پاپاخ کی لاج اور سرکٹے مسخروں کا ٹولہ


\"raziڈاکٹر عباس برمانی سے میری دوستی کو ئی زیادہ پرانی نہیں لیکن اس کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم صدیوں سے ایک دوسرے کوجانتے ہیں۔ وہ مجھے اس وقت ملا جب دوستی کا موسم گزر چکا تھا۔ مگر اس کے باوجود میری اس کے ساتھ دوستی ہوگئی۔ میں اس کے ساتھ ملاقات سے پہلے اس بات پریقین رکھتا تھا کہ دوستی اور محبت کا ایک ہی موسم ہوتا ہے اور وہ موسم گزرجانے کے بعد کسی سے دوستی یا محبت نہیں کی جاتی۔ عباس برمانی کے ساتھ رابطے کے بعد پہلے تو احساس اور بعد میں یقین ہوگیا کہ دوستی اورمحبت کسی خاص موسم یا عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگرچہ ہمارے درمیان اس موضوع پر کئی مرتبہ بحث ہوئی اور میں نے ہر بار دلائل کے ساتھ یہ ثابت بھی کیا کہ ایک خاص موسم کے بعد ہونےوالی دوستیاں اورمحبتیں کسی مفاد ،کسی لالچ یا کسی ہوس کے تابع ہوتی ہیں۔ لیکن ہر باربحث جیت لینے کے بعد جب میں تنہائی میں بیٹھا تو مجھے وہ چہرے اور دوست یاد آ گئے جودوستی کا موسم گزر جانے کے بعد مجھے ملے اور کسی مفاد،لالچ یا ہوس کے بغیر ملے۔ سو جب میں ان بے موسمی محبتوں اور بے موسمی دوستیوں کویاد کرتا تھا تو بحث جیت لینے کے باوجود خود کو ہارا ہوا محسوس کرتاتھا۔

میرے ان ”بے موسمے“دوستوں میں ڈاکٹر عباس برمانی کا نام بہت نمایاں ہے۔ برمانی نے یہ ثابت کردیا کہ دوستی اور محبت بے موسمی بھی ہو تو بسا اوقات ”موسمی دوستی“سے زیادہ پائیدار ثابت ہوتی ہے کہ وقت آنے پر بعض اوقات موسمی دوست تو موسم کے مزاج کے مطابق خود کو تبدیل کرلیتے ہیں لیکن بے موسمے دوستوں کا چونکہ موسم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس لیے وہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔

\"abbasعباس برمانی کے ساتھ میری دوستی کس بنیاد پر ہوئی خود مجھے بھی نہیں معلوم۔ بالکل اسی طرح جیسے مجھے شاکرحسین شاکر کے ساتھ اپنی دوستی کی وجہ آج تک معلوم نہیں ہو سکی۔ جیسے مجھے یہ معلوم نہیں کہ قمررضا شہزاد اور اسلام تبسم کے ساتھ میرے تعلق کی کیا بنیاد ہے۔ برمانی سے تعلق کی پہلی وجہ اس کے ساتھ میری لاتعلقی ہے۔ وہ بالکل میری طرح مردم بیزار ہے۔ ہجوم میں تنہا دکھائی دینے والا شخص۔ اجڑے ہوئے چہرے کے ساتھ مطمئن نظرآنے والا شخص۔ خشک آنکھوں کے ساتھ اندر تک بھیگا ہوا شخص اور پہلی ملاقات میں کسی کے ساتھ نہ کھلنے والا شخص۔ وہ شاکر جیسا نہیں کہ جو ناپسندیدہ لوگوں کو بھی مسکرا کر مل سکتا ہے۔ نہ وہ قمررضا شہزاد جیسا ہے کہ جسے چیچو کی ملیاں کا کوئی عطائی شاعر بھی مل جائے تو گرم جوشی کے ساتھ اسے گلے لگا لیتا ہے۔ برمانی اور میں اپنے اسی مزاج کی وجہ سے طویل عرصہ تک ایک دوسرے سے لاتعلق رہے اور یہی لاتعلقی پھرایک خوبصورت تعلق کی بنیاد بن گئی۔ برمانی کیسا ہے ؟وہ بس ایسا ہے کہ۔ ۔ ۔ اب میں کیا کہوں کہ کیسا ہے؟ یعنی ڈاکٹر تو ہے مگر ڈسپنسر بھی نہیں لگتا۔ سات کتابوں کا مصنف ہے مگر دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ شاید اسے خط بھی لکھنا نہیں آتا۔ وہ شرمیلا ہرگز نہیں مگر شرمیلا لگتا ہے۔ سواس کے ساتھ دوستی کی ایک وجہ یہ بھی ہوگئی کہ وہ جیسا ہے ویسا خود کو ظاہرنہیں ہونے دیتا۔ خود کو چھپا کے رکھتا ہے، عیاں نہیں ہونے دیتا۔ دوستی کی ایک اور وجہ اس کی آوارہ گردی ہے۔ عباس برمانی ایک مکمل آوارہ گرد ہے۔ پیشہ ور آوارہ گرد۔ کسی بھی موسم اورکسی بھی لمحے آوارہ گردی کےلئے ہمہ وقت تیاراور دستیاب رہتا ہے۔ وہ آوارہ گردی پہاڑوں اور وادیوں کی بھی ہوسکتی ہے۔ سڑکوں اور پگڈنڈیوں کی بھی، خوبصورت اور اداس چہروں کی بھی اور نذیرے کے ہوٹل کی بھی۔ اطہر ناسک نے ایک بار لاہور میں ریگل چوک کے ایک کھوکھے پر سگریٹ کا لمبا کش لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ”رضی! آج میں، تم اور طفیل یہ جو لاہور کی سڑکوں پر آوارہ گردی کر رہے ہیں ناں یہ دراصل لاہورکی ادبی تاریخ رقم ہورہی ہے“۔ ”وہ کیسے؟“میں نے حیرت کے ساتھ خشک کیک رس چائے میں ڈبوتے ہوئے اس سے سوال کیا۔ ” وہ اس طرح کہ 70ء کے عشرے میں انتظارحسین ، احمد مشتاق اور ناصر کاظمی بھی اسی طرح مال روڈ پر گھوما کرتے تھے“۔ اطہر ناسک کی بات پر تو میں نے یقین نہیں کیا تھا لیکن مجھے اس بات کا یقین ضرورہے کہ عباس برمانی جب ہمارے ساتھ نذیرے کے ہوٹل پر بیٹھتا ہے تو صرف ملتان ہی نہیں ڈیرہ غازی خان کی ادبی تاریخ بھی ملتان میں رقم ہورہی ہوتی ہے۔

\"abbasمیں نے یہ تمہید عباس برمانی کی کتاب”طلسماتی وادیاں“ پر اظہارخیال کے لئے باندھی ہے۔ پہلے بتا چکا ہوں کہ عباس برمانی طبعاً ایک آ وارہ گرد ہے وہ صرف سفر ہی نہیں کرتا واپس آکر دوستوں کو شریکِ سفر کرنے کے لئے سفرنامہ بھی تحریر کرتا ہے۔ ایک مقبول سفرنامہ نگار کی حیثیت سے وہ اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرا چکا ہے۔ کافرستان کے سفرکی کہانی اس نے ہمیں ”کیلاش کتھا“ کے نام سے سنائی تھی اور ”سندھو سائیں“،”ایورسٹ کے دیس میں“ اور ”برف دریاﺅں کا سفر“ سے ہوتا ہوا وہ اب ہمیں کوہِ سلیمان اور بلوچستان کی حیرت انگیز وادیوں میں لے گیا ہے۔ عباس برمانی کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ قصبے چوٹی زیریں سے ہے۔ (اس قصبے کے سیاسی پس منظرکے تناظر میں ہم نے ایک طویل عرصہ تک برمانی پر اعتماد نہیں کیا تھا) اس کی ”سفرگردی“ اسے شمالی علاقوں میں بھی لے گئی اور اس نے بیرون ملک بھی سفر کیے۔ لیکن اس مرتبہ عباس برمانی نے سفر کےلئے اپنے ہی خطے کے ایسے مقامات کاانتخاب کیا جو اپنے دامن میں بہت سے حیرت کدے تو سمیٹے ہوئے ہیں لیکن لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں۔ یہ جنوبی پنجاب اوربلوچستان کے وہ دور افتادہ مقامات ہیں جہاں بہت سے جہان آباد ہیں مگران جہانوں کو دریافت کرنے کی کبھی کسی نے کوشش نہیں کی۔ اس نے اپنی نئی کتاب میں فورٹ منرو، بہادر گڑھ، دلورائے، کونج دشت، مٹھوان ندی، رڑکن وادی، وادی بغاﺅ اور ایسے بہت سے مقامات کے سفر کااحوال بیان کیا ہے۔ اس نے ان وادیوں اور ان مقامات کو اگر”طلسماتی وادیاں“کہا ہے تو کچھ غلط بھی نہیں۔ وہ ان وادیوں کوحیرت سے دیکھتا ہے اور اتنی خوبصورتی کے ساتھ منظر کشی کرتا ہے کہ وادیوں کے تمام طلسم کتاب کے صفحات پر نمایاں ہوجاتے ہیں اور قاری بھی برمانی کی حیرت میں شامل ہوجاتا ہے۔

برمانی نے ان طلسماتی وادیوں کی تاریخ بھی ساتھ ساتھ بیان کی ہے۔ مختلف تاریخی کتابوں کے حوالے دیکر وہ مقامات کے تاریخی پس منظر اور حیران کن تفصیلات کو اجاگر کرتا ہے ایسی تفصیلات کہ جو قاری کی حیرت میں مزید اضافہ کردیتی ہیں۔ ہمیں اس کتاب میں بلوچوں کے رسوم ورواج بھی ملتے ہیں اور اس کے مطالعے سے علاقے کے تہذیبی و ثقافتی خدوخال بھی واضح ہو جاتے ہیں۔ جب ہم دورانِ سفر مختلف مقامات پر بندوقوں کا بوجھ اٹھائے بلوچوں کوگھومتا دیکھتے ہیں تو ہمیں کتاب کے آغاز میں دیا گیا رسول حمزہ توف کی خودنوشت کایہ اقتباس یاد آ جاتا ہے۔ ”پہاڑوں کے رہنے والوں کودوچیزیں سب سے زیادہ عزیز ہوتی ہیں اپنی پاپاخ ٹوپی اور اپنے نام کی عزت۔ پاپاخ کی لاج وہی رکھ سکتا ہے جس کے پاس سر ہو اور اپنے نام کی عزت وہی برقرار رکھ سکتا ہے جس کے دل میں شعلوں جیسی حرارت ہو“رسول حمزہ توف کی بات کو ذہن میں رکھئے اور سوچئے کہ وطن عزیز میں سر کٹے مسخروں کا جو ٹولہ پاپاخ کی لاج کے نام پر جنگ و جدل میں مصروف ہے کیا وہ اس لڑائی میں کامیاب ہو سکے گا ؟۔ خیر بات کو سمیٹتے ہیں اس ایک جملے پر کہ برمانی کی دوستی کی طرح اس کی کتاب بھی موسمی نہیں۔ یہ ہرموسم میں قاری کواپنی طرف متوجہ کرتی رہے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔