الہ آباد اب پریاگ راج ہو گیا ہے


بھارت، اترپردیش یعنی یوپی میں ہندو انتہا پسند سیاست دان یوگی ادیتا ناتھ نے الہ آباد کا نام تبدیل کر کے پریاگ راج رکھ دیا ہے۔ اب جگہ جگہ نصب الہ آباد کے سرکاری سائن بورڈز تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ ویکیپڈیا پر امیتابھ بچن، نہرو اور اندرا گاندھی وغیرہ کی جائے پیدائش کا نام بھی الہ آباد کے بجائے پریاگ راج کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ بہر حال اب کچھ بھی ہو سکتا ہے؛ یہ بھی ہو سکتا ہے، کہ مشہور اور تاریخی الہ آباد یونیورسٹی کا نام بھی پریاگ راج یونیورسٹی کر دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اب الہ آباد بنک کا نام بھی پریاگ راج بنک کر دیا جائے۔ اور ممکن ہے کہ اب الٰہ آباد کے مشہور امرود، بازاروں میں پریاگ راج کے امردو نام سے فروخت ہونا شروع ہو جائیں۔

تاریخ کے مطابق پہلے الہ آباد کا نام پریاگ راج تھا، جسے بدل کر مغل بادشاہ اکبر نے 1583 آلہ آباد کردیا تھا۔ الہ آباد گنگا اور جمنا کے سنگم پر واقع بھارت کا دوسرا قدیم ترین اور مقدس شہر ہے۔ یہاں بہت سے قدیم مندر اور محل موجود ہیں، جو ہندو کتب کے مطابق مذہب میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ بہر حال آج جب یہ افسوس ناک خبر پڑھی تو مجھے ششی کپور کے جگری دوست فلم رائٹر ڈائریکٹر اور ایکٹر پرایاگ راج یاد آ گئے، جن سے ششی کپور کے ہم راہ پرتھوی تھیٹر ممبئی میں ایک یادگار ملاقات ہوئی تھی۔ پریاگ راج انتہائی پیارے انسان ہیں، لیکن ان کے نام کا پس منظر اب کچھ سمجھ میں آ رہا ہے۔

پریاگ راج کا جنم 1938 میں الہ آباد میں ہوا تھا، اور شاید یہی وجہ رہی ہو گی، کہ ان کے والد نے الہ اباد کے پرانے نام کی مناسبت سے ان کا نام پریاگ راج رکھا۔ پریاگ راج کے والد ”رام داس لاہوری“ ماضی کے مشہور شاعر گزرے ہیں، جن کا تخلص آزاد ہوا کرتا تھا۔ وہ لاہور سے ہجرت کر کے الہ آباد جا کر بس گئے تھے۔ پریاگ راج نے بطور اداکار فلم آگ، آوارہ، ہاوس ہولڈر، کاٹن میری اور اِن کسٹڈی جیسی مشہور فلموں میں کام کیا ہے اور بطور ڈائریکٹر ان کی کام یاب فلموں میں کندن، گرفتار، اور حفاظت شامل ہیں؛ جب کہ بطور رائٹر امیتابھ بچن کی مشہور فلموں کی کہانیاں انھوں نے لکھی ہیں۔ ان میں امر اکبر انتھونی، سہاگ، نصیب، قلی، اور مرد شامل ہیں۔

پریاگ راج نے 1968 میں شمی کپور کی فلم جنگلی میں محمد رفیع کا مشہور گانا ”چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے“ کے اغاز میں ’یاہو‘ (Yahoo) اپنی تیز اور بھاری آواز میں رِکارڈ کرایا تھا۔ اس کی بعد سے شمی کپور کو اس قدر شہرت ملی کہ لوگوں نے انھیں ”یاہو مین“ پکارنا شروع کر دیا تھا۔ زیر نظر تصویر 10 جون 2014 ممبئی پرتھوی تھیٹر کی ہے، جس میں بائیں سے پریاگ راج، درمیان میں میرے استاد محترم ابراہیم ضیا اور آخر میں نا چیز۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں