’میں ہارون بلور ہوں: ہارون بلور کی اہلیہ ثمر ہارون کا خصوصی انٹرویو

رفعت اللہ اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور


ثمر ہارون

BBC

یہ الفاظ تھے عوامی نیشنل پارٹی کے ہلاک ہونے والے رہنما ہارون بلور کی بیوہ ثمر ہارون کے جنھوں نے پشاور کے حلقہ پی کے 78 سے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

گذشتہ روز جب میں ان سے انٹرویو کرنے پشاور کے مشہور بلور ہاؤس پہنچا تو وہاں گھر کے سبزہ زار میں ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن پشاور میں اپنی خاتون رہنما کی جیت کی خوشی میں ڈھول کی تاپ پر رقص کرتے ہوئے نظر آئے، ان میں نوجوان بھی تھے اور بڑے عمر کے اے این پی کے کارکن بھی تھے۔

بلور ہاؤس کا وسیع وعریض صحن اے این پی کے کارکنوں سے بھرا ہوا تھا اور ہر ایک کے چہرے پر خوشی کے تاثرات نمایاں تھے۔ بلور ہاؤس پشاور کے صحافیوں کےلیے کبھی انجان جگہ نہیں رہا۔ یہاں شاید ہی کوئی ایسا صحافی ہو گا جس نے یہ گھر نہ دیکھا ہو۔

پشاور میں یہ اے این پی کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم گذشتہ چھ سالوں کے دوران اس سبزہ زار میں ہمیں بیشتر اقاوت غم کے مناظر ہی نظر آئے ہیں۔ چاہے وہ بلور خاندان کے سپوت سمجھے جانے والے سابق وزیر بشیر احمد بلور یا ان کے صاحبزادے ہارون بلور کی دہشت گرد حملوں میں ہلاکت کی صورت میں ہو یا پھر غلام احمد بلور پر ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں کی وجہ سے ہو۔

لیکن آج یہاں کئی سالوں کے بعد پہلی دفعہ غم کی بجائے جشن اور خوشی کی کیفیت دکھائی دی۔

اے این پی کے رہنما صوبہ بھر سے چھوٹے بڑے جلسوں کی شکل میں ڈھول باجوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً وہاں داخل ہوتے رہے جہاں پارٹی کی مرکزی اور صوبائی رہنما مبارکباد کی وصولی کے لیے موجود رہے۔

یہاں ہارون بلور کے جانشین سمجھے جانے والے بڑے صاحبزادے دانیال بلور بھی موجود تھے جو لوگوں سے اپنی والدہ کی کامیابی کی مبارکباد وصول کر رہے تھے۔ ان سے جب ان کی والدہ کا انٹرویو کرنے کی درخواست کی تو وہ فوراً مان گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ ہمیں گھر کے اندر ایک کمرے میں لے گئے جہاں نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی ثمر ہارون ایک بڑے سے صوفے پر براجمان تھیں۔

پہلی نظر وہ مجھے بڑی ہشاش بشاس اور تر و تازہ نظر آئیں۔ تاہم جب نے ان سے گفتگو کا آغاز کیا تو مجھے پہلی ہی فرصت میں ایسا محسوس ہوا کہ جسے وہ اپنی جیت پر خوش تو ضرور ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی ہلاکت کا غم ابھی پوری طرح نہیں بھول پائی ہے۔

انھوں نے بات چیت کی ابتدا ہی اس سے کی کہ وہ الیکشن تو جیت گئی ہیں لیکن اس کی انھوں نے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ‘شوہر کی موت کا غم اتنا بڑا تھا کہ اس سے اتنا آسانی سے نکلنا ممکن نہ تھا لیکن خاندان اور پارٹی کے کارکنوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور اس قابل بنایا کہ انتخابات میں حصہ لے سکوں۔’

نو منتخب ایم پی اے میرے ساتھ بات کر رہی تھی کہ اس دوران کچھ خواتین انھیں مبارکباد دینے کے لیے کمرے میں داخل ہوئیں اور ان کو گلے لگا کر مبارکباد دی۔ یہ خواتین کچھ دیر تک وہاں موجود رہی۔

ثمر ہارون کے بقول ‘پہلے میرا انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ شوہر کی ہلاکت کے بعد ہر چیز سے دل اکتا گیا تھا۔ لیکن جب ہارون بلور سے قربت رکھنے والے کارکنوں اور ان قریبی دوستوں کو دیکھتی تو ان میں مجھے مایوسی نظر آتی پھر میں نے فیصلہ کیا کہ میرا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ تو نہیں ہو سکتا لیکن کم از کم ان کارکنوں کی خاطر ہی کچھ کروں۔’

ثمر ہارون بلور گذشتہ 16 سالوں میں خیبر پختونخوا کی وہ پہلی خاتون امیدوار ہیں جنھوں نے جنرل نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے اپنے شوہر کی ہلاکت کی وجہ سے خالی ہونے والی نشست پی کے 78 پشاور سے عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا اور غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمران جماعت تحریک انصاف کے امیدوار عرفان عبد السلام کو شکست دی۔ انھیں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

41 سالہ ثمرہاورن نے اپنی ابتدائی تعلیم سندھ کے شہر کراچی سے حاصل کی ہے۔ ان کے والد عرفان اللہ مروت بھی سیاستدان ہیں اور وہ سندھ اسمبلی کے پہلے پشتون رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ثمر ہارون پاکستان کے سابق صدر مرحوم غلام اسحاق خان کی پوتی ہیں۔

انھوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کے دو بیٹے بھی ہیں۔ ثمر ہارون نے اس سے پہلے کبھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا تاہم پارٹی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘میری انتخابی مہم کا نعرہ یہ تھا کہ ‘زہ ہارون بلور یم’ یعنی ’میں ہارون بلور ہوں،‘ لہٰذا جیتنے کے بعد بھی میں خود کو ہارون بلور سمجھتی ہوں اور انھی کے نقش قدم پر چل لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کروں گی۔’

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ثمر ہارون کے شوہر اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما ہارون بلور عام انتخابات سے دو ہفتے قبل یعنی 11 جولائی کو پشاور میں ایک مبینہ خودکش حملے میں ساتھیوں سمیت مارے گئے تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6344 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp