بدلتے ملک کے پنپتے حالات: عوام، قانون اور سیاست


ہم نے ملک کا نظام بدلتے دیکھا۔ آپ کو یقین نہیں تو زرا سا غور فرمائیے، خود دیکھیے، تبدیلی کے نعروں کی رعب دار گرج کی شنوائی ہر کان کو نصیب ہوئی، ہر شخص کام کرنے لگا، چیف جسٹس سے لیکر فکس کرنے والوں تک سب نے ملک بدلنے کی ٹھان لی۔ ہر کوئی کام کام کام کی رٹ لگاتا نظر آنے لگا، معذرت رٹ اس لیے لکھا کہ یہ سب کام تو کرتے ہیں مگر اپنا نہیں دوسروں کے کام پر تنقید کا کام بخوبی سرانجام دیتے ہیں۔

چیف جسٹس صاحب ڈیم بنائیں گے، قرض کو بھیک سمجھنے والے اٹھائے نظر آ رہے ہیں، ملک اور قانون کی باتیں کرنے والے ایک ہی مقدمہ میں کئی کئی مقدمات کے اندراج کے بعد جیل کی مار کھائیں گے، اور ہزاروں پاکستانیوں کے قتل میں احسان اللہ احسان جیسے خون خوار قاتل خفیہ ہاتھوں اور جگہوں پر کھیلتے زندگی کی رنگینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اور تو اور فوج الیکشن کرواتی نظر آتی ہے، ساتھ ہی بیان دیا جاتا ہے گزشتہ حکومت نے ہماری ضروریات کا خیال رکھا ( آپ کہہ سکتے ہیں نئی حکومت خیال نہیں رکھ رہی)۔

سیاست کے حالات یہ ہیں کہ ڈولفن بنی تھی، بنوائی گئی تھی۔ اس کے جو بھی اغراض و مقاصد یا تو وہ واضح نہیں تھے یا پھر یہ بے مقصد ہی بنائی گئی تھی۔ اس بارے سوالات ذہن کے دریچوں سے بے شک ٹکراتے رہیں لیکن 30 سال پرانی جماعت کو ایک 30 سال کے لڑکے نے شکست دے دی۔

ملک میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا سلسلہ عن قریب شروع ہو گیا ہے۔ 250 ہر فارم کے ساتھ جمع کراتے جائیں ( تے رکھ اللہ تے) نوکریاں بھی پیدا ہوں گی، بجلی و گیس مہنگی کر دی گئی ہے، ڈالر کی اڑان آپ دیکھ ہی رہے ہیں، جنھوں نے ڈالر خرید رکھے تھے ان کی تو چاندی ہو گئی۔ ایک ماہر سے تو یہ بات سنی کہ ڈالر کی رفتار 200 سے بھی آگے نکل جائے گی، مہنگائی کی اس رفتار نے حکومت کو کسی حد تک ضمنی انتخاب میں جھٹکا بھی دیا ہے، نئی حکومت کی نئی پالیساں جب عوام کی دانست سے بالا تر ہوئیں تو ووٹ کسی اور کی جھولی میں جا گرے۔

یہ تو وہ سارے حالات تھے جن کا آپ مشاہدہ کر ہی رہے ہیں لیکن ہم صرف دو واقعات کی طرف چلتے ہیں۔ ہمارا ملک اور ڈیمز، اب جو بھی پکڑا جائے جس کیس میں بھی پکڑا جائے، اس نے جو بھی کیا ہو، چیف جسٹس صاحب سب سے پہلے اسے کہتے ہیں باقی بات بعد میں پہلے ڈیمز فنڈ میں اتنی رقم جمع کراو، ورنہ ہم کمیشن بنا دیں گے۔ تحقیقات کروا دیں، تحقیقات کا نام سنتے ہی جے آئی ٹی کا نام لوگوں کے حواس پر سوار ہو جاتا ہے اور وہ حواس باختہ ہو کر ڈیمز فنڈ میں پیسے دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

پھر ہوں بحریہ ٹاون والے یا سیمنٹ فیکٹریوں والے۔ لیکن ایک سوال ہے کیا ڈیمز فنڈ میں پیسے جمع کرانے سے ان کے خلاف تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردی جائیں گی؟ یا ان کے ساتھ بھی ڈیمز فنڈکی صورت میں پلی بارگین کا عمل دہرایا جائے گا؟ خیر سوالات تو اور بھی بہت ہیں لیکن بات وہی ہے ہم اتنا بول سکتے ہیں کہ یہ غلط ہو رہا ہے، یہ نہیں بتا سکتے کہ اس کے پیچھے کن کا کیوں کر اور کتنا ہاتھ ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سابق سینٹر فیصل رضا عابدی کی روداد بھی قابل رحم نہ سہی، قابل برات ضرورت ہے کہ چھوڑنا ہو تو احسان اللہ احسان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جائے اور پکڑنا ہو تو ضمانت لیے ہوئے شخص کو پکڑ کر پابند سلاسل کر دیا جائے۔

اوپر کے سب حالات میں قانون و انصاف، سیاست، حکومت و جمہوریت اور اپوزیشن تو موجود ہے لیکن عوام نظر نہیں آ رہے ہوں گے۔ عوام اپنے اپنے عوامی نمایندوں کے لیے بس چراغ جلائیں۔ قانون پر عمل درآمد اتنا ہی کافی ہے کہ 17 اکتوبر کو ایک درندے کو پھانسی دے دی گئی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

وقار حیدر

وقارحیدر سما نیوز، اسلام آباد میں اسائمنٹ ایڈیٹر کے فرائض ادا کر رہے ہیں

waqar-haider has 20 posts and counting.See all posts by waqar-haider