ہے۔ ویسے بھی اکثر مجرموں کو جرم کی سنگینی کا اندازہ جرم سرزد ہونے کے بعد ہوتا ہے۔

آنے والی نسل یقینی طور پر ہم سے بھی زیادہ شدت پسند ہو گی جب روز روز قتل دیکھے گی چاہے وہ کسی مجرم کے ہاتھوں ہو یا ریاست کے۔ ایک عمران کی پھانسی سے کیا ایسے جرائم رک جائیں گے؟ میرا خیال ہے ہرگز نہیں۔ جب تک ان عوامل پر کام نہیں ہو گا جن سے کوئی بچہ عمران بن جاتا ہے۔ روز نیا عمران کھڑا ہو گا اور درجن بھر بچے شکار ہو ں گے۔ جب تک قتل کے اسباب ختم نہیں ہوں گے، قاتل ایک کے بعد ایک پیدا ہوتے رہیں گے۔

زینب کا قاتل صرف عمران نہیں ہے۔ اگر ہم غور کریں تو اس کے قتل کی ذمہ داری ہمہ وقت کئی عناصر پر عائد ہوتی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی بنیادی درس گاہ یعنی اس کا گھر۔ اس کے والدین سب سے پہلے اس گناہ میں اس کے برابر شریک ہیں۔ اگرچہ وہ شریک جرم نہیں مگر اپنی اولاد میں ہونے والی اس درجے کی ہوس پرستی سے انجان ہونا والدین کے بنیادی کردار کی نفی ہے۔

والدین کے بعد اساتذہ، وہ تما م لوگ جن کسی نہ کسی انداز میں عمران کو کچھ سکھاتے یا پڑھاتے رہے، چاہے وہ کوئی سکول تھا یا کوئی مدرسے، ان پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اس کی غیر معمولی جنسی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

اس کے دوست احباب یا منسلک لوگ، جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا کہ عمران اپنے کسی قاری دوست کے ساتھ مل کر پیشہ ور عورتوں یا دیگر غیر اخلاقی طریقوں سے جنسی ضروریات پوری کیا کرتا تھا تو اس کی صحبت کا اندازہ یقیناً اس کے اہل و عیال کو بھی ہو گا۔ اس کی بری سنگت بھی اس کی نشاندہی کر سکتی تھی۔

قتل کے بعد کئی ہفتوں تک قاتل کا سراغ نہ لگایا جا سکا۔ مگرجب عمران پکڑا گیا تو ایک کے بعد ایک گواہ پیدا ہو گیا کہ اسے عمران پر شک تھا اور وہ عمران کی ایسی گھٹیا حرکتوں سے واقف تھا۔ اگر ایسا تھا تو پانچ کلومیٹر کے دائرے میں درجن بھر بچیوں کے قتل کا انتظار کیوں کیا گیا؟ کیا اہل علاقہ کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ ایسے تمام افراد جن کی سرگرمیاں قابل اعتراض ہیں یا جن کے متعلق ایسی افواہیں سرگرم ہیں یا جن کے متعلق کچھ افراد کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش یا دھمکی دی، ان کا کوئی ریکارڈ مرتب کروائیں یا مقامی تھانے میں اطلاع دیں۔

یہ قطعی طور پر ممکن نہیں ہے کہ انسان ہوس پرستی میں اس قدر ڈوبا ہو کہ قتل تک کر سکتا ہو اور یہ رویہ دوسرے لوگوں سے پوشیدہ رہ پایا ہو۔ کئی علامات ہیں جن سے ایسے لوگوں کی پہچان ہو سکتی ہے اور ہم لوگ بڑی آسانی سے ایسے لوگوں کو پہچان لیتے ہیں جن سے ہم فیملی لیول پر راہ و روابط قائم نہیں کرنا چاہتے۔

حکومتی سطح پر ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے جہاں معمولی تو دور سنگین واقعات کا اندراج ہو۔ کوئی ایسا فورم نہیں جہاں عوام ایسے لوگوں کے متعلق رپورٹ کر سکے اور حکومت ایسے لوگوں پر نظر رکھ سکے۔

عمران کوئی درندہ یا حیوان نہیں تھا، نہ ہی وہ کسی دوسری دنیا سے نازل ہوا تھا۔ ایک عام انسان تھا جسے ہم ”سیکس ایڈیکٹ“ کہتے ہیں۔ اس کی وجوہات جسمانی، سماجی اور نفسیاتی کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو یہ بیماری پاکستانی مردوں میں وافر پائی جاتی ہے اور فخریہ پائی جاتی ہے۔ یہ ہوس پرستی قابل علاج عارضہ ہے، اس کا علاج کسی دوا سے نہیں بلکہ نفسیاتی علاج اور تربیت سے کیا جاتا ہے۔ مہذب قوموں میں ایسے گروپس تشکیل دیے جاتے ہیں جو ایسے جنسی ہوس پرستوں کی تربیت کرتے ہیں اور ان کو مثبت راہوں پر ڈال کر ان کی اصلاح کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں اس کا حل اس فرد کی شادی ہوتا ہے۔ حالانکہ شادی کسی بھی معاشرتی برائی سے روک نہیں پاتی۔

کسی بھی فرد کی کسی غیر اخلاقی حرکت کافوری نوٹس لینا چاہیے چاہے وہ آپ کی دانست معمولی ہو۔ حکومتی سطح پر ایسے پلیٹ فارمز ہوں جہاں ایسے واقعات کا اندراج ہو۔ کیا ہم کسی کے قاتل بننے تک کا انتظار کریں گے؟

ہمارے ہاں اکثر خواتین بھی یہاں غلطی کر جاتی ہیں۔ کیا ہوا گھورا ہی تو تھا، کیا ہوا اشارہ ہی تو کیا تھا، کیا ہوا صرف فحش مذاق ہی تو کیا ہے، کیا ہوا صرف ہاتھ ہی تو لگایا تھا، کیا ہوا صرف کوشش ہی تو کی تھی، کامیاب تو نہیں ہوا تھا۔

دوم، ہمارے ہاں سب سے بڑی لعنت، اپنے بچوں کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی ہے۔ اگر کسی کا بچہ کچھ غلط کرتا ہے تو والدین اس کو بچانے کی کوشش میں ہر جائز ناجائز حد کو عبور کر جاتے ہیں۔ ”بچہ ہے غلطی ہو گئی، آئندہ نہیں کرے گا “، جیسا رویہ قاتل بنا دیتا ہے۔ بچوں کی کردار سازی والدین کی کردار سازی سے منسلک ہے۔ زینب کے قتل کے بعد ایک شور اٹھا کہ بچوں کی تربیت کی جائے، ” گڈ ٹچ بیڈ ٹچ “سمجھایا جائے۔ بالکل درست ایسا ہونا چاہیے اور میں نے اپنے بچپن میں کچھ ایسی کتابیں پڑھیں اور کچھ باتیں سیکھی تھیں جو سکول میں سکھائی گئی تھیں۔

مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان بچوں پر بھی نگرانی رکھنی چاہیے جن میں غیر معمولی تبدیلی دکھائی دے۔ اگر ہم ایک زینب کو گڈ ٹچ بیڈ ٹچ سکھا لیتے ہیں تو یہ ایک زینب کو محفوظ کرنا ہوا مگر اگر ایک بچہ عمران بننے سے بچ جائے تو شاید درجن بھر زینب محفوظ ہو جائیں۔

اسی لیے اگر بچوں کو یہ سمجھانا ہے کہ کوئی غلط کرے تو کیا کرنا ہے وہیں سختی سے یہ بھی سمجھانا ہو گا کہ تمہیں بھی کسی کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آخری بات، زینب کی ماں کا دکھ اور عمران کی ماں کے دکھ میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ زینب کی ماں نے اپنی لخت جگر کو کھویا مگر اسے یہ تسلی ہے کہ اس کی بےگناہ معصوم بچی کی جان گئی اور کروڑوں لوگ اس کے دکھ میں شریک ہیں۔ مگر عمران کی ماں کو یہ احساس ہے کہ اس کی اولاد ذلت بھری موت مرے گی اور جب تک وہ حیات ہے، اس کا پورا کنبہ لعن طعن کا شکار رہے گا اور اس کا پیدا کیا گیا سپوت لاکھوں لوگوں کی نفرت کا شکار ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں