چارسدہ سے باچا خان پکارتے ہیں


farnood01

مت بھولیئے کہ کل جنوری کی بیس تاریخ تھی۔ یہی بیس جنوری ربع صدی قبل بھی آئی تھی، مگرباچا خان گزر گئے تھے۔ اب جب تک یہ تاریخ باقی ہے باچا خان کا جرم باقی ہے۔ وہ جرم جس کی سزا پسِ مرگ بھی باچا خان کو مل رہی ہے۔ کل چارسدہ کی باچا خان یونیور سٹی پہ حملہ ہوا۔ کچھ نہیں ہوا، ربع صدی قبل وہ طبعی موت گزرے تھے کل ان پہ قاتلانہ حملہ ہوا۔ ہر بار وہ بچ جاتے ہیں کل بھی وہ بچ گئے۔ کچھ بچے نہ بچے باچا خان کل بھی بچیں گے۔ سن اٹھا سی میں وہ ایک بار ہی مرے تھے اور ابد تک جینے کے لئے مرے تھے۔ سات پانیوں کے آر پار جہاں کہیں بھی ایک عالم موجود رہے گا باچا خان موجود رہیں گے۔ بھول جاتے ہیں کہ باچا خان جیسی ہستیاں روح کی گرہوں سے آزاد ہوتی ہیں۔ عہد ساز لوگوں کا زمانہ تو اس دن سے شروع ہوتا ہے جس دن سے ان کا پیکرِ خاکی تہہِ خاک رکھ دیاجاتا ہے۔ ان کا سوزِ جگر ایک بے تاب روح بن کر قوموں کی زندگیوں میں حلول کر جاتا ہے۔ شعور کے نئے جہانوں کی فصیلیں انہی کے درد سے اٹھتی ہیں۔ فصیلوں پہ رکھے آگہی کے چراغ انہی کے خون سے جلتے ہیں۔ گزرے ہوئے وقت سے چمٹے ہوئے لوگ اس نئی دنیا سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ یہ روشنیوں سے لڑتے ہیں مرتے ہیں پیوند خاک ہوتے ہیں اور گمنامیوں کی خوراک ہوجاتے ہیں مگر روشنی کی وہ ایک کرن بہرطور سلامت ہی رہتی ہے۔

خدا جانے ذرائع ابلاغ نے ٹھیک خبر دی کہ نہیں۔ ایک بات تو سامنے کی ہے کہ باچا خان یونیورسٹی میں علم کو یرغمال بنایا گیا۔ لاشیں دفنائی جا چکی ہیں اور جذبات پہ اوس پڑنا شروع ہوگئی ہے۔ انہماک میسر ہو تو کچھ بات کرلیں؟ کیوں نہ ہم مل کے ریاست کے نمائندوں سے پوچھ لیں کہ آپ ہاتھی کے کان میں اور کتنی دیر سوئیں گے؟ وقت ریت کی مانند مٹھی سے نکلے جا رہا ہے مگر ریاست اب تک اپنا بیانیہ واضح نہیں کر سکی ہے۔ جو کر کے دکھایا جارہا ہے وہ سیاسیات و سماجیات کے طالب علم کیلئے الجھن پہ الجھن بڑھاتا جارہا ہے۔ خاکم بدہن یہ بیانیہ بھی قائد اعظم محمد علی جناح کا نظریہ نہ بن جائے جس کی وضاحت کے لئے پون صدی کا عرصہ بھی ناکافی ہو۔ یار لوگ دہشت گردوں کی کمر لے کر بیٹھ گئے ہیں۔ ایسا ہی رہا تو یار لوگوں کو یہ کمر ہی لے بیٹھے گی۔ سپہ سالار کہتے ہیں ہم کمر توڑ دیں گے اور تماش بین پوچھتے ہیں کہ اب تک کمر کیوں نہیں ٹوٹی۔ اب اتنی سی بات انہیں کیسے سمجھائی جائے کہ دماغ کمر میں نہیں ہوتا۔ آپ اجلی دستاریں تو کھول کے دیکھیئے کہ کتنا کام رفو کا نکلتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ کہ ہم ان لوگوں سے بر سر جنگ ہیں جن کے پاس کھو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ پورے خلوص سے اپنی کمر ہتھیلی پہ لیئے سامنے ہیں۔ آپ کمر توڑنے پہ کمر بستہ ہیں تو وہ بھی کمر تڑوانے پہ آمادہ ہیں۔ کس کس کی کمر اور کون کون سی کمر توڑیں گے؟ آپ جیش محمد کی قیادت کو تحویل میں لے لیں گے مگر تنظیم اسلامی پہ تو ہاتھ پھر بھی نہیں ڈال سکتے۔ تنظیم اسلامی کا نام کیا روا روی میں قلم سے صادر ہوگیا؟ ایسا نہیں ہے۔ ریاست اور سماج کے باب میں اس وقت اگر کوئی بھیانک بیانیہ ہوسکتا ہے تو وہ تنظیم اسلا می کا ہے۔ نہ تو اس جماعت کی کمر توڑی جا سکتی ہے اور نہ ہی مجھ جیسا شخص کمر توڑنے کا مطالبہ کرے گا۔ دماغ درست کرنے کی بات الگ ہے اور یہ کرشمہ ریاست کے بیانیئے کے بغیر ہو نہیں سکتا۔

ہمارا قومی المیہ اس وقت یہ ہے کہ ہم دہشت گردوں کا صفایا کرنا چاہ رہے ہیں۔ ضرورت جبکہ اس بات کی تھی کہ دہشت گردی کا صفایا کیا جا ئے۔ دہشت گردوں کا تعلق دہشت گردی سے ہے اوردہشت گردی کا تعلق ایک فکر سے ہے۔ یہ فکر اگر سلامت ہے تو توپخانہ خالی ہوجائے گا کمر جوں کی تو رہے گی۔ ہمیں اطمینان دلانے کیلئے کہہ دیا جاتا ہے کہ صاحب داعش کا یہاں کوئی گزر نہیں۔ مان لیتے ہیں کہ کوئی گزر نہیں لیکن داعش اگر گزرنا چاہے تو کیا اسے رستہ بھی میسر نہیں ہوگا؟ کراچی سے درہ آدم خیل تک کے راستے آج بھی داعش کے لئے دیدہ ودل فرش راہ ہیں۔ مدارس کے طلبا تو بم بارود سے کھیل کر کافی حد تک سمجھ گئے کہ ہمارے ساتھ کہاں ہاتھ ہوا ہے، اب کہ جو قیامت اٹھ رہی ہے وہ جدید عصری تعلیمی اداروں سے اٹھ رہی ہے۔ کراچی میں آغا خان یو نیور سٹی کی بس پر حملے میں این اے ڈی جیسی درس گاہ کے نوجوان کا ملوث ہونا کیا اتفاق ہے؟ ڈاکٹر اکمل وحید برادران کون ہیں؟ کور کمابڈر کراچی پہ حملے میں ملوث لوگ کون تھے؟ القاعدہ کو بر صغیر میں تنظیمی ذمہ داریاں سونپنے کیلئے افراد کار کون سی جماعتوں سے میسر آرہے ہیں؟ خالد محمد شیخ کسی پرامن مذھبی جماعت کے دفتر سے یونہی تو برامد نہیں ہوجاتے۔ فرصت سے کبھی سوچیئے گا کہ نوجوان خون کا جمعیت سے حزب التحریر کی طرف جانا حزب التحریر سے جست لگا کر تنظیم اسلامی کی طرف آنا تنظیم اسلامی سے پھدک کر حزب التحریر میں جانا جماعت اسلامی چھوڑ کے نیچے کی دو جماعتوں میں آنا یہاں سے ٹوٹ کر داعش کی تلاش میں نکل جانا یہ سب الٹ پھیر کیا ہے؟ یہ تین جماعتوں کا خاموش ٹرائیکا کیا اتنی سی بات سمجھانے کیلئے کم ہے کہ فکر کی موجودگی کیسی کیسی ہم آہنگیوں کو ہوا دے رہی ہے؟ اگر ریاست نے منطقی قضیوں سے پاک بیانیہ دینے میں ایک برس کی مزید تاخیر بھی کردی تو یہ فکری ہم آہنگیاں کمر توڑ قیامت کی پیش خیمہ ثابت ہوں گیں۔ میرے منہ میں خاک ڈال لیجیئے، مگر جو بات ہے، سو وہ ہے۔ کیا کیجیئے۔

اپنے کہے پہ کوئی اصرار نہیں۔ غلطی کا احتمال موجود ہے، مگر یہاں مشکل یہ آن پڑی ہے کہ مشاہدے اور تجربے کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ مشاہدہ ایک بدیہی امر ہے۔ منطق کا قانون یہ ہے کہ بدیہی امر کسی دلیل کا محتاج نہیں ہوتا۔ اپنے مشاہد ے کو ہم آسان کئے دیتے ہیں تاکہ جھٹلانے میں کچھ تو مشکل پیش آئے۔ کل کے ہی واقعے پہ ٹسوے بہانے والوں کی ایک فہرست بنا لیجیئے۔ ان لوگوں کو ایک طرف کر دیجئے جن کی مذمتیں اگر مگر کی چاند ماریوں سے پاک ہیں۔ جو بچ گئے ان پہ اگر ایک گہری نگاہ ڈال لیں تو آپ کو واضح نظر آجائے گا کہ ان میں وہ لوگ بھی مذمت کر رہے ہیں جو اس گھڑی کے منتظر ہیں جب خراسان کی سرحدوں سے گھوڑوں پہ سوار گنجوں کا ایک لشکر دھول اڑاتا ہوا آئے گا۔ یہ تعداد میں ناقابلِ یقین حد پہ کھڑے ہیں۔ ان کے سامنے ایک سوال رکھ دیجئے کہ آپ طالبان کے حالیہ حملے کی مذمت کیوں کرتے ہیں۔ جواب کچھ یوں ہوگا کہ’صاحب بچوں کو قتل کرنا درس گاہوں پہ چڑھ دوڑنا بے گناہوں کے گلے کاٹنا قطعا کوئی جہاد نہیں‘۔ اس جواب کا مفہومِ مخالف کیا بنتا ہے؟ آپ بہتر جانتے ہیں مگر ہم وضا حت کئے دیتے ہیں۔ مفہوم یہ بنتا ہے کہ ’صاحب جہاد تو یہ ہے کہ قحبہ خانوں پہ حملے کیجیئے جی ایچ کیو کا رخ کیجئے تھانوں کو نشانہ بنا یئے حکومتی املاک کو دھواں کیجیے سینیما گھروں کو آگ لگایئے فحاشی و عریانی کے اڈے چلا نے والوں کے گلے کاٹئے“۔ میرے مقدمے میں اب بھی کہیں جھول دکھا ئی پڑ جائے تو پھر ایک کام اور کر دیجیے۔ اس سماج کے سامنے ایک سوال رکھ دیجئے کہ ممتاز قادری کا سلمان تاثیر کو قتل کرنا درست تھا کہ غلط؟ میرا ایمان ہے کہ یہ سوال دودھ کو پانی سے الگ کرنے کو کافی ہوجائے گا۔

مسئلہ ان تعلیمی اداروں کا نہیں جہاں دہشت گردوں کو اسلحے کی تربیت دی گئی۔ مسئلہ وہ ادارے اور جماعتیں ہیں جن کی فکر اسلحہ اٹھانے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ دل بہلانے کو تو کچھ جماعتیں کاالعدم ہو جائیں گی مگر جو جماعتیں کالوجود ہیں ان کی فکری تباہ کاریوں سے کیسے نمٹیں گے۔ بات یہ ہے کہ بیانیہ ہی بیانیئے کو کاٹ سکتا ہے اور یہ کہ بیانیہ ریاست کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔ ریاست نے سید مودودی کا بیانیہ آزما لیا باچا خان کا بیانیہ بھی آزما کر دیکھ لے۔باچا خان کے بیانیئے کو فروغ دینے والے دانشکدوں کو کل انگریز سرکار نے جلا کر خاکستر کر دیا تھا اور آج انہی دانشکدوں میں اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر خون تھوکا گیا ہے۔ سوچئے کہ تعلیمی اداروں پہ ہی کیوں حملہ آور ہیں؟ اسکول کو ہی بموں سے کیوں اڑاتے ہیں؟ پھر عین اس وقت کہ باچا خان کی برسی پہ شعرا گلے کنکھار رہے تھے، باچا خان یونیورسٹی کی طنابیں کیوں ادھیڑ دی گئیں؟کیونکہ یہاں باچا خان کی فکر پلتی ہے۔ وہ فکر جس نے ہمیں سمجھایا تھا کہ سیاست انسان اور انسان کے بیچ رابطے کا ذریعہ ہے جبکہ مذہب انسان اور خدا کے بیچ رابطے کا ذریعہ ہے دونوں کو ایک دوسرے الگ نہ کیا گیا تو مذہب اور سیاست دونوں کے حصے میں رسوائیاں آئیں گی۔ یہ جو اب ہم سمیٹ رہے ہیں یہ کیا ہے؟ ہم افغان جہاد کے وہ کھٹے میٹھے ثمرات بھی بھگت چکے جس کی خبر باچا خان نے کردی تھی۔ مملکت ضیا داد پاکستان کے وہ نتائج بھی دیکھ چکے جو اپنے ظہور سے پہلے ہی باچا خان کو بے چین کئے ہوئے تھے۔ ساحل پہ کھڑے غافل کو موجِ حوادث کے اور کتنے تھپیڑے درکار ہیں؟ ریاست اپنا ہاتھ بڑھائے کہ باچا خانیت کا چراغ تنہا ہواوں کی زد پہ ہے۔ یہی بیانیہ ہنستے بستے سماج کی ضمانت دے سکتا ہے اگر سر پہ ریاست کا سایہ پڑ جائے۔ ایسا ہوجائے تو ٹیڑھی کمر خود کڑی کمان کا تیر ہوجائے گی۔ بانسریاں جلا کر بھسم کر دینے والے جنگجو خود منہ پہ بندوق کی نال رکھ کر بانسری بجائیں گے۔ مرنے کی بجائے وہ زندہ رہنے پہ غور کریں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

11 thoughts on “چارسدہ سے باچا خان پکارتے ہیں

  • 21-01-2016 at 4:35 pm
    Permalink

    زبردست

  • 21-01-2016 at 9:36 pm
    Permalink

    Stupid & senseless article

  • 22-01-2016 at 11:49 am
    Permalink

    سید مودودی کے بیانیے اور نبی کریم کی سیرت طیبہ میں کوئی اختلاف نہیں، محض الزام تراشی کے بجائے اس مخصوص مدت کا حوالہ دیں جب ریاست نے سید مودودی کا بیانیہ آزمایا تھا۔

  • 22-01-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    “جدا ھو دین سیاست سے تو رہ جاتی ھے چنگیزی”

    • 23-01-2016 at 1:40 am
      Permalink

      I believe had Iqbal been alive, he would have written a couplette about the brutality which religious politics could bring to fore.

    • 24-01-2016 at 12:11 pm
      Permalink

      : “باچا خان اور سید مودودی علیہ رحمہ کے بیانیے”

      برادر محترم کاشف نصیر کے عطا کردہ لنک پر کسی ‘فرنود عالم’ صاحب کی تحریر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ عنوان تو “چارسدہ سے باچا خان پکارتے ہیں” تھا، لیکن تکلیف دہ لفاظی کی دھند میں لپٹی ہوئی اس تحریر کا مطلب اور مقصد جذباتی افراد کی لاعلمی سے فائدہ اٹھانا تھا۔ جس طرح سڑک پر مجمع لگانے والے چرب زبان مداری افریقہ کے دو منہ والے شیر کی تصویر دیکھانے کی آڑ میں داتنوں کا منجن بیچتے ہیں، عین اسی طرح موصوف نےچارسدہ حملے کی آڑ میں غامدی صاحب اور مغربی استعمار کا مشترکہ بیانیہ بیچنے کی کوشش کی ہے۔

      فرماتے ہیں! جو مذہبی لوگ بچوں کے قتل، درس گاہوں پے حملوں اور بے گناہوں کے گلے کاٹنے کو جہاد نہیں سمجھتے بلکہ اس کی کھل کر مذمت کرتے ہیں، وہ دراصل فوجی اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے حامی ہیں۔ لہذا ہر اُس شخص کو بھی قابل گردن زنی ہونا چائیے جو اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے۔ موصوف نے گزشتہ ڈیڑھ عشرے کے دوران رونما ہونے والے پانچ سات ایسے واقعات کا تذکردہ فرمایا، جن میں دینی جماعتوں کے وابستگان انفرادی حیثیت میں ملوث رہے ہیں۔ اور اس کی آڑ میں تنظیم اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ جیسی پُر امن تنظیموں کی کمر توڑنے کا ذکر کر ڈالتے ہیں۔ پھر دہشت گردی کو ختم کرنے کا نسخہ یہ پیش کیا کہ، دہشت گردی اسلامی فکر کی وجہ سے ہے لہذا حکومت اسلامی فکر اور اس کے تمام حاملین کو پوری قوت کے ساتھ نشانہ بنائے اور اس اسلام کے مخالف بیانیہ کو اپنا لے۔ اُن کے الفاظ میں “ریاست نے سید مودودی کا بیانیہ آزما لیا باچا خان کا بیانیہ بھی آزما کر دیکھ لے”۔

      2001 کے بعد امریکی جنگ میں شمولیت کی قیمت پر وطن عزیز میں جو دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اُسکو پاکستان کی اساس بننے والی اسلام فکر کا نتیجہ قرار دینا ہی ایسا بھونڈا الزام ہے کہ اس پر کسی سنجیدہ تبصرے کی گنجائش نہیں ملتی۔ اسلام سے مغرب کا عناد کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، اور مغرب کے مقامی اہلکاروں کی جانب سے اسلامی فکر اور اسلام کے نام لیواؤں پر مختلف انداز کے حملے بھی ایک کھلی حقیقت ہے۔ لیکن اس تحریر میں خاص بات “باچا خان کے بیانیے” کا حوالہ ہے، جو ایک نئی سمت کی نشاندہی کر رہا ہے۔

      باچا خان اور اُس کے بیانئے کا جائزہ لییا جائے تو معلوم ہو گا کہ، باچا خان کا اصل نام عبدالغفار خان تھا لیکن وہ خود کو سرحدی گاندھی کہلانا پسند کرتا تھا۔ انگریزی فوج کا سابق ملازم اور پاکستان میں شامل مسلم اکثریتی علاقے میں کانگریس کا وفادار تھا۔ قیام پاکستان کے وقت صوبہ سرحد پر باچا خان کی پارٹی اور ہندوں کی مشترکہ حکومت تھی، جس نے صوبے کے پاکستان میں شمولیت کی مخالفت کی تھی۔ تب ہی سرحد کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے زریعے ہونا قرار پایا تھا۔ اس موقع پر سرحدی گاندھی نے نہرو کے ساتھ مل کر صوبے کا دورہ کر کےعوام سے پاکستان میں شمولیت کو مسترد کر دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ریفرنڈم میں ناکامی کے بعد باچا خان نے پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے “آزاد پخوتونستان” کا نعرہ لگایا۔ وہ افغانستان چلا گیا جہاں سے اعلیحدگی کی تحریک چلاتا رہا۔ اُس کی وصیت تھی کہ اُسے پاکستان کی سرزمین میں دفن نہ کیا جائے، اس لئے اُس کی قبر افغان شہر جلال آباد میں ہے۔ باچا خان کو ہندوستان کے لئے اُس کی خدمات کے اعتراف میں انڈیا کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ‘بھارت رتنا’ 1987 میں دیا تھا۔ باچا خان کے پیروکاروں نے روسی خفیہ ایجنسی “کے جی بی” اور افغان خفیہ ادارے “خاد” کی ایما پر 1980 کے عشرے میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کی ہزاروں وارداتیں کیں اور ہزاروں معصوم پاکستانیون کے خون سے ہاتھ رنگے۔ باچا خان کے فکری وارث اور قریبی شاگرد ‘اجمل خٹک’ روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان کو فتح کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور جب تک روس ٹکڑوں میں بٹ نہیں گیا تب تک باچا خان کے فکری وارث اسی امید پر افغانستان میں بیٹھے رہے ہیں۔ اگر کسی فکر کو باچا خان کی فکر یا بیانیہ کہا جا سکتا ہے تو وہ لسانی اور نسلی تعصب کے نتیجے اور دشمن ممالک کے تعاون اور امداد سے پاکستان کے ٹکڑے کرنا ہے۔

      دوسری جانب سید مودودی نے سرحد کے ریفرنڈم کے موقع پر نے سرحد کی عوام سے اپیل کی تھی کہ ” رفرینڈم میں ووٹ پاکستان کے حق میں ڈالئے۔ اس لئے کہ جب ہندوستان کی تقسیم ہندو اور مسلم قومیت کی بنیاد پر ہورہی ہے تو لامحالہ ہر اس علاقے کو جہاں مسلمان قوم کی اکثریت ہو اس تقسیم میں مسلم قومیت ہی کے علاقے کے ساتھ شامل ہونا چاہئے.” سید مودودی پر “غیر ریاستی عسکریت” کی شرعی حثیت کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے “جہادِ کشمیر” کی مخالفت کا الزام آج بھی لگایا جاتا ہے۔ سید مودودی کے فکری پیروکار آج بھی بنگلہ دیش میں پاکستان کا ساتھ دینے کے جرم میں بھانسی چڑھائے جا رہے ہیں۔ سید مودوی کی فکر اور بیانیہ ہر قسم کی زیر زمین جدوجہد سے تعلقی اختیار کرتے ہوئے صرف اور صرف پُرامن دعوت کے نتیجے میں ایک آئینی تبدیلی کے زریعے اسلام کا نفاذ ہے۔

      سید مودودی کے بجائے باچا خان کا بیانیہ اپنانے کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان میں پُرامن جدوجہد کے نتیجے میں منزل کے تعین کے بجائے پاکستان کی وحدت کو ہی پاش پاش کر دیا جائے۔ یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ اس خاص طبقے کی سوچی سمجھی رائے ہے۔ چونکہ پاکستان کی اساس اسلام ہے، پاکستان کا قیام ہی اسلام کی نظریاتی تعبیر کا مرہون منت ہے۔ اس لئے پاکستان میں لادینیت اور سیکولرازم کی کوئی گنجائش عملا نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ماضی میں گیے گئے تمام تجربات ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔ آج بھی تمام تر قوت لگانے کے باوجود نتائج کوئی حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ پون صدی کی کوششون کے باوجود بھی یہ اس قابل نہیں ہوسکے کہ واضع الفاظ میں اپنا مدعا ہی بیان کر سکیں۔ اس لئے ان کے خیال میں پاکستان کا ٹوٹنا ہی جنوبی ایشیا میں سیکولرازم کے استحکام کا ضامن ہے۔ انکے مقاصد اور خوائشات کو امریکی تھنک ٹینکس کی اُن رپورٹس کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے جن کے مطابق 2025 سے پہلے پہلے پاکستان نے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا ہے۔

      مشتری ہوشیار باش! مغرب کا یہی ایجنڈا پہلے کھلے ڈھلے الفاظ میں عاصمہ جہانگیر، امتیاز عالم، بینا سرور، سبین محمود، رضا رومی وغیرہ جیسے چہرے چلایا کرتے تھے۔ لیکن یہ سب اسلام اور پاکستان دشمنی کا منجن بیچنے میں بُری طرح میں ناکام ہوگئے۔ ہمارے معاشرے اور سماج نے انہیں اجنبی قرار دیا تو مغرب نے اپنے نئے ایجنٹ مارکیٹ میں اتارے۔ اب یہ چہروں پر داڑھی سجائے، مذہبی خاندان کا پس منظر اور مدارس دینیہ کی تحصیل کے تغمے سجائے اور ملفوف الفاظ میں وہی اسلام اور پاکستان دشمنی کا منجن بیچ رہے ہیں۔
      (مہتاب عزیز)
      [1/24/2016, 10:52 AM] +966 59 942 2613: شاید آپ کو بھی کبھی تجربہ ہوا ہو !!

      سابقہ مولوی اور موجودہ متجددین بھی خوب ہیں، انھیں ساری دانشوری اور فلاسفری کے باوجود یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جو بیانیہ این جی اوز سے مستعار ہو اور جن لفظوں کے پیچھے ڈالر ، یورو، روبل اور جرمن مارک ہوں، وہ لکھے جانے سے پہلے ہی اپنی اہمیت اور وقعت کھو دیتے ہیں، عوام الناس کے دماغ میں کیا جگہ پائیں گے اور کیا بیانیہ تبدیل کریں گے۔

      متجددین میں شامل اچھے بھلے دکھائی دینے یا بننے والے فارغ التحصیل حضرات علمائے کرام ڈر سے مولانا تو نام کے ساتھ نہیں لگاتے اور گاہے نام میں بھی ادل بدل کر ڈالتے ہیں کہ آمدن اور قارئین میں کمی نہ ہو مگر جب کوئی ضرب لگے تو اپنے ماضی کا حوالہ دینا اور اس کی بنیاد پر بلیک میل کرنے کی دھمکی دینا نہیں بھولتے۔ کوشش ان کی یہ ہوتی ہے کہ اسلام کا نام بھول کر بھی نہ آنے پائے اور کہیں آ بھی جائے تو ایسے کہ مغربی خواہش کے مطابق سب بدل کر متبادل بیانیے کے عنوان سے اسلام کے نام پر پیش کیا جائے، منطق پڑھ رکھی ہے تو الفاظ کا گورکھ دھندہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

      ویسے تو یہ ہمارے مولبی بھائی اسلام اور ریاست کو الگ الگ بتاتے ہیں اور زور بیان اس بات پر ہوتا ہے کہ ریاست کا کوئی مذہب کوئی بیانیہ نہیں ہوتا، وہ تو بس ریاست ہے مگر اندر اندر خواہش مچلتی رہتی ہے کہ کسی بہانے ریاست ان کا بیانیہ اپنا لے۔ باہر واہ واہ الگ ہے، ریل پیل الگ ہے اور ریاست بھی دام میں آ جائے تو کیا کہنے۔ یہ خواہش کبھی اتنا زور پکڑتی ہے کہ رہا سہا اسلام کا چولا بھی اتار پھینکتے ہیں، شاید وحشت محسوس ہوتی ہوگی۔ کچھ سابق فارغ التحصیل ہیں ، کچھ اس کے ساتھ سابق جہادی بھی ہیں ، کھلے عام اسلام اور جہاد کا انکار تو نہیں کرتے مگر غل ایسا مچاتے ہیں کہ سب دھندلا جائے۔

      فیس بک ان کے خیال میں ایسا ہتھیار ہے کہ جس پر بیٹھ کر کل ملا کر تین سے چھ آدمی مبلغ 18 کروڑ یا 20 کروڑ عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست کا بیانیہ بھی بدل سکتے ہیں۔ گاہے یہ خود ریاست کے ترجمان بنتے ہیں مگر انھیں یہ بنیادی بات نہیں معلوم ہو سکی کہ سوائے قومی یا اپنے مفاد کے ریاست کا کوئی بیانیہ نہیں ہوتا۔ اسے اسلام سوٹ کرے تو کوئی اس کا چولا پہن لیتا ہے اور سیکولر سیکولر کھیلنا ہو تو کتے ہاتھ میں پکڑ لیے جاتے ہیں۔ بیانیہ نظر کے دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے مگر عقل ایسی غالب ہے کہ دھوکہ کھا کر بھی سمجھتے ہیں کہ فیس بک پر دنیا ان کی عقل اور بیانیے پر چلتی ہے، لگے ہاتھوں ریاست کو بھی مشرف بہ بیانیہ کر لیا جائے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں گے تو ان تین سے چھ لوگوں کو ”بیانیہ” سیٹ کرتے ہوئے پائیں گے۔ اور ہاں آتے جاتے مسافروں کو وہ یہ بتانا نہیں بھولتے کہ ہمارے سوا اس دنیا یعنی کہ فیس بک میں رکھا کیا ہے۔
      شاید آپ کو بھی کبھی تجربہ ہوا ہو !!

  • 24-01-2016 at 10:13 am
    Permalink

    “سیاست انسان اور انسان کے بیچ رابطے کا ذریعہ ہے جبکہ مذہب انسان اور خدا کے بیچ رابطے کا ذریعہ ہے”

    سیاست میں یہی کچھ تو ہو رہا ہے۔ بے خوف سیاستدان انسانوں کو الٹی چھری سے ذبح کر رہے ہیں۔ بہتر ہے اب سیاست میں بھی خدا اور انسان کا تعلق لایا جائے تاکہ خدا کا خوف رکھنے والے انسانوں سے بہتر سلوک کریں۔

    باچا خان جو بھی ہوں مجھے سیکولرزم کی یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ جو سیکولرزم مذاہب کی حدود کو ہٹا دیتا ہے وہ قومیت پرستی (قومیتوں) کی حدود کو مزید مضبوط کیوں کر دیتا ہے؟

  • 24-01-2016 at 11:14 am
    Permalink

    فرنود صاحب جیسے اہل علم سے یہ توقع نہیں تھی کہ باچا خان کی محبت میں وہ سید مودودی کہ یوں برسیں گے۔اب جبکہ وہ برس ہی پڑے تو میری ان سے گزارش کے کہ اول تو وہ یہ واضح فرما دیں کہ سید مودودی کا بیانیہ ہے کیا؟آپ ان کی سو کتب ،ہزاروں تقاریر میں سے مسلح تحریکوں اور زیر زمین منصوبہ بندیوں کے حق میں ایک جملہ نکال کے دکھا دیں میری پگڑی آپ کے پاوں میں۔ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دیں کہ ریاست نے سید مودودی کا (موجودہ جماعت اسلامی کا نہیں ) بیانیہ کب آزمایا ہے؟؟؟

  • 24-01-2016 at 8:46 pm
    Permalink

    اس جھالت اور تعصب سے بھرپور تحریر پر کوئی علمی تبصرہ کرنا گویا لکھاری کو کوئی علمی درجہ دینا ہے جس کے وہ قطعی لائق نہیں.

Comments are closed.