مولانا شیرانی کی لائبریری اور ہمارے برشوری صاحب


saleem malikآج کل شیرانی صاحب کا دور ہے۔ انہوں نے ہر کسی کو اپنے متعلق لکھنے پر لگایا ہوا ہے۔ بہت سوں کو تو ان کے حق میں لکھنے کو کچھ زیادہ نہیں ملا۔ لیکن کچھ دقت بھی نہیں ہوئی متوقع باتیں لکھتے رہے، اپنی بھڑاس نکالتے رہے اور پڑھنے والے اپنے غصے کو یہ سوچ کر ٹھنڈا کرتے رہے کہ شیرانی صاحب کی عورت دشمنی کچھ اور زی شعور انسانوں کو بھی چبھتی ہے اور یہ کہ ان کے خیالات کو کھلی چھٹی نہیں ملی۔

مجھے یہ سطور لکھنے کا خیال، البتہ، بخت برشوری صاحب کا کالم “مولانا شیرانی: مجموعہ کمالات و تنازعات” پڑھنے کے بعد آیا۔ انہوں نے مولانا شیرانی صاحب کا خاکہ ایک ایسے بے ضرر آدمی  کا سا کھینچا ہے جیسے کوئی کسی تباہ کن سیلاب جس میں ہزاروں جانیں گئی ہوں لاکھوں لوگ بے گھر ہوے ہوں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہوں اور اربوں روپے کا انفراسٹرکچر برباد ہوا ہو، اس کی کہانی کچھ یوں لکھے کہ بہت زیادہ اور اچانک بارشوں کی وجہ سے ندی نالے ابل پڑے اور ہر طرف پانی پھیل گیا اور جن علاقوں میں پانی کئی ہفتے تک کھڑا رہا ان میں کچھ فصلیں اور گھر وغیرہ بھی تھے۔ چند ہفتوں کے بعد پانی اتر گیا اور تمام علاقے بالکل خشک ہو گئے۔ یعنی موت اور تباہ کاری کا کہیں ذکر تک نہ ہو۔

بالکل ایسے ہی شیرانی صاحب کا خاکہ لکھا گیا ہے۔ کہ شیرانی صاحب بہت پڑہے لکھے آدمی ہیں اور انہیں مطالعہ کا بہت شوق ہے اسی شوق میں انہوں نے کئی لائبریریاں کھنگال دی ہیں۔ وہ بہت حلیم الطبع ہیں اور کسی سے فالتو بحث نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ لوگ ان پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں مگر وہ کبھی بھی کسی الزام کا جواب تک نہیں دیتے۔

برشوری صاحب کے لکھے کا ہمیں یقین ہے۔ شیرانی صاحب نے لائبریریاں کھنگال دی ہوں گی اس کے باوجود شیرانی صاحب آئے روز یہ بتاتے ہیں کہ انسانوں کے خلاف ان کا تعصب عروج پر ہے۔ وہ عورتوں کے بنیادی انسانی حقوق کے سخت مخالف ہیں یعنی پاکستان کی آدھی آبادی، دس کروڑ لوگوں، کو وہ انسانوں والی زندگی سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عورتوں کو گھر میں اگر مار پٹے تو وہ اس تشدد کے خلاف انصاف نہ مانگ سکیں۔ ان پر تشدد کرنے والے کو کوئی مذہبی یا اخلاقی رکاوٹ ہو نہ قانون پوچھ سکے اور عورت نہ صرف تشدد چپ چاپ برداشت کرے بلکہ اسی جذبے سے تشدد کرنے والے کی ہر طرح کی خدمت جاری رکھے تاوقتیکہ وہ خوش ہو کر تشدد سے باز آ جائے اور پیار کرنا شروع کر دے۔

یہ بھی کوئی چھپا راز نہیں کہ بچیوں سے شیرانی صاحب کو خدا واسطے کا بیر ہے کیونکہ اس کا اظہار بھی وہ ببانگ دھل کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ لڑکی کی شادی کے لئے کم از کم عمر مقرر کرنا غلط ہے۔ بیشک کم سن لڑکی کی شادی کر دو رخصتی بلوغت پر کر دینا۔ اور ذرا دلیل دیکھو کہتے ہیں کہ جب بلوغت کو پہنچے گی  یعنی نو یا دس سال کی ہو گی اور اگر خاوند پسند نہ ہوا تو طلاق لے سکتی ہے۔ یا تو وہ اتنے سادے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نو سال کی بچی واقعی طلاق کا مطالبہ کرنے کے قابل ہو گی اور اسے طلاق مل بھی جائے گی یا وہ بددیانتی سے کام لے رہے ہیں اور والدین کو گمراہ کر رہے ہیں۔ شیرانی صاحب نے اپنے “علم” سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے اور بچیوں کے خلاف انسانیت سوز جرائم کے امکانات نہ صرف بڑہ گئے بلکہ زیادہ دھڑلے سے ہونے لگے ہیں۔ لوگوں شرمندگی کی بجائے جواز پیش کرتے ہیں جیسا کہ ابھی سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ ایک ساٹھ سالہ آدمی جب کم سن بچی سے شادی کے الزام میں گرفتار ہوا تو عدالت میں اس نے بیان دیا کہ اس کا یہ عمل مذہب کے عین مطابق تھا۔ اس ان پڑہ دیہاتی کی یہ تعلیم شیرانی صاحب کے علم اور آگہی کی مہم کا ہی نتیجہ لگتی ہے۔

جب عورتوں اور بچیوں کے معاملات سے فرصت ملتی ہے تو پھر شیرانی صاحب کی توجہ احمدیوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ ابھی کچھ ہی مہینے پہلے سی آئی آئی کے اجلاس میں انہوں نے یہ ایجنڈا پوائنٹ زیربحث لانے کی کوشش کی کہ احمدی غیر مسلم ہیں یا مرتد۔ ہم سب جانتے ہیں کہ احمدیوں کے قتال کی پہلے ہی کافی کھلی چھٹی ہے پھر اگر سرکاری علماء یہ فیصلہ بھی دے دیتے کہ وہ مرتد ہیں تو پھر کتنے مزید لوگ انہیں قتل کر کے اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے اور جنت کے حق دار ٹھہرتے۔ اسی اجلاس میں مولانا طاہر اشرفی صاحب سے بھی ان کا اختلاف ہو گیا جو میڈیا اور مولانا اشرفی صاحب کے مطابق تو ہاتھاپائی تک پہنچا مگر شیرانی صاحب نے اس سے صاف انکار کیا ہے۔

شیرانی صاحب کو بھی اس بات کا علم ہے کہ ان کی تجاویز کی کوئی قانونی حیثیت نہ سہی مگر پراپگنڈہ ویلیو بہت ہے لہٰذا انہوں نے ابھی تک تعصب پھیلانے کی جو بھی کوششیں کی ہیں ان کا کافی اثر ہے اور اس سے معاشرے میں موجود تنگ نظری روز بروز بڑھی ہے۔

شیرانی صاحب کا ایک ہی وقت میں کتابیں پڑھنے کا شوقین ہونا  اور انسانوں کے درمیان انصاف، امن اور برابری کی روشنی کی بجائے تعصب اور تفریق کا اندھیرا پھیلانا کوئی اچمبھے کی بات نہیں ہے، ساری کتابیں عقل و دانش، برابری، امن اور ترقی نہیں سکھاتیں بلکہ کچھ کتابیں تنگ نظری، فرقہ پرستی اور انسانوں کے درمیان مختلف بنیادوں پر تفریق سکھانے کے لئے ہوتی ہیں اور ایسے ہی جذبوں کو تسکین پہنچاتی ہیں۔ شیرانی صاحب کی لائبریری میں موجود کتابوں کا بھی تجزیہ ہونے والا ہے بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب کا غیر جانب دارانہ تجزیہ ضروری ہے جس کی ایک جھلک زنیرہ ثاقب کے ماہرانہ قلم سے “مطالعہ پاکستان کی آخری کتاب۔۔ سچ کیا جھوٹ کیا” کی شکل میں، انہی صفحات پر ہم دیکھ رہے ہیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 63 posts and counting.See all posts by salim-malik