’ہم سب‘ کو خوش آمدید


muhammad Shahzadدنیا کا سب سے آسان ترین کام پاکستان جیسے ملک میں اردو میں کا لم لکھنا ہے۔ دن بھر جو جھک ماری ہو اسے لکھ دیں۔ کالم تیار۔ کسی پڑھنے والے نے اگر آپ کے کالم کی تعریف کر دی (اگر نہیں کی تو خود ہی ایک تعریفی خط بھی لکھ لیں ) اور اس نام نہاد خط کو ہی کالم بنا کر چھاپ دیں۔ مر حوم ارشاد حقانی صاحب کا نام اس حوالے سے گنز بک میں آنا چاہیے۔ مگر یہ یاد رہے ان کے اس ٹائپ کے کالم میں چھپے خطوط اصلی ہوتے تھے۔ویسے مرحوم کی ناقص رائے بھی فارن پالیسی سے کم نہ تھی جسے وہ ہر تیسرے کالم کی زینت بنایا کرتے تھے۔ رات کو کسی عزیز کے بچے کی سالگرہ میں شرکت کی تھی۔ وہی لکھ دیں۔ آپکا ایڈیٹر بھی ایسا مہربان ہو گا کہ نہیں سوچے گا کہ یہ کیا انٹ شنٹ بکواس ہے۔ بس جوں کا توں چھاپ دے گا۔ اور اسے دیکھنے یا پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کونسا کسی قاری نے پڑھنا ہوتا ہے!
اردو اخبار کا مطالعہ پانچ یا چھ برس کی عمر سے شروع کیا۔ والدِ محترم ایک فارن مشن میں پریس انفارمیشن کو سنبھالتے تھے۔ سب ہی اردو، انگریزی اخبارات، رسالے اور میگزین وغیرہ آتے تھے۔ انگریزی اخبارات کافی دیر سے پڑھنے شروع کئے جب انگریزی آ گئی (سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی تک نہیں آئی۔سیکھ ہی رہے ہیں گرتے پڑتے!)
تو عرض یہ ہے کہ پاکستان میں آسان ترین کام اردو میں کالم لکھنا ہے۔ کسی بھی قسم کی قابلیت یا تعلیم کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ جس طرح غصے میں جو منہ میں آئے بکتے رہیے اسی طرح جب کالم طاری ہو جائے تو اوٹ پٹانگ ذہن میں وارد ہو لکھتے جائیں۔ ہمیں تو نامی گرامی کالم نویسوں کے کام میں یہی نظر آتا ہے۔ اگر آپ کا کوئی عزیز یا ملازم فوت ہو گیا ہے تو اس کی یاد میں ایک تعزیاتی کالم لکھ دیں۔ وہ بھی نہیں لکھ سکتے تو کسی نظریے کا پرچار کرنا شروع کر دیں۔ مثلاً یہ کہ بھٹو زندہ ہے۔ کسی دلیل کی ضرورت نہیں ۔ بھوکے ننگے بے سر و ساماں لوگ ہی یہ گواہی دینے کو کافی ہوں گے کہ بھٹو مر ا نہیں۔ جب تک بھوک، ننگ، افلاس زندہ ہے، بھٹو بھی زندہ ہے۔ مرحوم زیڈ اے سلہری نے ساری عمر ایک ہی کالم بار بار لکھا اور وہ تھا نظریہ پاکستان۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستان ٹکڑے ٹکٹرے ہو گیا۔ بچے کچے پاکستان میں اگر کوئی نظریہ نظر آتا ہے تو وہ دھونس، زبردستی، جنونیت اور دہشت گردی کا ہے مگر ان کے کالموں نے نظریہ پاکستان کو ہمیشہ زندہ رکھا۔
یہ بھی نہیں کر سکتے تو چڑھتے سورج کی پوجا کے فوائد بیان کرنے شروع کر دیں یا بوٹ پالش پر لکھنا شروع کر دیں۔ بہت بکے گا۔ مارشل لاءکے دور میں بوٹ کو مسیحا کہیں او ردو مارشل لاﺅں کے درمیانی وقفے میں جو جمہوریت آتی ہے اس میں کسی ’شریف‘ کو مسیحا بنا ڈالیں۔ پیسے تو اس کام میں بھی بہت ہیں کہ کسی مذہبی یا جہادی شخصیت کو امیرالمومنین بنا دیں۔ کچھ اور نہیں سوجھتا تو اپنے ساتھی صحافیوں کی تعریف یا پگڑی اچھالنا شروع کر دیں۔ جب حامد میر پر حملہ ہو تو ایک نامی گرامی کالم نویس نے میر صاحب کی بہادری اور تعریفوں پرکالم لکھا مگر سچ مانیے کالم کے آخر تک یہ تک نہ پتہ چلا کہ حامد میر کون ہے۔ لگتا تھا کہ انہوں نے اپنا ہی تعزیت نامہ لکھ ڈالا۔ حامد میر تو بیچارہ سبب بن گیا۔
کالم نویسوں کی ایک قسم اپنی ہی نظم یا غزل اپنے ہی کالم میں چھاپ دیتے ہیں۔ جس دن اپنا کلام میسر نہ ہو، اس دن اپنے قاری کی شاعری سے کالم کا پیٹ بھر دیتے ہیں۔ یہ نہ ہو سکے تو ان کا کالم کچھ ایسا ہوتا ہے کہ انکے کسی قاری نے انہیں فون کیا ہے اور اسلام کی زبوں حالی پر ایک سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے جس کا مکمل بیان تو کالم میں پیش کرنا ممکن نہیں مگر ان کی مہربانی ہے کہ اس گفتگو کے کچھ اقتباسات کالم میں چھاپے جا رہے ہیں تا کہ اسلام کی کچھ تو خدمت ہو جائے۔
بعض اوقات کالم نویس ایک دوسرے سے لڑ بھی پڑتے ہیں اور کالم میں ہی ایک دوسرے کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتے ہیں اور اس قسم کے کالم دونوں طرف سے قسط وار شائع ہوتے ہیں۔ مثلاً ارشاد حقانی اور ڈاکٹر یاسین رضوی کی لڑائی جو معذرت اور صلح صفائی پر ختم ہوئی۔ اللہ بخشے دونوں کو۔ دونوں ہی گذر گئے مگر باقی رہی تو صرف وہی جہالت۔ آج بھی اسی شان و شوکت سے قائم و دائم جس کا اظہار ہمارے کالم نگار انتہائی فخر سے کیے چلے آ رہے ہیں۔
یہ نا انصافی ہو گی اگر اس بات کا ذکر نہ کیا جائے کہ اردو کالم نگاروں میں کچھ لکھنے والے ایسے بھی ہیں کہ جو واقعی بہت عمدہ لکھتے ہیں۔ جن کے کالم میں واقعی کام کی بات ہوتی ہے۔ کچھ یہ بات سادہ زبان میں لکھتے ہیں۔ لغت کی ضرورت نہیں پڑتی اور کچھ ثقیل زبان میں۔ مگر ہمیں فائدہ ہی ہوتا ہے۔ ہماری علم میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ زبان کے لحاظ سے بھی اور موضوعات کے حوالے سے بھی۔ ایسے لکھنے والوں کی اس بدنصیب قوم کو اشد ضرورت ہے۔ روایتی اخبارات تو ایسے لکھنے والوں سے کتراتے ہیں۔ اللہ بھلا کرے کافروں کا کہ انٹرنیٹ ایجاد ہو گیا اور اردو زبان کو بھی ڈھنگ کے کالم پڑھنے کو مل گئے۔ ایسے کالم جنہیں عام اخباروں میں ساری عمر جگہ نہ ملے۔ یہ اعلان پڑھ کر بے انتہا خوشی ہوئی کی وجاہت مسعود صاحب نے ُہم سب‘ کے نام سے ایک آن لائن اردو اخبار شروع کیا ہے جس میں نئے خیالات پر کوئی قدغن نہیں ہو گی۔ اور یہ جان کر بھی انتہائی مسرت ہوئی کہ اس میں ہمارے کئی پسندیدہ لکھاری باقاعدگی سے لکھیں گے۔ بہت سے لکھاری ہمارے دوست ہیں۔ نام یوں نہیںلے سکتے کہ اگرکوئی رہ گیا تو دل شکنی ہو گی۔ بس یہ ہی کہنا ہے کہ سب ہی باکمال لکھاری ہیں جن کے کالم سے ہم جیسے مستفید ہوتے ہیں۔ وجاہت صاحب استاد لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے’ دنیا پاکستان‘ کو جس خوبصورتی سے سنوارا ہمیں یقین ہے یہی حسن ُہم سب‘ میں نظر آئے گا۔ ایک گذارش ہے۔ بس اتنا خیال رکھئے گا کہ کہیں آزادی اظہار کے چکر میں گدھے اور گھوڑے کا فرق نہ مٹ جائے۔ کالم میں کوئی بات ہونی چاہیے۔ ایسی قاری پڑھ کر سوچنے پر مجبور ہو جائے۔ اور ہر کالم اپنے میرٹ پر ہو۔ ایسا نہ ہو کہ اگر کوئی لکھاری ُسینئر کالم نگار‘کے درجے پرفائز ہو گیا ہے تو پھر کچھ بھی لکھے، چھپے گا۔

(محمد شہزاد پیشہ ورانہ طور پر انسانی ترقی اور صحافت سے منسلک ہیں ۔ بنیادی طور پر انسان اور زندگی سے محبت کرتے ہیں ۔ اسی تعلق سے موسیقی، ادب، فنون اور سیاست سے ربط ہو ا۔ ان سے Yamankalyan@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے )


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “’ہم سب‘ کو خوش آمدید

  • 09-01-2016 at 9:21 am
    Permalink

    ,Good column on mental nature of shortsightedness of writers who only want publicity through telling person relations with important personalities without any innovation .

  • 09-01-2016 at 11:52 am
    Permalink

    شہزاد صاحب آپ نے کیا مجھ جیسے لوگ جو اب اردو میں کچھ لکھنے کا سوچ رہے تھے انکی رہنمائی کر دی۔ اردو میں کچھ اس طرز پر لکھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستانی بھی عام انسان ہیں باقی ساری دنیا کی طرح اور ساری دنیا اپنے کام اور اپنی دھن میں مصروف ہے اور ہمارا برا سوچنے کا کسی کے پاس نہ وقت ہے نہ ضرورت۔ ہمارے مسائل کے بنیادی طور پر ہم خود زمہ دار ہیں (یعنی ہمارے حکمران) اور یہ تبھی حل ہونگے جب ہم یہ ذمہداری قبول کریں اور اسکو درست کرنا شروع کریں گے۔ معاملات اور مسائل کا تجزیہ اگر اس تناظر میں کیا جاے گا تو یقینا مفید ہو۔ قابل لوگ یہ کام خوبصورتی سے کر رہے ہیں اور وجاھت مسعود صاحب جیسے استادوں کا شکر رہنمائی کرنے کا شکریہ اس سے بہت فرق پڑیگا

Comments are closed.