شرنارتھیوں کا دھرنا باز روحانی بزرگ، پنڈت نہرو اور انوکھی سودے بازی


دو برس کی بات ہے، سبزی منڈی کے گھنٹہ گھر کے باہر بہاولپور کے ایک شرنار تھی مسٹر رائے (ان کے نام کے ساتھ رائے تھا۔ مثلاً جسونت رائے، کلونت رائے یا دلباغ رائے۔ مجھے ان کا پورا نام تو یاد نہیں۔ میں ان کو مسٹر رائے کے نام سے ہی مخاطب کیا کرتا) سبزی فروخت کرتے، اور سبزی کے کاروبار میں ایک دو روپیہ روزانہ پیدا کر لیتے۔ ہاں کوئی بال بچہ نہ تھا۔ گھر میں صرف ایک بیوی اور یہ خود تھے۔ ان کے دماغ میں کچھ خلل سا پیدا ہو گیا۔ شام کو اپنے کاروبار سے فارغ ہونے، یعنی سبزی ٖفروخت کرنے کے بعد یہ لیڈری کے دورہ پر روانہ ہو جاتے۔

اس زمانہ میں پچّیس تیس شرنار تھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی کوٹھی کے پاس ”ستیہ گرہ“ شروع کر دیا تھا، جسے یہ ”دھرنا“ کہتے۔ اس ”دھرنا“ کی صورت یہ تھی، کہ یہ وزیراعظم کی کوٹھی کے پاس کھلے میدان میں بیٹھے رہتے۔ وہاں ان کے لئے شرنار تھی باری باری کھانا پکا کر بھیج دیتے۔ اور جب پنڈت نہرو اپنی کار میں کوٹھی سے نکلتے، تو یہ مردہ باد کے نعرے بلند کر دیتے۔ یہ ”دھرنا“ جب شروع ہوا، مسٹر رائے نے بھی ٹوکری میں سبزی رکھ کر فروخت کرنا چھوڑ دیا، اور ان ”دھرنا“ والوں میں شامل ہو گئے، کیونکہ کھانا وہاں مفت مل جاتا۔

یہ اپنے آپ کو ان دھرنا بازوں کا لیڈر سمجھنے لگ گئے۔ دن رات وہاں ہی ریتے۔ شام کو اپنی بیوی سے مل آتے، اور دوپہر کو کسی وقت روزانہ اخبارات کا دفاتر میں چلے جاتے، تاکہ یہ اخبارات ان کا بیان شائع کریں۔ اور کوئی کوئی روزانہ اردو اخبار ان کے بیان شائع بھی کر دیتا۔ مسٹر رائے کو جب اخبارات کے دفاتر کے چکر کاٹتے بہت روز ہو گئے، تو اخبار ”پرتاب“ کے ایک سب ایڈیٹر نے مسٹر رائے سے کہا، کہ شرنار تھیوں اور پنڈت جواہر لال نہرو کے درمیان جو اختلاف ہے، اسے اخبار ”ریاست“ کا ایڈیٹر دیوان سنگھ ختم کر سکتا ہے۔ ( کیونکہ اخبارات والوں میں سے اکثر کو یہ علم تھا، کہ دفتر ”ریاست“ میں کوئی نہ کوئی پاگل آتا رہتا ہے اور وہاں ان کے ساتھ ”اخلاص و محبت“ کا سلوک ہوتا ہے) مسٹر رائے نے دفتر ریاست کا ان سے پتہ پوچھا، اور اگلے روز یہ دفتر ”ریاست“ میں تشریف لائے۔

پچھلے کئی برس سے ہر زمانہ میں کوئی نہ کوئی پاگل ضرور ایڈیٹر ”ریاست“ پر کرم فرما رہا۔ اور شام کے وقت بطور تفریح کے ان احضرات سے بات چیت ہوا کرتی۔ کیونکہ تمام دم مصروف رہنے کے بعد اگر شام کو نصف گھنٹہ کے قریب کسی پاگل سے بات چیت کر لی جائے، تو اس تفریح سے تمام تکان رفع ہو جاتی ہے۔ اس بات چیت میں انسان بعض اوقات اس قدر قہقہے لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے، کہ یہ کیف لطائف کی بہترین کتابیں پڑھنے پر بھی نصیب نہیں ہو سکتا۔ مسٹر رائے جب تشریف لائے، اور ان سے بات چیت ہوئی، تو معلوم ہوا، کہ آپ بھی ”کام“ کے آدمی ہیں۔ ان کا تشریف لانا خدائی رحمت ہے، اور اب ایک دو برس اچھے گزر جائیں گے۔

مسٹر رائے نے بتایا، کہ آپ ”دھرنا“ مارنے والے شرنارتھیوں کے ”لیڈر“ ہیں، اور اخبار ”پرتاب“ کے دفتر سے معلوم ہوا، کہ ایڈیٹر ”ریاست“ اور پنڈت نہرو کے گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ ایڈیٹر ”ریاست“ اپنے اثرات استعمال کرتے ہوئے شرنارتھیوں کا مسئلہ حل کرا سکتا ہے، اور آپ اس غرض کے لئے تشریف لائے ہیں اس بات چیت سے راقم الحروف سمجھ گیا، کہ یہ حضرت بھی دماغی اعتبار سے ”روحانی“ بزرگ ہیں۔ میں نے پوچھا، کہ آپ لوگوں کے مطالبات کیا ہیں؟ تو آپ نے فرمایا، کہ چونکہ ملک میں غذا کی کمی ہے، اور شرنارتھی ابھی پورے طور سے بسائے نہیں جا سکے اور غذا کے مسئلہ کا حل اور شرنارتھیوں کا بسانا پیڈت نہرو کے بس میں نہیں، اس لئے خوراک اور عمارات ( مسٹر رائے سنٹرل پی ڈبلیو ڈی کے محکمہ کے عمارات کا محکمہ فرمایا کرتے ) کی وزارت ان کے حوالہ کر دی جائے، تاکہ ملک میں غذا کافی مل سکے، اور تمام شرنار تھی بسا دیے جائیں۔

مسٹر رائے اس روز ایک گھنٹہ کے قریب بات چیت کرتے رہے، اور آپ نے کھانا بھی ہمارے ساتھ ہی کھایا۔ جب یہ جانے لگے، تو ا ن کو ایک روپیہ بس کے کرایہ کے نام پر دے گیا، کیونکہ میں نے محسوس کیا، کہ یہ بے چار ے نتگدست ہیں، اور اپنے ”دھرنا“ کیمپ میں تین میل پیدل سفر کرتے ہوئے جائیں گے۔ ان سے کہہ دیا گیا کہ آپ پانچ سات روز کے بعد آئیں، تاکہ اس عرصہ میں پنڈت نہرو سے بات کر لی جائے۔

ایک ہفتہ کے بعد مسٹر رائے پھر تشریف لائے اور آپ نے پوچھا، کہ پنڈت نہرو سے بات چیت ہوئی؟ تو راقم الحروف نے بتایا، کہ پنڈت جی سے ٹیلی فون پر نصف گھنٹہ کے قریب بات چیت ہوتی رہی، اور پنڈت جی نے فرمایا ہے، کہ وہ دوسرے شرنارتھیوں کی تو پرواہ کرنے کے لئے نہیں، مگر وہ چاہتے ہیں، کہ مسٹر رائے دھرنا والے شرنار تھیوں سے الگ ہو جائیں، اور اس کے معاوضہ میں مسٹر رائے کو پچاس ہزار روپیہ نقد اور رہائش کے لئے کرزن روڈ پر ایک شاندار کوٹھی دے دی جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی راقم الحروف نے مسٹر راہے سے کہہ دیا، کہ اس پچاس ہزار روپیہ میں سے پچّیس فیصدی ساڑھے بارہ ہزار بطور کمیشن کے میرا حصہ ہو گا، کیونکہ مجھے بھی روپیہ کی سخت ضرورت ہے۔

اس آفر کو سن کر مسٹر رائے کچھ تو خوش ہوئے، کہ آخر پنڈت نہرو ان کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوئے، اور مسکراتے ہوئے آپ نے فرمایا، میں نے پنڈت نہرو کو سینکڑوں خطوط لکھے، مگر پنڈت جی نے کسی ایک کا بھی جواب نہ دیا۔ اب پنڈت جی نے محسوس کر لیا ہے، کہ ہندوستان کے تمام شرنار تھی میرے پیچھے ہیں۔ مگر میں پچاس ہزار روپیہ اور کوٹھی لے کر شرنار تھیوں سے غداری نہیں کروں گا۔ میرا مطالبہ صرف ایک ہی ہے، کہ خوراک اور عمارات دونوں کی وزارتیں میرے سپرد کر دی جائیں۔ آپ کے اس انکار پر میں نے ان سے کہا، کہ آپ زیادہ لالچ نہ کیجئے۔ فی الحال تو آپ پچاس ہزار روپیہ اور کوٹھی لے لیجیے، تاکہ مجھے بھی ساڑھے بارہ ہزار روپیہ کمیشن مل جائے، وزارتوں کے متعلق بعد میں دیکھا جائے گا۔

میرے اس کہنے پر مسٹر رائے مجھ پر برس پڑے، کہ میں بھی ان کو شرنارتھیوں کے ساتھ غداری کرنے کی تلقین کرتا ہوں۔ اس بات چیت کے بعد میں نے کہا، کہ اچھا اب آپ تشریف لے جایئے، میں پنڈت جی سے پھر پوچھتا ہوں، کہ وہ دونوں وزارتیں آپ کو دینے کو تیار ہیں یا نہیں؟ میں نے بس کے لئے پھر ان کو ایک روپیہ نذر کر دیا، تاکہ بے چار ے اپنے ”وار کیمپ“ میں واپس پیدل نہ جائیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

دیوان سنگھ مفتوں

سردار دیوان سنگھ مفتوں، ایڈیٹر ہفتہ وار ”ریاست“ دہلی۔ کسی زمانے میں راجاؤں، مہاراجوں اور نوابوں کا دشمن، ان کے راز فاش کرنے والا مداری، صحافت میں ایک نئے خام مگر بہت زور دار انداز تحریر کا مالک، دوستوں کا دوست بلکہ خادم اور دشمنوں کا ظالم ترین دشمن۔ سعادت حسن منٹو کے الفاظ۔

dewan-singh-maftoon has 24 posts and counting.See all posts by dewan-singh-maftoon