بڑا آدمی کبھی نہیں گرتا، چھوٹے کوشش کرتے رہتے ہیں


میں بنیادی طور پر ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور سماجی اعتبار سے بہت متحرک نہیں ہوں لیکن میڈیا کی ملازمت نے بہت مہم جوئی کا موقع فراہم کیا۔ کبھی ایبٹ آباد میں جان کے لالے پڑے تو کبھی بہاولپور میں کیمرے پر تالے۔ کبھی پراسرار کلینک کے باہر ہم پر اینٹیں چلیں تو کبھی کنڈے ڈالنے والوں کو بے نقاب کرنے پر لاتیں اور گھونسے۔ کبھی سوات میں طالبان نے ڈرایا تو کبھی گجرانوالہ میں پہلوان نے لیکن اس ساری مہم جوئی کے ساتھ ساتھ عقل و خرد کے میداں بھی یہیں کھلے۔

بہت سے سیاسی اور ادبی لوگوں سے ملنے کا موقع دیا۔ پروگرام ”الف“ علم و دانش کا شو تھا جس سے بہت سے علم دوست لوگوں کی تشفی ہوتی تھی۔ پروگرام کے موضوعات انسان کے ابدی مسائل مثلاً کائنات کا مقصد، انسان ایک مجبور محض، تصوف ایک متوازی دین، بیگانگی خدا سے یا پروڈکٹ سے، تفریق ایک مشیت ایزدی، خیال کا حالات کے تابع ہونا، جبر و قدر کی جکڑ، جوشش (ہیجان، افراط) حیات کا احاطہ وغیرہ وغیرہ ہوا کرتا تھا۔ اب کوئی ٹی وی پر یہ موضوعات کھولے تو شاید اس کی زندہ کھال کھینچ لی جائے۔

ایک بات یاد آگئی بھارت کے ایک ڈائریکٹر راج کپور نے بہت شاندار فلم بنائی، میرا نام جوکر، اور اپنا سب کچھ چار گھنٹے کی اس فلم پر لگا دیا۔ فلم ڈیڈ فلاپ ہوگئی۔ کہانی اور خیال بہت بڑے تھے۔ گانے شاندار تھے۔ پیشکش کمال تھی لیکن فلم فلاپ ہو گئی۔ پھر راج کپور نے فلم بنائی، بوبی، جو انتہائی واہیات اور سپر ہٹ تھی۔ راج کپور نے کہا کہ اس نے بھارتی فلم بین سے ” میرا نام جوکر“ کا بدلہ لے لیا۔ میں ازراہ مذاق کہا کرتا ہوں کہ میں نے الف کے بعد خبرناک پیش کر کے ٹی وی ناظر سے بدلہ لیا ہے جو کہا کرتا تھا کہ موضوعات مشکل ہیں، گفتگو کرنے والوں کی باتیں سمجھ نہیں آتیں، آسان باتیں کیا کریں کہ داڑھی رکھنی چاہیے یا نہیں، طلاق کیسے دینی چاہیے، منہ دکھائی حرام ہر یا حلال، دوسری شادی بیوی سے پوچھ کر کرنی چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ اب میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ٹی وی میڈیم ہی اوسط درجے کے ذہنوں کا ہے۔

خیر ٹی وی مشہور لوگوں سے ملنے کا موقع دیتا ہے لیکن الف بڑے لوگوں سے ملنے کی سعادت دیتا تھا۔ احمد جاوید، جاوید احمد غامدی، ڈاکٹر مبارک علی، ڈاکٹر جاوید اقبال (مرحوم)، ڈاکٹر مہدی حسن، عابد حسن منٹو، ڈاکٹر پرویز ہودبھائی سے ملاقات رہتی تھی بل کہ ان سب سے استفادہ بھی کرتے رہتے تھے۔ ایک ایسا بھی دور آیا کہ میں بیک وقت الف اور پچاس منٹ کا پروڈیوسر تھا اور ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا اور بڑے لوگ بڑے کیوں ہوتے ہیں سمجھنے کا موقع ملا۔

ایک بار ڈاکٹر جاوید اقبال (مرحوم) پچاس منٹ میں تشریف لائے۔ ہمارا فلور دو تہوں پر مشتمل تھا لہذا ایک قدم انچا ہو جاتا تھا لیکن بارڈر لائین کچھ ایسی تھی کہ اونچ نیچ کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے آئے اور ٹھوکر کھا کر اس بری طرح گرے کہ ہال میں سناٹا چھا گیا۔ سہیل شیخ انتظامات میں مصروف تھے کہ گرنے کی آواز سن کر سکتے میں رہ گئے۔ خیر ڈاکٹر صاحب کو اٹھایا اور بہت ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کرسی پر بٹھایا۔ انہیں سینے اور ہاتھوں پر چوٹ لگی کیونکہ وہ چوٹ لگنے کا احساس دلائے بغیر اپنے سینے کو مسل رہے تھے لیکن انہیں ہماری ندامت اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ خفگی کا اظہار کرنے کی بجائے اسے نظر انداز کرنا چاہتے تھے۔

جب انہوں نے دیکھا کہ سہیل شیخ ( اس وقت ایسوسی ایٹ پروڈیوسر تھے) واقعہ کی تاب نہیں لا پا رہے اور بہت مضطرب ہیں اور شاید یہ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کوئی شکوہ شکایت کر کے اس ناگہانی خفت سے چھٹکارا پا لیں جس میں وہ دونوں بندھ گئے تھے تو ڈاکٹر صاحب بولے، ” آپ یہاں کوئی چیز رکھ دیں جو ناہمواری کو واضح کر دے۔ میری تو خیر ہے کوئی بوڑھا آدمی بھی گر سکتا ہے“ اور جب یہ واقعہ پیش آیا ڈاکٹر صاحب پچھتر اسی کے پیٹے میں ہوں گے۔

اسی طرح ایک بار میں نے ڈاکٹر مبارک علی صاحب کو پروگرام میں بلایا۔ ان کے نظریات ایسے ہیں کہ جس پروگرام میں ہوں وہ یا تو چل ہی نہیں پاتا اور یا بہت تگ و تاز کے بعد ایڈیٹوریل کمیٹی سے اسے پاس کروانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس بات سے ذرا خفا تھے کہ وہ وقت بھی دیتے ہیں لیکن پروگرام یا تو کاٹ لیا جاتا ہے اور یا سرے سے چلتا ہی نہیں۔ ایک دن انہیں پروگرام میں بلانے کی غرض سے فون کیا اور بات شروع کرتے ہی میں نے گلے شکوے شروع کر دیے کہ وہ نہ تو پروگرام میں آتے ہیں اور نہ ہی وقت دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ انہوں نے کبھی علم بانٹنے سے انکار نہیں کیا بس پچھلے دنوں وہ کچھ مصروف تھے کیونکہ ایک پبلشر نے ان کی کسی کتاب کے آخری صفحات نکال کر اپنے مرضی سے کچھ صفحات چھاپ دیے ہیں اور بیوروکریٹس سمیت حکومت کے خلاف دشنام طرازیاں کی ہیں لہذا ڈاکٹر صاحب اب ہر ایک کو اپنی بے گناہی کو یقین دلاتے پھر رہے ہیں۔ میں نے کہا آپ یہ بات پروگرام میں کہیں تو بولے، ” یہ تو ذاتی پروموشن والی بات ہے۔ نظریہ اور خیال کی پروموشن ہونی چاہیے۔ ذات کی نہیں“۔

کچھ عرصہ بعد میں نے ایک موضوع پر ڈاکٹر صاحب کو بلایا اور عنوان تھا، ”کیا مسلمانوں کا ماضی واقعی شاندار تھا؟ “۔ ڈاکٹر صاحب آئے اور خوب بولے۔ ظاہر ہے پروگرام چل نہیں سکا۔ بات یہ نہیں تھی کہ کوئی مضبوط مخالف نکتۂ نظر نہیں تھا بل کہ ہم وہ سوال بھی اٹھانے کے متحمل نہ تھے جو پروگرام میں شامل کیے گئے۔ کچھ عرصہ بعد میں نے پھر ڈاکٹر صاحب کو بلانے کا سوچا لیکن ڈاکٹر صاحب نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ شاید وہ نہ آسکیں لہذا کوئی ان کے گھر پر آ جائے اور جو ریکارڈ کرنا ہے کر لے۔ میں نے پھر گلے شکوے شروع کر دیے کہ جب تک علمی کام سامنے نہیں آئے گا کچھ نہیں ہو گا اور ایک جذباتی سی تقریر جھاڑ دی۔ مارکس اور بریڈیویل کے ساتھ وفا کا کہا اور ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ انہیں اب نظر نہیں آتا اور وہ علاج کروا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کی نئی کتاب ”میں اور میرا مقدمہ“ نظر آئی تھی تو بولے، “ بھائی لکھنا پڑھنا ہی میرا پیشہ بھی ہے۔ مجھ پر چودہ مقدمے بن گئے ہیں۔ وہ بھی بھگت رہا ہوں اور روزی روٹی کا بندوبست بھی کر رہا ہوں“۔

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کو جون کے مہینے میں پروگرام میں بلایا اور میں نے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب ائیر ٹکٹ دوں تو بولے نہیں وہ اپنی گاڑی پر آجائیں گے۔ میں مطمئن ہو گیا۔ وہ ریکارڈنگ میں آئے اور اس موضوع پر کہ ” کیا کائنات کی تخلیق کا کوئی مقصد ہے؟ “ شاندار مباحثہ ہوا۔ ریکارڈنگ کے بعد میں ایک صاحب نے پوچھا کہ کب واپس جانا ہے تو بولے جب چاہیں گے چلے جائیں گے کیوں کہ وہ اپنی گاڑی پر تشریف لائے ہیں۔ جن صاحب کو بتا رہے تھے وہ بھونچکا رہ گئے اور انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس سوزوکی ایف ایکس ہے اور اس میں ائیر کنڈیشنر نہیں ہے۔ شاید پڑھنے والوں کے لیے یہ عام سی بات ہو لیکن آپ یقین کیجیے اس وقت بھی ( 2006۔ 7) چھوٹے چھوٹے مولویوں اور خود ساختہ دانشوروں کے بڑے نخرے ہوا کرتے تھے۔
( جاری ہے )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں