میں آریان کی بیوی تھی اور فیروز کی بھی


 

آئن اسٹائن نے کہا تھا:
“I want to know God‘s thought the rest are details“
میں تخلیق کار کی سوچ کو سمجھنا چاہتا ہوں، باقی تو صرف تفصیلات ہیں۔ شاید ساری زندگی آئن اسٹائن تخلیق کار کی سوچ کی گرہوں کو سلجھانے کی کوشش کرتا رہا۔ تخلیق کار کے گورکھ دھندے کو وہ کتنا سمجھا، مجھے نہیں پتہ مگر میں اس گورکھ دھندے میں کیسے اُلجھ کر سلجھی یا سلجھ کر اُلجھی، اس کا مجھے ابھی تک اندازہ نہیں ہے۔ میں کابل پولی ٹیکنک یونیورسٹی میں فزکس پڑھاتی تھی۔ یہ پولی ٹیکنک یونیورسٹی کابل یونیورسٹی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ پیدل بھی آیا جایا جاسکتا ہے۔ وہاں سے ہی میں نے فزکس میں ماسٹرز کیا جس کے بعد وہیں مجھے لیکچرر کی نوکری مل گئی تھی۔ ابوّ محکمہ تعلیم میں ملازم تھے اور امی اسکول میں پڑھاتی تھیں، ایک بھائی فوج میں پائلٹ تھا اور دوسرا بھائی ارجمند کابل یونیورسٹی میں فارسی اَدب پڑھاتا تھا۔

ارجمند نے تہران یونیورسٹی سے فارسی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور اسے پڑھنے پڑھانے کا جنون تھا۔ دُنیا بھر کے زبانوں کی شاعری کے ترجمے، ہر زبان میں لکھا جانے والا جدید کلاسیکی اَدب، دُنیا بھر میں ہونے والے مذاکروں، مناظروں کا فارسی میں ترجمہ، ایران سے ہوکر کابل بھی پہنچ جاتا۔ کابل یونیورسٹی صحیح معنوں میں ایک ادارہ تھا۔ میں نے وہاں آنکھ کھولی، وہاں مجھے زندگی کا احساس ہوا، اس کی خوبصورتی سے مسخر ہوئی، وہاں مجھ پر علم کے دروازے کھلے، وہاں کے کاریڈورز، باغات میں، میں نے ٹہل ٹہل کر بیٹھ بیٹھ کر اور بحث کر کرکے اپنے دماغ کو جِلادی۔ ہماری لائبریری، ہماری لیبارٹری میں وہ سب کچھ تھا جو ایک ماڈرن لیبارٹری میں ہونا چاہیے۔ میں اگر اپنی زندگی سے کابل یونیورسٹی کو نکال دوں تو کچھ بھی نہیں رہے گا مجھ میں۔ مٹی کا ایک ڈھیر، بے ہنر، بے عقل بے کار۔

یونیورسٹی میں ہی میری ملاقات آریان سے ہوئی، آریان ارجمند کا دوست تھا۔ ماسکو سے انگلش میں پی ایچ ڈی کرنے آیا اور یونیورسٹی میں ہی شعبہ انگریزی اَدب میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر تعینات ہواتھا۔ میری اس سے پہلی ملاقات ارجمند کے کمرے میں ہوئی، میں ارجمند کے کمرے میں بیٹھی اس کا انتظار کررہی تھی کہ وہ آگیا۔ سرخ و سفید چہرہ، گہری بھنویں، جو ایک دوسرے سے ملتے ملتے جیسے پیچھے ہوگئی تھیں۔ بھرے بھرے ہونٹ اور ان کے اوپر گہری سیاہ مونچھیں، سر پر گھنے بال جو سنوارے تو گئے تھے لیکن چند لَٹیں بے قراری کے ساتھ بار بار پیشانی پر آپڑتی تھیں۔ اس کا لانبا قد تھا اور اسے دُبلا ہی کہا جاسکتا تھا۔ اس نے نیلے رنگ کا کوٹ، نیلے رنگ کی قمیض اور خاکی رنگ کی پتلون پہنی ہوئی تھی۔ پیروں میں سیاہ جوتا مجھے ایسے لگا جیسے وہ موزے پہننا بھول گیا ہو۔ اس کی گردن میں نیلے رنگ کا ہی ایک مفلر تھا جو دونوں کاندھوں سے نیچے لٹک رہا تھا۔

میں نے اسے دیکھا اور دیکھنے کے ساتھ ہی میرے دل میں اس کے لیے ایک شدید قسم کی کشش پیدا ہوگئی تھی۔ وہ جاذب نظر تھا، مجھے آج تک پتہ نہیں لگ سکا کہ وہ خوبصورت تھا کہ نہیں، لیکن یہ مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ وہ خطرناک حد تک پُرکشش تھا۔ ایک خاص قسم کا مردانہ حُسن تھا اس میں۔ میں اسے دیکھتی رہی پھر گھبرا کر بولی، ”جی میں ارجمند کی بہن ہوں۔ انتظار کررہی ہوں اس کا۔ ‘‘

”اوہ! اچھا تو آپ فرشتے ہیں، فزکس پڑھاتی ہیں یہاں پر۔ ارجمند نے بتایا تھا مجھے۔ مجھے آریان کہتے ہیں میں انگلش پڑھاتا ہوں۔ ابھی آیا ہوں ماسکو سے۔ ‘‘اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔
بعض لوگوں سے بار بار نہیں ملنا پڑتا۔ پہلی ہی ملاقات میں ایسا لگتا ہے جیسے برسوں کی شناسائی ہو۔ اس دن بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ آیا، بیٹھا اور بات چیت شروع کردی تھی۔

”اچھا تو کیا خیال ہے آپ کا، سماج میں لٹریچر اور فلسفے کی زیادہ اہمیت ہے یا فزکس کیمسٹری کی۔ کن چیزوں کو زیادہ پڑھانا چاہیے، کن چیزوں کو کم پڑھانا چاہیے اور کن چیزوں کوبالکل نہیں پڑھانا چاہیے۔ ‘‘ اس نے جیسے گفتگو کا آغاز کردیا۔

”سماج میں علم کو اہمیت ہونی چاہیے، چاہے کوئی سا بھی علم ہو۔ علم تو سارے ہی اہم ہیں، سماج کی بہت ساری ضرورتیں ہیں اور علم اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہوتا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ فزکس کیمسٹری فارسی سے زیادہ اہم ہیں یا انگلش باٹنی زولوجی سے کم اہم ہے صحیح بات نہیں ہوگی۔ ‘‘ میں نے جواب میں کہا تھا۔

”کیا بات ہے فرشتے، کیا بات ہے، بُرا تو نہیں مانوگی اگر میں صرف فرش کہہ کر پکاروں۔ فرشتے تو بہت بڑا نام ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے بہت دور ہو تم۔ اور فرش تو جیسے بہت ہی قریب ہو۔ ‘‘ اس نے بڑی بے تکلّفی سے تکلّفات کے پردوں کو اُتار پھینکا۔ پھر کہنے لگا، ”بات تو تمہاری صحیح ہے، مگر کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جب تک سماج میں اَدب کی چاشنی نہ ہو، فلسفے کا کھوج نہ ہو، شاعری کی حساسیت نہ ہو، قانون کی گرفت نہ ہو اس وقت تک تو سماج سماج نہیں ہوتا ہے۔ ایک ہجوم ہوتا ہے لوگوں کا، ایک ریوڑ کی طرح ایسے ریوڑ کو فزکس، کیمسٹری، باٹنی زولوجی کیا دے سکتی ہے، کچھ بھی نہیں۔ کیا غلط کہہ رہا ہوں میں۔ ‘‘

”نہیں صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔ سماج بغیر اَدب و فن، فلسفہ و شاعری اور قانون و روایات کے ہوگا تو سماج نہیں ہوگا۔ سماج کی تو یہ بنیادی ضرورتیں ہیں۔ لیکن تاریخ میں ایسے بہت سارے سماج بنے، ٹوٹے بکھرے اور تحلیل ہوگئے۔ فلسفی نہ روحانی ضروریا ت پوری کرسکے اور نہ مادی ضروریات کا حصول کراسکے۔ مصر و یونان کی تہذیبیں، زرتشت کے ماننے والے، زمینی خداؤں کا زمانہ، گوتم بدھ اور کنفیوشس کے بنائے ہوئے اعلیٰ روایاتی اصول کبھی غربت و افلاس کھاگئے اور کبھی معمولی چوہوں کی پھیلائی ہوئی پلیگ کی نذر ہوگئے۔ اگر ان لوگوں کی فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، ریاضی، ماحولیات اور آسمانوں پر بھی نظر ہوتی تو آج کسی دوسری دنیا میں ہوتے ہم لوگ۔ انسان کے اندر کی دُنیا کو اگر فلسفوں کی ضرورت ہے تو انسان کے باہر کی کائنات کو بھی انسان کو سمجھنا ہوگا۔ ‘‘ میرا تو یہ خیال ہے کہ میں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کردیا تھا۔

دروازہ کھلا اور ارجمند کمرے میں داخل ہوا۔ ”اوہ! معاف کرنا دیر ہوگئی، میں ذرا وائس چانسلر کے پاس چلا گیا تھا، ‘‘اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر آریان کو مخاطب کرکے اس نے بتایا کہ حالات خراب ہورہے ہیں۔ روسی فوجی تو واپس چلے گئے ہیں مگر حکومتی کنٹرول آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے۔ بڑے مشکل حالات ہوتے جارہے ہیں، نہ جانے کیا بنے گا۔ خیر چلو کہیں کھانا کھاتے ہیں۔ چلوآریان تم بھی چلو۔

ہم لوگ یونیورسٹی کے ہی سادہ سے ریسٹوران میں کھانا کھانے چلے گئے تھے۔ بڑی دلچسپ باتیں ہوئی تھیں اس دن۔ روزمرّہ کی باتیں، انگریزی و فارسی اَدب کی باتیں، سیاسی و سماجی حالات کی باتیں، افغانستان کے بدلتے حالات کی باتیں، پاکستان میں رہنے والے مہاجرین اور مجاہدین کی باتیں۔ آریان نہ صرف یہ کہ خوبصورت آدمی تھا بلکہ خوبصورت ذہن و دماغ کا بھی مالک تھا۔ ذہین تھا، سمجھدار تھا اور بلا کا رومانی۔ اس دن کے بعد گئی رات تک وہ میرے دل میں بیلا کی پھولوں کی خوشبو کی طرح مہکتا رہا۔ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں ہے کہ میں اس کی محبت میں گرفتار ہوگئی تھی۔
اتنی شدید، تڑپ، چاہت، کسی کے لیے پہلے کبھی میرے دل میں نہیں ہوئی تھی۔ وہ ایک سائے کی طرح میرے وجود پر چھا گیا۔ میرے خیالوں میں، میری سانسوں میں، میرے دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں